Tuesday, November 24, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

زائد فیسیں لینے والے اسکولوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے تمام اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ...

محکمہ داخلہ سندہ نے نیا حکم نامہ جاری کردیا

سندہ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر، محکمہ داخلہ سندہ نے نیا حکم نامہ...

گھر کی دیوار گرنے سے ایک شخص ہلاک

کورنگی میں پی این ٹی کالونی کے قریب زیر تعمیر گھر کی دیوار گر گئی، گھر کی دیوار...

خداداد کالونی ،گودام کی بالائی منزل پر آتشزدگی

خداداد کالونی میں گودام کی بالائی منزل میں آگ لگ گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں روانہ، ریسکیو ذرائع...

بے قاعدہ و بے ضابطہ ذریعہ تشہیر (عبدالولی خان)

کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں آلودگی کا ہونا لازمی امر ہے، لیکن اس کو اسی حال میں چھوڑ پر یہاں بسنے والے ڈھائی کروڑ افراد کی صحت داؤ پر نہیں لگائی جا سکتی، یہ یقینی طور پر بالکل درست ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا اس انداز میں خیال نہیں رکھا جاتا جیسا اس کا حق ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں اور کبھی کبھی ادارہ تحفظ ماحولیات کو خیال آجاتا ہے اور ماحول کی بہتری کے حوالے سے کوئی نہ کوئی قد م اٹھا لیا جاتاہے، کبھی کسی کی جانب سے شجر کاری کے نام پر کچھ پودے لگا دیئے جاتے ہیں بعض اوقات کچھ کمپنیاں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی CSR7 کے بجٹ سے ساحل سمندر کی صفائی کر دی یا آگاہی کے کسی سیشن کے انعقاد کا انتظام کردیا۔اگر کسی کی توجہ نہیں ہے تو شہر میں مسلسل بڑھتی ’اشتہاری آلودگی‘ کی طرف نہیں ہے۔ دن بدن شہر کی مشہور کیا غیر معروف سڑکوں پر بھی ہورڈنگز بارش کے بعد اگنے والے خود رو پودوں کی بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ہورڈنگز کے لئے قانون تو موجود ہے لیکن اس پرعملدرآمد کہیں ہوتا دکھائی نہیں دیتا، جس کا جہاں جی چاہتا ہے ہوڈرنگ نصب کر دیتا ہے اور کمائی شروع۔ بے جا اشتہاری ہورڈنگز نے اشتہار کا مقصد ہی فوت کر دیا ہے۔ شہر میں جس سڑک پرنکل جائیں بے ہنگم دیو ہیکل ہورڈنگز نے عجیب سا منظر بنا دیا ہے، ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا، اس پر بھی بس نہیں یہ سلسلہ تو چلتا رہتاہے۔سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی منظر کو یاد داشت کا حصہ بنانے کے لئے مخصوص وقت درکار ہوتا لیکن کراچی میں شاید ہی کوئی ایساہورڈنگ ہو جو دیکھنے والے کو یاد رہ سکے، یکے بعد دیگرے ہورڈنگز کی بھرمار نے ایک جانب شہر کا حسن گہنا دیا ہے تو دوسری جانب شہریوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کردیا ہے اور ان کی زندگیاں خطرے سے دوچار کر دی ہیں، کہیں یہ ہورڈنگز اس انداز میں نصب ہیں کہ سڑک پار کرنا مسئلہ، کسی کی اونچائی اس قدر کم ہے کہ فوٹ پاتھ پر چلتے بندے کا سر اس سے ٹکرا کر زخمی ہو جائے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فٹ پاتھ پر لگے ہورڈنگز نے راہگیروں کو سڑک پر چلنے پر مجبور کردیا ہے۔
کے ایم سی قوانین کے مطابق
karachi updates Hordings 00110×207 کے دو ہورڈنگز کے درمیان کم از کم فاصلہ 27 سو گز ہونا چاہیے اور اگر اسکرین کاسائز 15×45ہے تو یہ فاصلہ بڑھ کر دو گنا یعنی 47 سو گز ہو جائے گا، اس کے برعکس اگر شہر میں موجود ہورڈنگز پر نظر ڈالی جائے تو جابجا گز تو دور کی بات چند فٹ کے فاصلے پر کئی کئی ہورڈنگز ایک ساتھ نصب ہیں۔ شہر کے متعدد مقامات پر 15×457 کے ایک ہورڈنگز سے چند قدم کے فاصلے پر 10×20کا ہورڈنگ لگا دیا گیا، بلکہ چند مقامات پر ایک ہی سائٹ پر 27 مختلف سائز کے ہورڈنگز نصب دکھائی دیتے ہیں۔
شہر میں کئی مقامات پر ہورڈنگز اس انداز میں لگائے گئے ہیں کہ سڑک پر گاڑیاں چلانے والوں کو سگنل دیکھنے میں پریشانی ہوتی ہے، حیرت تو اس امر ہے کہ کسی بھی اشتہاری سائٹ کی منظوری کے لئے بلدیہ کے متعلقہ محکمے کے افسر کا وزٹ لازم ہے اور اس کی اجازت کے بعد ہی اشتہاری سائٹ تیار کرنے کی اجازت ملتی ہے، ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کسی بھی سائٹ کی منظوری کے لئے اصل کے ساتھ کم سے کم چار سے پانچ گنا رشوت لازم ہے، جس کی وجہ سے با آسانی کسی بھی مقام کو اشتہاری سائٹ بنایا جا سکتا ہے۔ اشتہاری شعبے کو انتہائی منافع بخش تصور کرتے ہوئے کے ایم سی ملازمین کی بڑی تعداد اس کام میں شریک ہو گئی ہے، اس سلسلے میں انہوں نے مارکیٹ میں کام کرنے والوں کو اپنا فرنٹ مین بنا کر سائٹ منظور کرائی اور کام شروع کردیا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر میں پچپن سے ساٹھ فی صد ہورڈنگز سائٹس انہی ملازمین کی ہیں۔
karachi updates Hordings 006عدالتی احکامات کے باوجود شہر بھر میں اکثر ہورڈنگز موجود ہیں انتہائی محدود تعداد میں سائن بورڈز ہٹائے ہیں اور اس کے ساتھ بھی یہ کیا گیا ہے کہ فاؤنڈیشن موجود ہے، یعنی جیسے ہی معاملہ ٹھنڈا پڑے کا یہ سائٹس ایک بار پھر فعال کر د ی جائیں گی۔ سائن بورڈز کو نصب کرنے کے لئے لگائی گئی فاؤنڈیشنز اور ان کے فٹ پاتھوں پر موجود ہیں اور یہ راہگیروں کی آمد و رفت میں خلل ڈال رہی ہیں، کئی افراد ان سے ٹکرا کر زخمی ہو چکے ہیں۔ خصوصا رات کے اندھیرے میں سڑک پار کرتے وقت شہریوں کو سڑک پار کرنے میں شدید دشواری ہے اور راہ کی یہ رکاوٹیں کسی کی جان بھی لے سکتی ہیں۔
روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پری ونشن سینٹر کے انوسٹی گیٹر عرفان بھٹی اہم شاہراہوں پر بے تحاشہ ہورڈنگز کو حادثات کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے اپنا تجربہ بتایاکہ عموماً شہر میں ہونے والے حادثات کے مقامات پر تحقیق کے لئے جانا پڑتا ہے اور عموماً ایک ہی مقام پر تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے حادثات کے مقامات پر دیگر عوامل کے ساتھ یہ بھی دیکھا گیا کہ آس پاس کوئی بڑا اشتہاری بورڈ لگا دیکھا اور اس پر پراڈکٹ سے زیادہ خاتون ماڈل کو اس انداز سے پیش کیا ہوتا ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی انسان اپنی جبلت سے مجبور ہو کر نظریں ٹہرانے پر مجبور ہو جاتا ہے، ایسی صورت میں حادثات تو ہونا ہے۔ عرفان کے مطابق اس حوالے سے ان کے پاس اعداد شمار موجود تو نہیں لیکن ہفتے بھر ہونے والے حادثات کی تمام پہلوؤں سے تحقیق کی جائے توشہر بھر میں اشتہاری بورڈز کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی تعداد درجنوں میں ہوگی۔
karachi updates Hordings 007پیسے کی ہوس میں شہر کی اہم شاہراہوں پر سڑک پار کرنے کے لئے بنائے گئے پیڈسٹرین برج (پیدل چلنے والوں کے لئے تعمیر کردہ پلوں) پر اشتہار اس انداز میں لگادیئے گئے ہیں کہ خواتین بازیبا کلمات اور حرکتوں کے ڈر سے وہ استعمال ہی نہیں کرتیں کہ نیچے سے گذرنے والوں کو اس برج کا کچھ معلوم نہیں ہوتا وہ ایک بند گلی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے مختلف اداروں کی جانب سے اس معاملے پر پہلے بھی آواز اٹھائی گئی تھی تو اس طرح کے اشتہارات پلوں پر نہیں لگائے جا رہے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ گذرا ہے اور یہ صورتحال پھر شروع ہو گئی ہے۔
دنیا بھر میں ہونے والی مختلف تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ سڑکوں پر ں نصب بورڈز حادثات کا سبب بنتے ہیں، ایک امریکی یونیوسٹی کے محققین کہتے ہیں کہ سڑک کنارے لگے اشتہاری بورڈ کی وجہ سے ڈرائیورز گاڑی کی رفتار کم کر لیتے ہیں، ضروری نہیں کہ اشتہار میں کوئی تصویر ہی لگی ہو بلکہ اکثر الفاظ بھی ان کی توجہ سڑک سے ہٹا دیتے ہیں اور ٹریفک حادثات کی یہ ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ محققین نے واضح کرتے ہیں کہ سڑک پر ذرا سی بھی لاپروائی سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومت اور عدلیہ کو ایڈورٹائزر ز اور کے ایم سی کو قوانین کا پابند کرنے کے ساتھ ساتھ اشتہاری دینے والی کمپنیوں کو بھی متنبہ کیا جائے کہ وہ کوئی بھی اشتہار لگانے سے قبل سائٹ کا معائنہ کر لیں، کہیں ایسا تو نہیں انجانے میں وہ اصولوں کی پامالی کے مرتکب ہو رہے ہوں۔ بہرحال صورتحال کیسی بھی ہو شہر میں جہاں ماحولیاتی اور صوتی آلودگی کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی جاتی رہتی ہے تو اس اشتہاری آلودگی کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔اگر متعلقہ اداروں نے اس جانب توجہ نہیں دی تو شہر میں بجلی کے کھمبوں سے زیادہ اشتہاری پولز دکھائی دیں گے۔
karachi updates Hordings 002ڈرائیور کی صرف سڑک اور ڈرائیونگ پر مرکوز رکھنے کے لئے انٹر سٹی چلنے والی بسوں میں مسافروں کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے ویڈیو کا انتظام ہوتا ہے لیکن اس سلسلے میں احتیاط برتی جاتی ہے کہ اسکرین ڈرائیور کے سامنے نہ ہو، اچھی معیاری بس سروس میں یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ ویڈیو کی آواز بھی ڈرائیور تک نہ پہنچے اس سلسلے میں مسافروں کو ہیڈ فونز فراہم کر دیئے جاتے ہیں ۔اس سے بھی ڈرائیور کی توجہ صرف سڑک پر ہی مرکوز رہنے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ 12برس قبل کی بات ہے میری بہن رعنا لیاقت کالج میں زیر تعلیم تھی اس نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہمارے کالج سے چند قدم آگے ایک ’فوم‘ کی کمپنی کا اشتہار تھا جس میں ماڈل جرسی کا نائٹ ڈریس پہنے لیٹی ہوئی تھی، اس اشتہار کی وجہ سے حادثات کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور غیر معمولی طور پر گاڑیوں کارکنابھی معمول بن گیا۔ وہ تو بھلا ہو متعلقہ حکام کا کہ ان کو خیال آیا اور وہ اشتہار تبدیل کر دیا گیا۔ یہ بات تو ایک دہائی سے قبل کی ہے لیکن اب تو شہر کی بیشتر سڑکوں کو اخلاقی اقداروں کو روندتے کئی اشتہارات موجود ہیں لیکن کسی کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگتی۔
یوں تو شہر کا کوئی علاقہ اس اشتہاری آلودگی سے محفوظ نہیں لیکن نمائش چورنگی، حیدری، ناگن چورنگی، گذری، پنجاب چورنگی،کورنگی روڈ،زمزمہ، سی ویو روڈ، شہید ملت روڈ ، پرانی سبزی منڈی،حسن اسکوائر، سہراب گوٹھ پر سائن بورڈز نے شہر کا برا حال کردیا ہے، تمام ضابطے اور قانون بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف کمائی کو مد نظر رکھ کر اشتہاری ہورڈنگز کی بھرمار دکھائی دیتی ہے۔ ایسی صورتحال بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کی ذمہ داری لینے والا کوئی اپنا موجود نہیں، ملک کے سب سے بڑے شہر کا خیال رکھنے والا کوئی تو ہو۔
karachi updates Hordings 003سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر عنیزہ نیاز شہر میں جابجا موجود سائن بورڈز کے حوالے سے کہتی ہیں کہ ان کی وجہ سے شہر کی خوبصورتی کا جو حال ہوا ہے وہ تو الگ بات ہے لیکن اس کی وجہ ڈرائیورز کی جو توجہ بٹتی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، خاص طور پر کپڑوں کے اشتہارات میں خواتین کو اس انداز میں پیش کیا جاتا جس سے اس پر نظر پڑنا لازمی اور ٹہرنا فطری عمل ہے، یہ خطرہ اس وقت زیادہ بڑھ جاتا ہے جب کوئی نیا سائن بورڈ لگتا ہے، رات کے اوقات میں سڑکوں پر لگے یہ سائن بورڈز اضطراب، اداسی، شیزوفینیا (دماغی عارضے) میں مبتلا افراد کو یہ اشتہاری بورڈ خود پر گرتے اور چیختے چلاتے محسوس ہوتے ہیں ا ور ان کی کیفیت مزیدبگاڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کراچی کی انتظامیہ یا سول ایڈمنسٹریشن کو شہر کی حالت کا کوئی خیال نہیں ہے، یہ شہر تو اشتہارات کا جنگل محسوس ہوتا ہے۔ دو سڑکوں کے درمیانی فٹ پاتھ پرلگے اشتہاری بورڈزرات میں ڈرائیورز کیلئے انتہائی مشکلات پیدا کرتے ہیں تیز روشنی سامنے دیکھنے میں مشکلات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ اشتہارات کی وجہ سے بدنام ہے لیکن کراچی کا حال تو اس سے بھی برا ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر عنیزہ کہتی ہیں کہ ایک ہی پراڈکٹ اور برانڈ کا اشتہار متواتر لگانے کی کیا منطق ہے سمجھ نہیں آتی، ایسا محسوس ہوتاہے یہ اشتہار لگانے والی کمپنیاں صارفین کو کم عقل یا کند ذہن سمجھتی ہیں کہ ایک ہی اشتہار کو با ر بار پیش کرتی ہیں۔ ڈاکٹر عنیزہ نے تصاویر کو نفسیاتی طورپر توجہ ہٹانے کی وجہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ اخلاقی گراوٹ بھی قرار دیا اور انہوں نے کہاکہ ویسے تو مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف حوالوں احتجاج اور اعتراضات کرتے ہیں لیکن اس جانب ان کی بھی کوئی توجہ نہیں۔ انہوں کراچی کی سڑکوں پر اپنے ذاتی تجربے کو اسٹار وراز سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فلموں نا جانے کب کہاں سے کیا آجائے معلوم ہی نہیں ہوتا بالکل اسی طرح کراچی کی سڑکوں پر بھی بے ہنگم سائن بورڈ کبھی بھی کہیں سے بھی نمودار ہو جاتے ہیں۔
karachi updates Hordings 004ٹریفک پولیس نے بھی سڑکوں پر لگے بے ہنگم سائن بورڈز کو حادثات کی ایک بڑی وجہ قرار دے دیا، ڈی ایس پی ڈاکٹر ارشد کی رائے میں جس طرح موبائل فون پر ایس ایم ایس پڑھنا یا لکھنا دوران ڈرائیونگ خطرناک ہے بالکل اسی طرح توجہ بانٹنے کے حوالے سے سڑکوں پر لگے یہ سائن بورڈز بہت بڑا خطرہ ہیں، انہوں نے کہاکہ یقینی طور پر اس سلسلے میں متعلقہ اداروں نے کی جانب ایس او پی یعنی مناسب طریقہ کار موجود ہوگا اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، ہمارے شہر میں تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہاں اور کب سائن بورڈ سے واسطہ پڑا جائے، فلائی اوورز ہوں یا پل یہ ہر جگہ موجو دہیں، بعض ہورڈنگز میں استعمال ہونے والی شیٹ روشنی منعکس کرتی ہے جس سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈی آئی جی ٹریفک کے ریڈر ادریس کہتے ہیں کہ سائن بورڈ پر لگی تحریر پڑھنے اور ماڈلز کو دیکھنے میں بعض اوقات توجہ سڑک سے ہٹ جاتی ہے تو ایسی صورت میں حادثات تو ہوتے ہیں لیکن ان کی اس انداز میں رپورٹ نہیں ہوتے، یہ حادثے لاپروائی کی زمرے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے کے مطابق گاڑی چلانے کے دوران سائن بورڈز پڑھنا یا تکنا موبائل فون کے استعمال سے زیادہ خطرناک ہے۔ انسپکٹر سعید آرائیں کہتے ہیں کہ سائن بورد بے تحاشہ ہیں کہ کہیں نہ کہیں نظر تو اٹک ہی جائے گی اور بس ایک لمحے کے لئے نظر کا چوکنا حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ اب تو ایل ای ڈیز والے اشتہاری بورڈز بھی شہر میں لگے ہیں بعض اوقات ان کی سفید روشنی بھی ڈرائیور کے لئے مشکلات پیدا کر دیتی ہے۔

1 COMMENT

Comments are closed.

Open chat