Friday, October 23, 2020
Home اسلام ماحول اوراسلامی تعلیمات (مولانا محمد اسرار)

ماحول اوراسلامی تعلیمات (مولانا محمد اسرار)

fresh-fruits-and-vegetables1اسلام ماحول کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ ظلم اور فضول خرچی سے منع کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور تم زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو“۔ اسی طرح توازن سے بے پروا ہوکر ماحول کے استعمال میں سرکشی سے منع کرتا ہے اور ہر ایسے فساد سے جو حیوانات اور نباتات کی تباہی کا موجب ہو، اسلام اس سے سختی سے روکتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور تم زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو۔اور جب وہ پلٹتا ہے تو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے کھیتوں اور نسل کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو فساد پسند نہیں ہے۔(سورة البقرہ )
دوسری طرف اسلام ماحول کی اصلاح اور ترقی میں مفید ہر کام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ شجرکاری سے ماحول صاف ستھرا رہتا ہے۔ حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”مسلمان جب بھی کوئی پودا لگاتا ہے یا کھیتی کو بوتا ہے اور پھر اس میں سے کوئی انسان یا جانور یا کوئی اور چیز کھائے تو اسے ضرور اجر ملتا ہے“۔ (مسند شافعی‘ صحیح ابن حبان )
اسلام ہر اس چیز سے جو کسی بھی شکل میں ماحول کو آلودہ کرے، اسے منع کرتا ہے اور اسے صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: لعنت کی تین باتوں سے بچو۔ پانی پینے کے مقامات، راستے کے درمیان اور سایہ میں پاخانہ کرنے سے بچو۔ (ابوداﺅد)
اسی طرح ارشاد نبوی ہے: ”راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا نیکی ہے“۔ (ابوداﺅد) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں ان کا آخری درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹادینا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے سب عمل پیش کیے گئے تو میں نے اس کے جو اچھے عمل دیکھے ان میں راستے سے دور کی جانے والی ایذا رساں چیز تھی، اور اس کے برے کاموں میں تھوکا ہوا بلغم تھا جو مسجد میں پڑا رہتا ہے، اسے دفن نہیں کیا جاتا“۔ (مسلم)
اسی طرح اسلام انسان کو مناسب تفریح اور حسب ضرورت آرام کرنے کی ترغیب دیتا ہے کیوں کہ یہ دوبارہ کام کرنے اور صحت کی حفاظت میں معاون ہوتے ہیں۔
SartanPhepraاسلام کی نظر میں صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جو اس نے اپنی بندوں کو عطا کی ہے، بلکہ یہ ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت ہے، اس لیے ایک طرف تو اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے تو دوسری طرف اس کا تحفظ بھی کرنا چاہیے؛ کیوں کہ صحت اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ رسول اللہ فرماتے ہیں ”قیامت کے روز، محاسبہ کے وقت، سب سے پہلے بندہ سے یہ کہا جائے گا کہ کیا میں تجھے جسمانی صحت نہیں دی تھی؟ اور تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا؟ (ترمذی ) دوسری جگہ ارشاد ہے ”قیامت کے روز چار باتوں کا پوچھے بغیر کسی انسان کے قدم نہیں ہلیں گے۔ اس کی عمر کے بارے میںکہ اس سے اس نے کس کام میں کھپایا؟ اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر اس نے کیا عمل کیا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اس سے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اس سے اس نے کس کام میں صرف کیا“؟ (ترمذی ابن حبان)
اس لیے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس نعمت کی حفاظت کرے اور اس کا غلط استعمال کرکے اسے تبدیل کرنے یا بگاڑنے سے پرہیز کرے۔ اس نعمت کی حفاظت کی صورت یہ ہے کہ اس کی پوری نگاہ داشت کی جائے اور اس کے بقا اور بہتری کے لیے ہر ضروری کوشش کی جائے۔ مسلمان کو ہر وہ عمل ضرور انجام دینا چاہیے جو ماہر اطبا کے فیصلے کے مطابق صحت کے بچاﺅ اور فروغ کے لیے مفید ہو۔
ویسے تو صحت مند معاشرہ قائم کرنے کےلئے ہر شعبہ کے افراد کو اپنی ذمہ داریاں انجام دینی چاہیے مگر بعض افراد کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر ہوتی ہے کہ وہ عوام میں شعور پیدا کریں اور انہیں حفظانِ صحت کے اصولوں سے آگاہ کریں جیسے ڈاکٹر، حکیم ،علماءکرام، خطبااور ائمہ¿ مساجد وغیرہم۔
اسی طرح بچے جو مستقبل کے معمار ہوتے ہیں انکی صحت ‘ ماحول اور غذا کا خیال رکھنا چاہیے ورنہ بچے بیمار پڑ جائیں گے اور صحت کی جو نعمت ہے اسے گنوادیں گے۔مذکورہ مضمون سے واضح طورپر معلوم ہوا کہ ماحول کی صفائی ستھرائی اور پاکیزگی ہی بیماریوں سے بچا کے اسباب میں سے انتہائی اہم سبب ہے۔ اس لئے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہم ماحولیاتی آلودگی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ جوکہ آئے روز نت نئے وبائی امراض وائرس کا سبب بنتے ہیں۔گندہ ماحول اور غلاظت کی وجہ سے ڈھیر سارے جراثیم خودبخود پیدا ہوتے ہیں جبکہ دیگر جراثیم مثلاً ملیریا،ٹی بی، کالی کھانسی، تشنج،خناق، یرقان او رپولیو جیسے خطرناک وائرس کی نشوونما ،انتقال اوراثر انگیزی میں ماحولیاتی آلودگی کا بڑا عمل دخل ہے۔ لہٰذا جہاں کہیں ہمیں بیماریوں سے نجات کے لئے علاج معالجے خصوصاً بچوں کے وبائی امراض کے لئے حفاظتی ٹیکوں اور پولیو ویکسین کی ضرورت ہے،وہاں صفائی ستھرائی کا بہترین انتظام ہونا چاہیے۔ جب تک صفائی اور بلدیہ کا سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا ہم مستقل طور پر درجنوں بیماریوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

اٹارنی جنرل کا جزائر کیس کے پر بیان

اٹارنی جنرل کا سندھ اور وفاق کے درمیان جاری جزائرتنازے پر بیان دیا

کیپٹن صفدر کی گرفتاری, بلاول بھٹو نے مریم نوازسے اپنی والدہ کا بدلہ لیا

کراچی: وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے لگتا ہے بلاول بھٹو...

پی آئی اے طیارہ حادثہ، متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کا سلسلہ آج سے شروع ہوگا

کراچی: پی آئی اے طیارہ حادثے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کا سلسلہ آج سے شروع ہوگا، پہلے مرحلے میں پانچ...

12 ربیع الاول کو چھٹی کا اعلان

کراچی:سندھ حکومت نے 12 ربیع الاول کی عام تعطیل کا اعلان کردیا، ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری...