احترام انسانیت اور قتل ناحق (مفتی عبد اللطیف)

حدیث قدسی میں اللہkilling اپنے مظلوم بندوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں، ”میری عزت و جلالت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا، چاہے تھوڑی دیر سے ہو“۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”ظلم کرنے سے بچو کیوں کہ ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہوگا“۔ اسی طرح صحیح مسلم میں ہے کہ، ”ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے حمص کے ایک عامل کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں (عیسائیوں) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا“، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں“۔

 

افسوسناک طور پر آج جس کے پاس طاقت و اختیار ہے، اس نے ظلم کرنا اپنے لیے جائز سمجھ لیا ہے۔ کمزور سے چوک چوراہے میں کان پکڑوائے جاتے ہیں۔ بے عزتی کی جاتی ہے۔ سب کے سامنے مارا جاتا ہے۔ دنیا میں کسی کو مصیبت میں مبتلا کرنے والا کیا اس بات سے ڈرتا نہیں کہ قیامت کے دن یہ ظلم اس پر اندھیرے بن جائیں گے۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں رسول اللہﷺ نے فرمایا، ”اللہ تعالی کے نزدیک پوری دنیا کا زوال و تباہی ایک مسلمان کے قتل سے کمتر ہے“۔ ساری دنیا تباہ ہو جائے اللہ کے ہاں چھوٹا ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک مسلمان کو قتل کیا جائے لیکن آج مسلمان اس طرح قتل کیا جاتا ہے کہ جس طرح ایک مکھی کو مارا جاتا ہے اور اس قتل پر کوئی دکھ یا ملال بھی نہیں کیا جاتا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ”جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ ا±س نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو ا±س نے گویا تمام انسا نیت کا قتل کر دیا“۔(سورة مائدہ) وہ نفس چاہے مسلمان کا ہو یا کافر کا، اس سے غرض نہیں۔ جس نے ظلماً ایک انسان کا قتل کیا، اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! چھ کام ہونے سے پہلے عملوں میں تیزی پیدا کر لو، یعنی ایمان مضبوط کر لو۔ پہلی بات: فرمایا کہ مجھے تم پر ڈر ہے کہ بےوقوف لوگ تم پر حکمران بن جائیں گے، انصاف نہیں کرسکیں گے۔
بے وقوف وہ ہوتا ہے جو اللہ کی حدود نافذ نہیں کرتا، انصاف نہیں کرتا۔ دوسری بات: فیصلوں کو بیچا جائے گا۔ وکیل خریدے جائیں گے، ججوں کو پیسے دے کر فیصلوں میں تبدیلی کی جائے گی۔ تیسری بات: مجھے ڈر ہے کہ مسلمانوں کا خون بہانا ہلکا سمجھ لیا جائے گا، یعنی اس کو کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا۔ چوتھی بات: رشتے داریوں کو توڑنا۔ پانچویں بات: فوجیوں کی کثرت ہوجانا اور چھٹی بات کہ تم میں تقریریں کرنے والے ایسے لوگ آجائیں گے جو گاگا کر لوگوں سے بیان کریں گے، لوگ انہی کو مقدم رکھیں گے، جو عالم اور فقیہ بھی زیادہ نہیں ہوں گے۔
غور کریں آج یہ چھ باتیں امت مسلمہ میں موجود ہیں، ان میں سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مسلمان کو قتل کر نا ہلکا سمجھا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا اور قتل کرنے پر فخر کیا۔ یعنی گناہ کو قبول کرنے کی بجائے دلیلیں دینا شروع کر دیں، خوشی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ بدقسمتی سے ایسا ہوتا رہا ہے، لوگ قتل کی ذمے داری قبول کرتے رہے ہیں۔ کبھی معصوم بچوں کو شہید کر کے، کبھی اسکولوں پر حملہ کر کے اور کبھی مارکیٹوں پر حملہ کر کے قبول کرلینا کہ یہ حملہ ہم نے کیا ہے۔ یعنی معصوموں کو قتل کرکے خوش بھی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے انسان کی فرضی عبادت قبول کرے گا اور نہ کوئی نفلی عبادت۔ اللہ کے نبیﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ ہر گناہ معاف کردے گا، سوائے شرک کے۔ علاوہ ازیں وہ شخص بھی جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف نہیں کرے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قتل ناحق سے متعلق بڑی وعیدیں بیان کی ہیں۔ کسی مسلمان کو قتل کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ”اگر آسمان کے سارے فرشتے اور زمین کے سارے لوگ ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ سب کو جہنم میں گرا دے گا، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کا ٹھکانہ مستقل جہنم ہو گا“۔ روز قیامت مقتول اللہ کے پاس آئے گا اور کہے گا، ”یا اللہ! تو اس کو پوچھ تو سہی کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا، حالاں کہ زندگی تو نے دی ہوئی تھی اس نے مجھے ناحق قتل کیوں کیا“؟
اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”قرب قیامت مسلمانوں میں قتل عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ میں نے قتل کیوں کیا اور مقتول کو بھی پتہ نہیں ہوگا کہ مجھے قتل کیوں کیا گیا“؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی حرمت بیان کرتے ہوئے بیت اللہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ، ”اے بیت اللہ! تیری حرمت تیری شان بڑی ہے، مگر اللہ کی قسم ایک مومن کی حرمت اللہ کے ہاں تجھ سے زیادہ ہے۔
کیا آج ایک مسلمان کی حرمت کو اتنا زیاہ سمجھا گیا ہے“؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ قرب قیامت قتل عام ہوگا، تب ایک صحابیؓ نے پوچھا: یا رسول اللہﷺ قتل کی کثرت تو اس وقت بھی موجود ہے، ہم کافروں کی گردنیں کاٹتے ہیں، جو باغی ہوتے ہیں انہیں بھی قتل کر دیتے ہیں۔ فرمایا: نہیں اس وقت چھوٹی چھوٹی چیزوں کی وجہ سے قتل عام ہو جائے گا، بچوں کے جھگڑنے پر قتل ہو جائیں گے۔ فرمایا: اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی۔ یہ ظلم اہل اقتدار کرے یا پھر کوئی عام شہری، ظلم ظلم ہے۔
مسلمان کو قتل کرنا صرف تین صورتوں میں جائز ہے۔ ایک جب وہ مرتد ہو جائے، مگر یہ قتل بھی صرف حکومت کرے گی، عوام میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں۔ دوسرا قتل کے بدلے قتل، یعنی قاتل کو قتل کیا جائے، مگر یہ حق بھی صرف حکومت کا ہے۔ تیسرا وہ شخص جو شادی شدہ زانی ہو، اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ بھی حکومت کرے گی۔ قصاص میں قتل سے متعلق قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بدلے میں قتل کرنا تمہارے لیے زندگی ہے۔ غور کریں یہ کیسے زندگی ہے؟ ایک قتل ہوگیا اور پھر دوسرے کو حکومت قتل کر دے، کیسے ہے یہ زندگی؟ اس نکتے کو سمجھنا بالکل آسان ہے، آج قاتل اقرار کرتا ہے کہ میں نے پچاس قتل کیے، اگر پہلے قتل پر اس کی گردن اتاری جاتی تو باقی 49 انسانوں کی جان بچ جاتی۔
چند ماہ قبل قصور میں ننھی زینب کے قاتل کو پکڑ کر ہم نے سولی پر چڑھا دیا، اچھا کیا، مگر اس طرح کی سزاﺅں میں تسلسل رہنا چاہیے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، ”اللہ کی حدود میں سے کسی ایک حد کو نافذ کر دیا جائے، وہ مسلسل چالیس دنوں تک رحمت کی بارش سے زیادہ بہتر ہے“۔ آج حدود ختم ہو گئیں ہیں، جب حدود ختم ہو جائے تو قتل بڑھے گا، ظلم بڑھے گا۔ مظلوم چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو، جب وہ ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتے ہیں۔
فرمایا، ”ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرو“، صحابہؓ نے پوچھا، ”مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ آتا ہے مگر ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟ تو فرمایا اسے پکڑ کر دنیا میں قصاص دلوا دیا جائے جس سے وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائے گا۔ لوگوں میں شعور پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ اسلام نے ناحق قتل کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نگاہ میں بہت بڑا جرم شمار کیاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں، جانوں اور مالوں کو محفوظ فرمائے اور ساہیوال واقعے میں مقتدر اداروں کو انصاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top