روزے اور ہماری صحت (ڈاکٹر صدف اکبر)

ramzan2رمضان المبارک کے با بر کت مہینے کی آمد آمد ہے، جس میں ہم پر روزے فرض کئے گئے۔ رمضان کے روزے بہت سے صحت اور روحانی فوائد کے حامل ہوتے ہیں ۔ اور رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمیں بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس مہینے خوب ساری عبادات کریں ۔اپنے نفوس اور اجسام کو پاک ا ور صاف رکھیں اور پرہیز گارانہ طرز عمل اپنائیں ۔
ہمارا جسم ایک مشین کی مانند ہے جو خود کار انداز میں ہر وقت اپناکام سر انجام دیتا رہتا ہے لیکن اس مشین کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور رمضان کے مبارک مہینے میں کم کھانے پینے کے باعث ہمارا جسم آرام کرتا ہے ۔اس کے علاوہ مختلف ماہرین کے مطابق روزہ کولیسٹرول ، بلڈ پریشر ، موٹاپے اور معدہ و جگر کے مختلف امراض پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے ۔ہمارا دل جو کہ نیند اور حتیٰ کہ بے ہوشی کی حالت میں بھی اپنا کام سرانجام دیتا ہے اور مسلسل جسم کو خون فراہم کرتا ہے اور روزے کے دوران چونکہ خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے جس سے دل کو بھی آرام میسر آتا ہے ۔ دل کے دورے کے اسباب جن میں موٹاپا، مسلسل پریشانی ، چربی کی زیادتی، ذیا بیطس ، بلڈپریشراور سگریٹ نوشی شامل ہیں، کا خاتمہ کر کے دل کے دوروں سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ روزے کے دوران جب خون میں کم کھانے کی وجہ سے غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسمانی طورپر کمزور افراد روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں ۔روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام مل جاتا ہے۔ جبکہ دن بھر روزے کی حالت میں گزارنے کے بعد انسان کے جسم میں موجود زہریلا مواد اور دیگر فاسد مادے ختم ہو جاتے ہیں ۔ روزے کی حالت میں انسانی جسم میں موجود ایسے ہارمونز بھی حرکت میں آجاتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور روزے سے انسانی جلد مضبوط اور اس پر موجود جھریوں میں کمی آتی ہے ۔
اس کے علاوہ روزے کی حالت میں بلڈ پریشر کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ بلڈپریشر کو نارمل یا کم رکھنے کے لئے پانی چاہیئے ہوتا ہے اور روزے کی حالت میںجب جسم کو پانی فراہم نہیں ہوتا ہے تو بلڈ پریشر میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہونے لگتے ہیں جو بلڈ پریشر کے عمل کو بہتر بناتے ہیں ۔ لہذا بلڈپریشر کے مریضوں کو روزہ رکھنے کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر کنٹرول میں یا نارمل رہتا ہے ۔
سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں زہریلے مادے ختم ہو نے کا عمل شروع ہو جاتاہے اور جسمانی قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ روزے کی حالت میں مدافعتی نظام فعال ہو جاتا ہے اور پھر اس فعالیت کے نتیجے میں جسم کے اندر مدافعتی نظام بڑھ جاتا ہے اور پھر خون میں ایسے مدا فعتی خلیے پیدا ہوتے ہیں جوا نسان کو نہ صرف بیماریوں سے بچاتے ہیں بلکہ جسم میں موجود بیماریوں کو بھی دور کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روز ے رکھنے سے کینسر کی بھی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔یہ جسم میں کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روکتا ہے۔روزے کی حالت میں گلوکوز کم ہوتا ہے اور جسم توانائی حاصل کرنے کے لئے چربی کا استعمال کرتاہے۔جس کے نتیجے میں کیٹون باڈیز بھی پیدا ہوتی ہیںجو پروٹین کو چھوٹے ذرات میں تقسیم ہونے کے عمل کو روکتی ہے۔کینسر کے خلیوں کو اپنی نشوونما کے لئے چھوٹے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ روزے کی حالت میں یہ ذرات کم پیدا ہوتے ہیں، جس سے کینسر کی روک تھام ہوتی ہے ۔
رمضان المبارک میں سحر ی اور افطار میں متوازن طرز زندگی اور صحت مند غذائیں ضروری ہوتی ہیں ۔ سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے کمزوری نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمارے جسم میں ایک ایسا نظام یا میکانیت پایا جاتا ہے جو روزے کی حالت میں حرکت میں آجاتا ہے اور جسم کی اضافی چربی کو موثر انداز میں ختم کر دیتا ہے ۔
رمضان المبارک کے دوران سحری میں ایسی خوراک استعمال کرنی چاہیئے جن میں گڈ کولیسٹرول ، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس ضرور شامل ہوں ۔ سحری کا وقت ختم ہونے سے ایک آدھ گھنٹے پہلے کھانا پینا چھوڑ دیں ۔ سحری میں کھجور ضرور کھانا چاہیئے کیونکہ ان میں پوٹاشیم موجود ہوتی ہے جو جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے ۔ سحری میں پیٹ بڑھ کر کھانا ایک غلط طرز عمل ہے جس سے معدے کا نظام غیر محرک ہو جاتا ہے اور نظام ہضم کو نقصان پہنچتا ہے   لہذٰا بھاری اور ثقیل قسم کی غذاﺅ ں سے پرہیز کر تے ہوئے سحری کے دوران گندم کی روٹی ، دودھ اور انڈہ وغیرہ کا استعمال کرنا چاہئے جو دن بھر کے لئے پروٹین اور کاربو ہائیڈ ریٹس فراہم کرتے ہیں اور روزے کی حالت میں کو لیسٹرول لیول برقرار رکھنے کے لئے سرسوں یا ز یتون کے تیل میں سحری تیار کرنی چاہیئے ۔ اسی طرح سحری میں دہی اور پھلوں کا استعمال بھی دن بھر تھکاوٹ اور نقاہت سے محفوظ رکھتا ہے ۔ سحری کے لئے بیدار ہونے کے فوری بعد پانی لازمی پینا چاہیے جبکہ حتیٰ الامکان طور پر کیفین سے پرہیز کرنا چاہیے۔
سحری کے وقت ڈیری سے بنی چیزیں استعمال کرنے سے پیاس نہیں لگتی ہے اور جسم میں توانائی برقرار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ فائبر یعنی ریشہ دار غذائیں نہ صرف معدے پر ہلکی ہوتی ہیں جبکہ ہضم بھی دیر سے ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ سحری کے وقت ایک مناسب مقدار میں خشک میوہ جات مثلا بادام ، اخروٹ ، کاجو ، پستہ اور انجیر وغیرہ بھی جسم میں دن بھر توانائی فراہم کرتے ہیں ۔
سحری میں تلی ہوئی اور زیادہ مرچ مصالحوں والے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ان سے معدہ بھاری ہو جاتا ہے اور پھر دن بھر بیزاری اور اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے ۔ سحری کے وقت چاول سے بنے کھانوں کے ساتھ ساتھ نہاری، سری پائے، بینگن اور گوبھی وغیرہ سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔کیونکہ ان کے استعمال سے بد ہضمی کی شکایت ہو سکتی ہے۔
سحری لازمی کرنا چاہیے کیونکہ سحری میں کچھ کھائے پیئے بغیر روزہ رکھ لینے سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور چونکہ موسم گرما میں روزے کا دورانیہ طویل ہوتا ہے تو سحری میں دودھ یا لسی بھی ضرور پینا چاہئے جس سے روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی ہے ۔
افطاری کے وقت روزے دار کو اپنی دن بھر کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنا ہوتا ہے ۔دن بھر خالی پیٹ رہنے کی وجہ سے افطاری کے وقت سب سے پہلے شوگر لیول کو بحال کرنے کے لئے کھجور کھانی چاہیے ۔
کھجور انسانی جسم میں داخل ہوکر گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں قدرتی شکر پیدا کرتی ہے جو فوراََ جزوبدن بن کر روزے کی حالت میں خرچ ہونے والی کیلیوریز کی کمی کو پورا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نمک سے روزہ افطار کرنا بھی سنت ہے کیونکہ اس سے جسم میں نمکیات کی کمی پوری ہوتی ہے ۔ کھجور اور نمک کے علاوہ بادام اور کیلا بھی جسم میں کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
افطاری کے وقت زود ہضم غذائیں استعمال کرنی چاہیے ۔ نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر اور دل کی شریانوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے ۔ افطار کے فوراََ بعد بہت زیادہ مشروبات کا زیادہ استعمال بھی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ افطار کے فوری بعد دودھ سوڈا بھی نہیں پینا چاہیئے کیونکہ کاربونیڈ ڈرنکس کا استعمال جسم سے کیلشم کو خارج کرتا ہے اور کیلشم کی کمی سے ہڈیوں کمزور ہو جاتی ہیں ۔ خصوصی طور پر جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو دودھ سوڈا پینے سے گریز کرنا چاہیے ۔
افطاری کے وقت کوشش کرنی چاہیئے کہ دودھ ، دہی ،لسی ، کھیر اور دودھ سے بنی دیگر اشیاءبھی کھانا چاہیے تاکہ جسم میں کیلشم اور پروٹین کی کمی کو پورا کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ کچی سبزیوں کا سلاد بھی جسم میں فائیبر ز ، وٹامنز اور آئرن کی کمی کو پورا کرتا ہے ۔ افطاری کے وقت چاول سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ پیا س کا باعث بنتے ہیں ۔
افطاری کے بعد سونے سے پہلے کم از کم چھ گلاس پانی ضرور پینا چاہیے ۔روزے کے دوران جب ہم اپنے آخری کھانے کے بعد تقریباََ 8گھنٹوں تک کچھ نہیں کھاتے پیتے ہیں تو ہمارا جسم خون کے اندر موجود گلوکوز کی مطلوبہ سطح برقرار رکھنے کے لئے توانائی کے ذخائر کا استعمال شروع کردیتا ہے ۔ زیادہ تر افراد کے لئے یہ نقصان دہ نہیں ہوتا مگر ذیابیطیس سے متاثرہ افراد کا جسم گلوکوز کا استعمال کرنے سے بھی قاصر ہوتا ہے ۔ خاص طور پر ذیابیطیس کی صورت میں اگر مریض ادویات یا انسولین استعمال کرتے ہیں تو وہ ہائپوگلائی سیمیا یا ہائپو یعنی خون کے اندر گلوکوز کی کم سطح کے خطرہ سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ اس سال چونکہ روزے گرمی میں ہیں تو اس لئے ہائپو گلائی سیمیا اور ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ زیادہ ہے ۔
ذیابیطیس یا شوگر ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں مریض کے خون میں گلوکوز کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب لبلبہ جسے پنکریاز بھی کہتے ہیں یا تو انسولین بالکل بھی نہیں بناتا ہے یا پھر اتنی مقدار میں نہیں بناتا کہ گلوکوز کو مریض کے جسم کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دے سکے یا وہ جو انسولین بناتا ہے وہ درست طریقے سے اپنا کام سرانجام نہیں دے پاتے ہیں ۔ انسولین وہ ہارمون ہے جس کو لبلبہ بناتاہے ۔یہ گلوکوز کو جسم کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دیتی ہے اور جسم میں گلوکوز ایندھن کا کام سرانجام دیتا ہے۔ جس کی توانائی سے ہم اپنے روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں ۔گلوکوز کاربو ہائیڈریٹ ہضم کرنے سے آتا ہے اور اس کو جگر بھی بناتا ہے ۔ ذیابطیس یا شوگر کے مریضوں میںجسم اس ایندھن کا مناسب استعمال نہیں کر سکتا لہذا یہ خون میں جمع ہوتا رہتا ہے جو خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔
ٹائپ ون ذیابطیس میں جسم انسولین کی کوئی مقدار بنانے کے قابل نہیں ہوتا ہے ۔ہم جو کچھ کھاتے پیتے ہیں اس میںموجود گلوکوز کو حاصل کرنے کے لئے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ٹائپ ٹو ذیابطیس اس وقت ہوتی ہے جب جسم کافی مقدار میں انسولین نہیں بنا سکتا یا جب بننے والی انسولین درست طریقے سے اپنا کام نہیں کر رہی ہوتی ہے ۔اس میں مریض کا خاندانی پس منظر ، عمر اور نسلی پیش نظر، ٹائپ ٹو ذیابطیس کے ہونے کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے اور زیادہ وزن کے حامل افراد میں بھی اس کے ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
اور جب روزوں کے دن لمبے ہوں اور ہائپو گلائی سیمیا اور ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) کے خطرے زیادہ ہوتے ہیں اور ہائپو گلائسیمیا ، گلوکوز کی سطح کا بڑھ جانا اور ڈی ہائیڈریشن ذیابیطس کے حامل لوگوں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔
رمضان کے روزے میں بہت دیر تک پانی کے بغیر رہنا ہوتا ہے اور وہ افراد جو ذیابطیس کے مریض ہو ، جن میں خون میں گلوکوز کی مقدار بلند سطح پر ہو ، عمر رسیدہ افراد اور حاملہ افراد وغیرہ ڈی ہائیڈریشن کے خطرات سے زیادہ دو چار ہوتے ہیں ۔ اس بات کو یقینی بنا نا چاہیئے کہ روزے کے آغاز سے قبل ،افطار اور سحری کے درمیان زیادہ مقدارمیں بغیر شوگر مائع یعنی پانی کا استعمال کرنا چاہیئے ۔ چائے ، کافی اور مختلف کولا وغیرہ میں کیفین شامل ہوتی ہے جوکہ پیشاب آور ہوتی ہے اور جسم سے پانی کو بطور پیشاب ضائع کر دیتی ہے ۔
ذیابطیس کے حامل افراد کو سحری کے اوقات میں فروٹ اور سبزیوں کے ساتھ نشاستہ دار کاربو ہائیڈیٹس استعمال کرنے چاہیئے جوکہ توانائی کو دیر سے خارج کرتے ہیں ۔ اس میں بریڈ، چپاتیاں ، چاول، سوجی اور سیریل وغیرہ شامل ہیں ۔ اس خوراک سے مریض کو اپنے خون کے اندر گلوکوز کی سطح مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے اور معقول انداز سے کھانا چاہیئے ۔ ضرورت سے زیادہ نہ کھائیں اور بہت زیادہ پانی پینا چاہیئے ۔ رمضان کے اوقات میں افطار میں بھی مناسب اور صحت مندانہ انداز میں کھانا چاہیئے۔ ضرورت سے زیادہ اور غلط قسم کی خوراک زیادہ مقدار میں کھانے سے نہ صرف وزن بڑھ جاتا ہے بلکہ یہ خون میں گلوکوز کے غیر متوازن اور بہت زیادہ اضافے کا سبب بھی بنتا ہے ۔
ذیابطیس کے مریض جب روزے رکھ رہے ہوں تو ان کو چاہیئے کہ سحری کے وقت لازمی کھانا کھانا چاہیئے ۔کیونکہ یہ روزے کے دوران ان کے گلوکوز کی سطح کو زیادہ متوازن ر کھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ ذیابطیس کے حامل افراد کو روزے رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا چاہیئے کیونکہ یہ ان کے لئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے اور ان کی صحت کے لئے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ذیابطیس کے مریضوں کو رمضان کے دنوں میں بلڈ گلوکوز کی سطح کو باقاعدگی سے چیک اپ کرواتے رہنا چاہیئے کیونکہ اس طریقے سے روزے رکھنے کے دوران مختلف بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں کمزوری نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمارے جسم میں ایک ایسا نظام یامیکنیزم پایا جاتا ہے جو روزے کی حالت میں حرکت میں آجاتا ہے اور جسم کی اضافی چربی کو موثر انداز میں ختم کر دیتا ہے ۔ چینی اور چربی سے بنائی جانے والی اشیاءسے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ انسانی میٹابولیزم پر منفی اثرات ڈالنے کے ساتھ ساتھ سر میں درد اور تھکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔
ً رمضان میں روزمرہ کے شیڈول میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سے رمضان میں نیند کے دورانئے میں بھی کمی آجاتی ہے جو کہ صحت کے لئے ایک نقصان د ہ عمل ہے۔ کوشش کرنی چاہیئے کہ رو زے کے دنوں میں چوبیس گھنٹوں میں سے کم از کم آٹھ گھنٹے تک کی نیند لازمی لینی چاہیئے ۔ اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق رمضان میں ہلکی پھلکی ورزش لازمی کرنی چاہیئے یا پھر رمضان کے دنوں میں پیدل چلنے کو معمول بنا لینا چاہیے ۔
رمضان انسان کے نفس کے خلاف لڑنے اور اللہ کی رضا کے لئے اپنی خواہشوں کے آگے بے بس ہونے کے بجائے اللہ کی رضا کو فوقیت دینے کی ہماری تربیت کرتا ہے ۔ اس سال بھی اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو رمضان کی رحمتوں ، برکتوں اور نعمتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطافرمائے ۔اور اس رمضان المبارک کے صدقے ہماری روحوں اور جسم کو ہر بیماری سے پاک کرے (آمین ) ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top