Wednesday, December 2, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ایم کیو ایم کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا میں مبتلا

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا وائرس میں مبتلا، سینیٹر عتیق شیخ نے چند روز قابل نجی اسپتال میں طبی...

رینجرز کارروائیوں میں 3 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

سندھ رینجرز کی گلشن اقبال اور شاہ فیصل کالونی میں کارروائیاں، 3 ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان محمد اختر ،سدھیر احمد...

سندھ میں فنڈجاتا ہے لگتا نظر نہیں آتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار،جھیلوں اور شاہراہوں کے اطراف درخت لگانے کا حکم، اس موقع پرچیف جسٹس نے سخت ریمارکس...

جعلی نوٹ چلاتے خاتون گرفتار،نقلی 2 ہزار روپے برآمد

کورنگی کراسنگ کے قریب مارکیٹ میں جعلی نوٹ چلاتے ہوئے خاتون گرفتار، ہزار ہزار کے دو نقلی نوٹ بھی برآمد، پولیس کے مطابق ابراہیم...

پاکستان،انڈونیشیا کا تجارتی حجم 2.3 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

15-11-2016-fکراچی، انڈونیشیاء کے قونصل جنرل ہادی سانتوسو نے کہا ہے کہ نومبر 2014 میں جب انہوں نے بطور قونصل جنرل ذمہ داریاں سنبھالیں تو اُس وقت دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم1.6ارب ڈالر تھا اور اب جب وہ اپنی مدت کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے یہاں سے روانہ ہورہے ہیں تو نومبر 2016 میںتجارتی حجم بڑھ کر2.3ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیاہے۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی) میں الوداعی دورہ کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرکے سی سی آئی کے صدر شمیم احمد فرپو، سینئر نائب صدر آصف نثار، نائب صدر محمد یونس سومرو،چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز و ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی الطاف اے غفار، پاکستان انڈونیشیا بزنس فورم کے چیئرمین شمون ذکی اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔ہادی سانتوسو نے اپنی تعیناتی کی مدت کے دوران تاجروصنعتکاروں باالخصوص کراچی چیمبر کے تعاون کو سراہا جس کی بدولت انہیں بے شمار اہداف حاصل کرنے میں مدد ملی۔انہوں نے کہاکہ وہ سندھ کے لوگوں کی مہمان نوازی اور تعاون سے بہت زیادہ متاثر ہوئے خاص طور پر کراچی والوں سے جو انڈونیشیا میں اپنے بھائی ، بہنوں کے ساتھ تجارتی و ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگرچہ دوطرفہ تجارت میں بتدریج اضافہ ہورہاہے تاہم تجارتی حجم دستیاب گنجائش سے بہت کم ہے جسے نئی بلندیوں پر لے جانے کی ضرورت ہے اور یہ مشترکہ شراکت داری سے ہی ممکن ہے۔اس ضمن میں دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے جس کے یقینی طور پر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

Open chat