گھر کی رانی ( مدیحہ مدثر)

home financeلڑکی جوان ہوتی ہے اور ماں باپ کو ان کی شادی کی فکر لاحق ہوجاتی ہے اور بہترین رشتے کی تلاش کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔ اب لڑکا کیسا ہو، اچھی نوکری ،عالیشان گاڑی، بہترین علاقے میں رہائش کے ساتھ ساتھ لڑکا اعلٰی تعلیم یافتہ اور خوبصورت خوش اخلاق بھی ہونا چاہئے ۔ بس میری بیٹی کورانی بناکر رکھے لیکن کیا گھر کی رانی بننے کے لیے آپ کی بیٹی کو انہیں تمام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان تمام خوبیوں والا داماد مل جانے کے بعد بھی آپ کی بیٹی رانی نہیں بن پاتی جب کہ گھر میں نوکر چاکر بھی خدمت کے لیے موجود ہوتے ہیں لیکن لڑکی کی زندگی میں کچھ کمی ہی رہ جاتی ہے۔
اس کا رانی بننے کا خواب ادھوراسا ہی رہ جاتا ہے اور اکثر ایسی لڑکیاں جو کہ غریب گھرانے میں بیاہی جاتی ہیں زندگی میں بہت سی مشکلات اٹھاتی ہیں لیکن وہ اپنے گھر میں رانی والی زندگی گزارتی ہیں ان کے گھر میں غربت ضرور ہوتی ہے لیکن امن سکون محبت و اخلاق دیکھنے والا ہوتا ہے۔ ان کے شوہر انہیں رانیوں کی طرح پلکوں پر بٹھاکر رکھتے ہیں ۔ کیوں کہ لڑکی کو رانی بننے کے لیے دولت، پیسہ اور گاڑی کی نہیں بلکہ لڑکی کو عقل و شعور کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگرشادی کے بعد چند ایک باتیں اپنا لی جائیں اور خود کو تھوڑا جھکا لیا جائے تو اپنے گھر کو جنت، شوہر کو گھر کا راجا اور خود رانی بن سکتی ہیں۔
سب سے اہم بات یہی ہے کے پہلے شوہر کو راجا بنایا جائے شوہر راجا ہوگا تو اس کی بیوی رانی ہوگی۔ شوہر کواپنے حکم پر چلانے کی خواہش ہوگی اور اگرحکم پر چلنے والا غلام شوہر ہوگا تو کتنا ہی امیرکیوں نا ہو خادم کی بیوی خادمہ ہی کہلائے گی۔ شوہر کو اللہ نے ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس کے پیچھے کوئی خاص بات ضرور پوشیدہ ہوگی بس اللہ کی مرضی کو رضاءمانتے ہوئے شوہر کے ہر فیصلے پر سر جھکا دینا۔ ساس س±سر کو والدین سمجھنا اوران کی ماں باپ کی طرح خدمت کرنا جس سے ان کے دل میں جگہ حاصل کی جاسکے اور یہی محبتیں آپ کو سب کے دلوں کی دھڑکن بنادیتی ہیں ۔ آپ کا گھر جنت جیسا پرسکون بن جاتا ہے اور آپ دونوں میاں بیوی راجا رانی بن جاتے ہیں پھر لوگ آپ کی مثالیں دینے لگتیں ہیں۔  یہ سب کچھ ہر گھر میں ممکن ہے اگر رشتوں میں انا کی جگہ محبت کو دے دی جائے تو۔

One thought on “گھر کی رانی ( مدیحہ مدثر)”

  1. arif says:

    بہت اچھا لکھا ہے آپ نے ویری نائس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top