Friday, November 27, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ملازمت سے برطرفی، اسٹیل مل کے ملازم کو دل کا دورہ

ملازمت سے برطرفی کا سن کر اسٹیل مل کے ملازم کو دل کا دورپڑگیا، حبیب الرحمن کو اس...

سندھ بار کونسل انتخابات، وکلا کا احتجاج رنگ لے آیا

وکلا کا احتجاج رنگ لے آیا، سندھ بارکونسل کےانتخابات ملتوی کرنے کا نوٹی فکیشن واپس. ایڈووکیٹ جنرل...

لاک ڈاؤن ، سندھ حکومت کا نیا نوٹیفکیشن جاری

کورونا لاک ڈاؤن کے حوالے سے سندھ حکومت نے نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے. نوٹیفکیشن میں کاروباری...

اسٹیل ملز کے برطرف ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں، سعید غنی

صوبائی وزیرمحنت و تعلیم سعید غنی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل مل سے 4500 سے...

تاریخ بتاتی ہے، میرا کراچی (احمد بن جعفر)

542402ea996f5

بزرگ جانتے ہیں کہ موجودہ نام کراچی سے پہلے کراچی کو مکران (بلوچستان) کے علاقے کولانچ کی ایک بلوچ مائی جو کولانچ سے ھجرت کر کے یہاں آباد ہوی تھی کی نسبت سے مائی کولاچی کے نام سے جانا جاتا تھا جس کی تمام تر آبادی بلوچ تھی وہ الگ بات ہے کہ کولاچی بعد میں انگریزوں کے دور میں بگڑ کر کراچی ہو گیا 1772 ئکو کراچی کو مسقط اور بحرین کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے بندرگاہ منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے یہ گاو¿ں تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ یوں مائی کولاچی میں بلوچوں کے علاوہ ہمسایہ علاقوں کی کمیونٹی بھی بڑی تعداد میں بس گئی بڑھتے ہوئے شہر کی حفاظت کے لیے شہر کی گرد فصیل بنائی گئی اور مسقط سے توپیں درآمد کرکے شہر کی فصیل پر نصب کی گئیں۔ فصیل میں 2 در تھے (بلوچی میں در گیٹ کو کہتے ہیں) ایک در (گیٹ) کا رخ سمندر کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں کھارادر (سندھی میں کھارودر) کہا جاتا اور دوسرے در (گیٹ) کا رخ لیاری ندی کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں میٹھادر (سندھی میں مٹھودر) کہا جاتا تھا۔
1795ءتک کراچی (کولاچی) خان قلات کی مملکت کا حصہ رہا اور اس سال سندھ کے حکمرانوں اور خان قلات کے درمیان میں جنگ چھڑ گئی اور کراچی پر سندھ کی حکومت کا قبضہ ہو گیا۔ اس کے بعد شہر کی بندرگاہ کی کامیابی اور زیادہ بڑے ملک کی تجارت کا مرکز بن جانے کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں مستقل ازافہ ہوتا رہا۔ اس ترقی نے جہاں ایک طرف کئی لوگوں کو کراچی کی طرف کھینچا وہاں انگریزوں کا مرال بھی اس شہر کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا۔اس کا اظہارکرتے ہوئے انگریزوں نے 3 فروری 1839ءکو کراچی شہر پر حملہ کرکے اس پر قابض ہو ئے اور صرف یہی نہیں بلکہ تین سال کے بعد شہر کو برطانوی ہندوستان کے ساتھ ملحق کرکے ایک ضلع کی حیثیت بھی دے دی گئی۔ اور یہ بات واضع ہے کہ انگریزوں نے کراچی کی قدرتی بندرگاہ کو دریائے سندھ کی وادی کا اہم تجارتی مرکز بنانے کے لیے شہر کی ترقی پر اہم نظر رکھی۔
برطانوی راج کے دوران میں کراچی کی آبادی اور بندرگاہ دونوں ہی بہت تیزی سے بڑہیں۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے دو ران کراچی میں 21 ویں نیٹِو انفنٹری نے 10 ستمبر کو مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر سے بیعت کر لی۔ انگریزوں نے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور ”بغاوت” کا سر کچل دیا۔
1876ءمیں کراچی میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت تک کراچی کسی حد تک ترقی یافتہ شہر کی صورت اختیار کر چکا تھا جس کا انحصار شہر کے ریلوے اسٹیشن اور بندرگاہ پر تھا اس دور کی اکثر عمارتوں کا فن تعمیر کلاسیکی برطانوی نوآبادیاتی تھا، جو بر صغیر کے اکثر شہروں سے مختلف ہے۔ ان میں سے اکثر عمارتیں اب بھی موجود ہیں اور سیاحت کا مرکز بنتی ہیں۔ اس ہی دور میں کراچی ادبی، تعلیمی اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز بھی بنتا نظر آرہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ ایک بڑی بندرگاہ کے گرد ایک تجارتی مرکز بنتا گیااور 1880 کی دہائی میں ریل کی پٹڑی کے ذریعے کراچی کو باقی ہندوستان سے جوڑا گیا۔ایک سروے کے مطابق 1881 میں کراچی کی آبادی 73،500 تک، 1891 میں 105،199 اور 1901 میں 115،407 تک بڑھ گئی۔ 1899 میں کراچی مشرقی دنیا کا سب سے بڑا گندم کی درآمد کا مرکز بن گیا۔ جب 1911 میں برطانوی ہندوستان کا دارالحکومت دہلی بنا تو کراچی سے گزرنے والے مسافروں کی تعداد بڑھ گئی۔
کراچی دنیا کے19 بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے اس کی آبادی تقریبا 2کڑور ہے لیکن اس کے مسائل شاید اس سے بھی زیادہ ہونگے۔ پچھلے 30سالوں سے اس شہر میں کھبی لسانیت اور کھبی فرقہ واریت پر سیاست کی جاتی ہے۔لیکن عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی بڑا قدام نہ کیا گیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کراچی میں لسانی جماعتوں کو کام کرنے اور بات کرنے کا موقع مل گیا۔1936 میں جب سندھ کو صوبہ کی حیثیت دی گئی تو کراچی کو اس کا دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ 1947ءمیں کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ اس وقت شہر کی آبادی صرف چار لاکھ تھی۔ اپنی نئی حیثیت کی وجہ سے شہر کی آبادی میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا اور شہر خطے کا ایک مرکز بن گیا۔ پاکستان کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل تو ہوا لیکن کراچی اب بھی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔ اور اسی وجہ سے کراچی کو پاکستان کی شہ رگ کہنا غلط نہیں ہو گا کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی میں بندرگاہیں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان بنے کے بعد کراچی ہی واحد پورٹ تھی اور پاکستان کے دنیا سمندری راستوں کے ذریعے رابطہ بھی اسی شہر کی بندرگاہ کے ذریعے ہی ہوسکتا تھا۔ہندوستان کو دولخت کر کے جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو پاکستان کے دشمن اس کے خلاف سازشیں کرنے میں لگے رہتے تھے اور اس کی زدمیں کراچی کا شہر بھی شروع ہی سے رہا اس کی وجہ ہمیشہ سیاسی ہی رہی پاکستان میں کھبی کسی نے کوئی سیاسی حوالے سے پزیرائی حاصل کرنا ہوتی تھی وہ کراچی کو ہی اس کو محور بناتے تھے جیسا کہ اگر تاریخ میں ہم دیکھے تو فاطمہ جناح نے جب ایوب خان کے خلاف سیاسی مہم کا آغاز بھی کراچی سے ہی کیا جو بعد میں مغربی اورمشرقی پاکستان تک پھیلا دیا گیا۔اس کے علاوہ 71 کے بعد پاکستان میں بھٹو حکومت کے خلاف سات ستاروں کے نام تحریک کا آغاز کیا گیا جس کا آغاز بھی کراچی سے ہوا جو بعد میں پورے ملک میں ایک منظم طریقے سے چلائی گئی۔کراچی کو پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھے تعلیمی اداریں موجود تھے اور یہاں کا لٹریسی ریٹ بھی پورے ملک کی با نسبت بہت بہتر تھا۔لیکن پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کو 1971 میں دولخت کرنے کے بعد پاکستان کے شہر کراچی کو ٹارگٹ کیا اور شہر میں لسانیت کو کھڑا کرنے کے لیے کھبی علی گڑھ کا واقعہ ہوا تو کھبی کسی سیاسی جماعت کے کارکنان کی حیدرآباد سے واپسی پر ان کو سہراب گوٹھ پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔کراچی کسی زمانے میں مذہبی تنظیموں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن لسانیت کے شوشے کو کراچی میں کھڑا کر کے اس شہر کو مذہبی سیاست دانوں کے لیے ایک خواب بنادیا۔اس میں کچھ غلطی ہمارے مذہبی رہنماو?ں کی بھی تھی تو کچھ ہمارے حکمرانوں کی بھی کیونکہ انہوں نے کراچی میں ہونے والے واقعات پر ایکشن لینے کے بجائے اس کو رفع دفع کرنا شروع کیا جس کا فائدہ دشمن نے اٹھایا اورپھر صرف کراچی ہی نہیں پورے پاکستان میں لسانیت کے نام پر تنظیموں کو شہ بھی ملنا شروع ہوئی اور ان کے چاہنے والے بھی بڑھنا شروع ہو گئے۔
کراچی میں ایک وقت تھا جب جمعیت علما پاکستان نوارانی گروپ کا ایک ووٹ بینک موجود تھا لیکن ان کا ووٹ بینک بھی لسانیت کی نظر ہوتا نظر آتا ہے ۔اسی طرح افغانستان جنگ کی آغاز کے بعد جب مسلم دنیا میں جہاد کے لیے نوجوانوں نے افغانستان کا رخ کیا تو پاکستان ہی واحد راستہ تھا جو مسلم نوجوانوں کو افغانستان لے جا سکتا تھا ۔اسی دور میں جماعت اسلامی نے کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کے نوجوانوں کی لیے پسندیدہ جماعت کی حثیت لی لیکن وہ بھی اس کو لسانیت کے آگے نہ سنبھال سکیں اور ان کی شہرت بھی لسانیت کے آگے ڈھیڑ ہو گئی۔کراچی 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں تشدد، سیاسی اور سماجی ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کا شکار بنتا رہا لیکن اب ایک مرتبہ پھر کراچی میں امن کا ماحول بنا ہے اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت نہیں ہے بلکہ پاکستان فوج کا کیا جانے والا ضرب عضب آپریشن ہے نظر آتا ہے جس نے ملک بھر میں لسانیت اور فرقہ واریت کے نام پر بنے والی جماعتوں کا قلع قمع کیا بلکہ اہم بات یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کے نام پر لوگوں کو اکھٹا بھی کیا جو کہ بنیا دی حق ہے پاکستان کا ۔موجودہ دہائی میں کراچی میں امن عامہ کی صورتحال کافی بہتر ہوتی نظر آئی ہے اور اس کی وجہ سے شہر میں ترقی کا عروج بھی نظر آتا رہااور اب ہم یہ کہے سکتے ہے کہ کراچی میں کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعتوں کو اگر کام کرنا ہے تو نظریہ پاکستان ہی وہ بنیاد ہو گی جس پر وہ کراچی کا ووٹ بینک حاصل کرسکتا ہے۔

Open chat