گھر میں سکون مگر کیسے؟ (مفتی عبداللطیف)

family_planningاللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا ہے۔ آج اگر گھروں میں پریشانیاں ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے عباد الرحمان کے اوصاف میں سے ایک اہم وصف دعا کو چھوڑ دیا ہے۔ افسوس ناک طور پر ہمارے معاشرے میں گھروں کے سکون کی بربادی کی بنیادی غلطی ہم خود کرتے ہیں۔ گھر بسانے کے لیے بیوی کے انتخاب کے وقت عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ فلاںخالہ کی بیٹی ہے، چچا کی بیٹی ہے، ماموں کی بیٹی ہے….. خالہ نے کہا تھا کہ رشتہ ان کے ہاں سے کرنا ہے۔ یہ کوئی اسلامی جواز نہیں ہے۔
بیوی کا انتخاب کرتے وقت آپ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ شکر کرنے والا دل اپنائے اور اپنے دل کو شکر کرنے والا بنائے۔ ہر بات پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے والی اور زبان سے ذکر اللہ کرنے والی لڑکی کا انتخاب کرے۔ ایک ایسی بیوی جو دین کے معاملے میں آپ کی مدد کرے۔ وہ نماز کی پابند ہو، باپردہ ہو۔ اس طرح کی بیوی کا انتخاب ہو گا تو وہ اپنے شوہر کو بھی سچا مسلمان بنا دے گی۔ حضرت انسؓ کی والدہ محترمہ ام سلیم جب بیوہ ہوئیں تو ابو طلحہ انصاری ؓ نے پیغام بھیجا کہ ام سلیم میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، ابھی وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ام سلیم کہتی ہیں اے ابوطلحہ! تجھ جیسے شخص کا رشتہ آئے تو اسے رد نہیں کیا جاتا لیکن ہماری جوڑی بن نہیں سکتی، کیوں کہ میں مسلمان ہوں اور تو کافر۔ اپنے ہاتھ سے بنے بتوں کی پوجا کرتے ہو اور میں صرف ایک اللہ کی عبادت کرتی ہوں۔ اگر تو چاہے کہ مجھ سے شادی کرے تو تجھے مسلمان ہونا ہو گا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ حق مہر کی پیشکش کرتے ہیں مگر ام سلیم نے انکار کر دیا۔ دوبارہ آئے اور اس سے بھی زیادہ حق مہر کی پیشکش کی، ام سلیم نے پھر انکار اور تبلیغ کی کہ اگر تو مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے تو حق مہر یہ ہے کہ تو مسلمان ہو جا، یہی میرا حق مہر ہوگا۔ ابو طلحہ نے گھر جا کر سوچا کہ بات تو ٹھیک ہے کہ ہم خود بنائے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ چنانچہ کچھ دن سوچنے کے بعد واپس آیا اور کلمہ پڑھا۔ ام سلیم نے یہ کہہ کر نکاح کر لیا کہ میرے اور تیرے درمیان جو حق مہر ہے وہ اسلام ہے ۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی دنیا میں میں نے کوئی ایسی عورت نہیں دیکھی جس کو اتنا اچھا حق مہر ملا ہو۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ انتخاب ایسی عورت کا کرو جو دین میں تمہاری مدد کرے، تعاون کرے۔ یقیناً بیوی آنکھوں کی ٹھنڈک اس وقت بنے گی جب وہ دین دار ہوگی۔ فرمایا اچھی اور سعادت مند عورت وہ ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ خوش کر دے۔ خاوند گھر سے جائے تو اپنی عزت کی حفاظت کرے، خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ ایسی عورت انسان کی خوش بختی کی دلیل ہے۔ بلا شبہ دنیا فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے، مگر اس دنیا میں انسان سب سے زیادہ جس سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ نیک بیوی ہے۔ یہ انسان کی بدبختی ہے کہ اگر خاوند بیوی کی طرف دیکھے اور وہ اچھی نہ لگے، شکل و صورت کی تو اچھی ہے، لباس بھی خوبصورت، چہرہ بھی خوبصورت مگر اچھی اس لیے نہ لگے کیوں کہ ہر وقت زبان درازی کرتی ہے۔ بات بات پر لڑتی ہے، چرب زبان ہے۔ یہ انسان کی بدبختی کی دلیل ہے۔ اگر بیوی خوبصورت ہے تو اس میں اس کا کیا کمال؟ کمال تو تب ہو کہ خاوند اسے دیکھے اور خاوند خوش ہو جائے۔ عباد الرحمان ہر وقت اللہ سے دعائیں مانگتا ہے کہ یا اللہ میری بیوی بچوں کی اصلاح فرما۔ سعادت والی عورت وہ ہے کہ کبھی خاوند سے غلطی ہو بھی جائے تو چشم پوشی کرے کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، وہ حوصلہ دینے والی ہو۔
صحیح البخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کی لعنت ہے ایسی عورت پر جو وشن کرتی اور کرواتی ہے۔ چہرے پر یا جسم کے کسی حصے پر کٹ لگا کر اس میں سرمہ وغیرہ بھرنا تاکہ خوبصورت لگے، اس کو وشن کہتے ہیں۔آج احمق قسم کے نوجوان بھی اپنے بازﺅں پر نام وغیرہ لکھواتے ہیں، یہ بھی وشن ہے۔ ہمیں یہ جان لینا چاہئیں کہ جہاں لعنت ہوتی ہے وہاں رحمت نہیں ہوتی۔ ان عورتوں پر بھی لعنت کی گئی ہے جو اپنی بھوئیں بنواتی ہیں، آنکھوں کے اوپر بال کو سیٹ کرواتی ہیں، مگربدقسمتی سے آج یہ فیشن بن گیا ہے۔ اسی طرح اس عورت پر بھی لعنت کی گئی جو اپنے دانتوں میں فاصلہ کرواتی ہے تاکہ خوب صورتی میں اضافہ ہو اور ان پر بھی لعنت ہے جو نسل تبدیل کرواتے ہیں۔ اسی طرح حدیث پاک میں گھر سے خوشبو لگا کر نکلنے والی عورت کو زانیہ کہا گیا ہے۔
آج افسوس ناک طور پر ان تمام برے افعال میں ہم ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ تربیت میں کمی کے ساتھ دعاﺅں میں بھی کمی کا نتیجہ ہے۔ جو عورت پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہے، رمضان کے روزے رکھتی ہے اور اس حالت میں فوت ہوتی ہے کہ خاوند راضی ہو تو فرمایا ایسی عورت کے لیے اللہ تعالیٰ جنت کے آٹھوں دروازے کھلوا دیتے ہیں۔ بلا شبہ تمہارا بیٹا تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک اس وقت ہی بنے گا جب آپ نے اس کی تربیت درست کی ہو گی۔ سات سال کا ہونے پر نماز سکھائیں، دس سال کی عمر ہونے پر اسے پابندی کروائیں اگر نہیں پڑھتا تو سختی کریں۔ حلال و حرام کی تمیز سکھائیں۔ آداب و اخلاق حسنہ سے روشناس کرائیں کہ اپنے آگے سے کھاﺅ، دائیں ہاتھ سے کھاﺅ، بسم اللہ پڑھ کر کھاﺅ۔ ایسا بچہ جس کی تربیت نہیں ہوتی وہ آنکھوں کی ٹھنڈک کیسے بنے گا؟ مگرآج ہمیں ا س بات کی فکر ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو سکون اور امن والا بنائے اور ہمارے اہل و عیال کو ہماری آنکھوں کی ٹھندک بنائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top