Wednesday, October 21, 2020
Home کالم /فیچر انصاف والوں کی نااِنصافی (محمد نعیم)

انصاف والوں کی نااِنصافی (محمد نعیم)

insafیومِ آزادی آیا، سال میں ایک دن، جب لوگ خوشی مناتے ہیں۔ پاکستان کی صورت میں ملنے والی نعمت سے اظہار محبت کرتے ہیں۔ ہرطرف قومی وحدت کا رنگ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس برس ایسا نہ ہو سکا۔ لوگوں کی اکثریت مایوسی کا شکار نظر آئی،جو مایوس نہ تھے وہ تذبذب کا شکارتھے۔ٹی وی چینلز بھی کوئی ملی نغمے یا جشن آزادی کی تقاریب کے بجائے ”آزادی اور انقلاب مارچ“ دیکھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ شکر ہے دن چوبیس گھنٹوں کا ہوتا ہے اگر یہ اڑتالیس گھنٹوں کا ہوتا تو بھی الیکٹرانک میڈیا کے تمام نشریات اسی کی کوریج میں لگ جاتی۔ اس انتشار اور بے چینی کی وجہ ملک کی سیاست میں نئے اتار چڑھاﺅ تھے۔ ایک نیا پاکستان بنے جا رہا تھا۔ لیکن اس نئے پاکستان کی اسلام آباد میں جو بنیادیں رکھی جا رہیں تھیں ان کو اہل پاکستان کی اکثریت نے ناپسند کیا۔ کل تک جو ہرخاص و عام میں مقبول تھے اور سیاست میں ہونے کے باوجود شرافت کا لیبل رکھتے تھے۔ میں نے جب آج کے اخبارات میں مختلف کالم نگاروں کو پڑھا، ٹی وی کی اسکرینوں پر جلوہ گر دانشوروں کی باتیں سنیں، تاجروں کی اپیلوں پر نظر گئی، سوشل میڈیا پر لوگوں کے تبصرے پڑھے، ماہرین معاشیات کے خدشات کو ملاحظہ فرمایا …. تو مجھے عمران خان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گرتا ہوا نظر آیا۔

11 مئی کوسابق حکومت کے پانچ سالہ دور اقتدار کے ستائے ہوئے، ملکی نظامِ حکومت سے مایوس کرڑوں پاکستانی ایک بار پھر ووٹ ڈالنے گھروں سے نکلے تھے۔ یہ ملکی تاریخ کا ایک بڑا ٹرن آوٹ تھا۔ مگر ہر بار خوش نما نعروں سے متاثر ہو جانے والی عوام کے ساتھ ایک بار پھر ایسا ہی ہوا۔ عوامی ووٹوں سے حزب اختلاف میں بیٹھنے والے عمران خان بھی ایک ہمدردعوامی لیڈر کے بجائے پاکستان کے روایتی سیاست دانوں جیسے نکلے اور ان کی سادگی ، وطن دوستی اور غریب پروری کالبادہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اتر گیا۔ اس لبادے کے اندرسے پاکستان کا وہی پرانا شہرت کا دلدادہ، بڑے بول بولنے والا اور اقتدار و مفادات کے لیے لوگوں کی ڈھال استعمال کرنے والا سیاست دان نکلا۔

imagesمیں طاہرالقادری کی بات ہی نہیں کروں گا۔ وہ ہرلحاظ سے متنازعہ شخصیت ہیں۔ ایک ایسا فرد جس کا دین، کردار،حب الوطنی کوئی بھی پہلو تشویش سے خالی نہیں ہے۔ اس کے مطالبات اور اجتماعات کچھ معنی نہیں رکھتے۔ اہل پاکستان جانتے ہیں کہ وہ مخصوص سیاسی موسم میں نمودار ہوتے ہیں اور عقیدت میں اندھے پیروکاروں کے چند ڈرامے کر کے کینیڈاسدھار جاتے ہیں۔ کبھی تو وہ کہتے ہیں کہ میں اس بار کشتیاں جلا کے آیا ہوں، مزا تو تب ہے جب وہ شاہراہ دستور پر کھڑے ہو کر اپنی کینیڈین شہرت کی دستاویزات پھاڑ دیں۔ لیکن کیا کریں بے چار ے مولانا جب میڈیا کوریج کے سارے پتے پھینک چکے تو بے وقت کی اذانیں دینے لگے۔
ممکن ہے جس انداز میں عمران و قادری اسلام آباد کو یرغمال بنائے بیٹھے ہیں ان کے مطالبات مان بھی لیے جائیں۔ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں اور دوبارہ الیکشن بھی ہو جائیں۔ لیکن اس سارے عمل کا عمران خان کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ خدشہ یہ ہے کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑھ جائیں اور 11مئی کو تحریک انصاف کو ملنے والی سیٹیں بھی ہاتھ سے نہ چلی جائیں۔ کیوں کہ عمران خان بھی اب دیگر سیاست دانوں کی طرح متنازعہ بن چکے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کی منفی مقبولیت کا گراف بلند ہو رہا ہے۔ عمران خان اپنی تقاریر میں حوالے تو اسلامی تاریخ سے دیتے ہیں۔ قرآن کی آیت کے ساتھ موجودہ حالات کا تجزیہ پیش کرتے ہیں اور اس پر ایک گانے کی دھن چلتی ہے۔ جس پر تمام جیالے ناچنے لگ جاتے ہیں۔ اس ناچ گانے اور نوجوانوں کے مخلوط احتجاج کو سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ خطبہ جمعہ میں پاکستان کی جمہوری سیاست سے الگ مگر ایک بڑی دینی جماعت ”جماعة الدعوة“ کے رہنماءپروفیسر حافظ محمد سعید نے اسلام آباد میں جاری کھیل پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ سیاسی پارٹیوں کے جھگڑوں اور سڑکوں پر ناچ گانوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

یہ مان بھی لیا جائے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ تو عمران خان اور اس سمیت تمام ضدی افراد بتائیں کہ پاکستان کے کون سے الیکشن ایسے رہے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ سوفیصد شفاف الیکشن تھے۔ اس میں کوئی بے ایمانی نہیں ہوئی۔ عوام کا نقصان کرنا، پاکستان کے سب سے اہم شہر کو مفلوج بنانا، عوام کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرنا، میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مسلسل شش و پنج میں مبتلا رکھنا، یہ عمران خان کا کون سا انصاف ہے۔ سیاست دانوں کو اس بات کا احساس کہاں کہ ان کے انتشار اور باہمی چپقلش کا ایک عام عادمی پر کتنا منفی اثر پڑھ رہا ہے۔ ایک مزدور، ڈرائیورکیسے یہ دن گزار رہا ہو گا۔ قرضوں پر چلنے والا ملک اربوں کا معاشی نقصان کیسے پورا کرے گا۔عمران و طاہر القادری اس بات کی فکر کریں بھی کیوں ۔ ان کے پاس تمام آسائش ِزندگی موجود ہیں۔ اگر ملک کو کوئی نقصان ہو بھی رہا ہے تو کوئی بات نہیں عوام پر مزید ٹیکس عائد کر کے یہ خسارہ بھی پورا کر لیا جائے گا۔اگر عوام یہ قربانی دے بھی دیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ آخر ایک نیا پاکستان بننے جا رہا ہے! لیکن عوام کو ملنے والی ذہنی اذیت ، مقامی لوگوں کو ہونے والی دشواری، بیرون ملک جانے والوں کے سفر میں رکاوٹ ان سب نقصانات کا ازالہ کون کرے گا۔ عمران خان عوام کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں کر رہے ہیں۔

imranایک عام پاکستانی ہونے کے ناطے اگر دیکھا جائے اور انصاف کی بات کی جائے تو موجودہ حکومت سابقہ حکومت کے مقابلے میں سو فیصد بہتر ہے۔ میں نواز حکومت کا کوئی سپورٹر نہیں ہوں۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں خودکش حملے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ کراچی جہاں سال 2013میں کوئی بھی ایسا دن نہیں گزرتا تھا جب پندرہ ، بیس افراد قتل نہ ہوتے ہوں اب یہ تعداد بھی بہت کم رہ گئی ہے۔ یہاں آئے روز ہڑتالیں، جلاﺅ گھیراو دیکھنے میں ملتا تھا۔ مگر اب واضح طور پر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ شہر کے حالات ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر ہیں۔ نوازشریف کے ہر دورحکومت میں پاکستان میں یادگار ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ملک کو دہشت گردی سے پاک اور محفوظ بنانے کے لیے کیا جانے والا آپریشن ہے۔ لیکن جمہوریت کی ریت ہرگز اچھی نہیں کہ حزب اقتدار چاہے جو بھی اچھا کام کرے ، اپوزیشن کا کام اس کی ٹانگیں کھینچنا ہو گا۔

قائد ایم کیو ایم کی تشویش کے مطابق قادری و عمران اسلام آبادکو آلودہ کر رہے ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں وبائیں پھیلنے کے خدشات ہیں۔ لیکن مجھے اس سے زیادہ فیس بک کے ایک صارف کے خدشات زیادہ تشویش والے لگے ہیں۔ جنہوں نے بڑے خوبصورت الفاظ میں یہ کہا ہے کہ ”کون جانتا تھا کہ کینسر کا ہسپتال بنانے والا ایک دن خود پاکستان کے لیے کینسر بن جائے گا“
تمام قارئین سے گزارش ہے کہ یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ اس کو چند مداریوں کے ہاتھوں میں نہ دیں۔ تماشائی کا کردار ختم کر کے اب ہمیں عملی طور پر تقریباً دو ہفتوں سے جاری اس ڈرامے کو ختم کرنے کے لیے اپنی آواز کو بلند کرنا ہو گا۔ اس سے قبل کہ یہ فتنہ پرور لوگ خاموشی اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے دیگر شہروں کو بھی مفلوج کر دیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

مسکن چورنگی دھماکہ، نجی اسپتال کے باہر زخمیوں کے لواحقین کا احتجاج،

کراچی: گلشن اقبال، مسکن چورنگی عمارت میں دھماکہ، نجی اسپتال کے باہر زخمیوں کے لواحقین کا احتجاج،اسپتال والے پہلے 50 ہزار مانگ...

گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار ہوگئ

کراچی: گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار ہوگئی، پولیس کے مطابق دھماکہ گیس لیکیج کا معلوم ہوتا...

دھماکہ کیسے ہوا؟ ایس ایچ او مبینہ ٹاؤن نے دعویٰ کر دیا، آئی جی سندھ نے کی رپورٹ طلب

آئی جی سندھ مشتاق مہر نے دھماکے پر ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیل طلب کرلی آئی جی سندھ نے کہا ہےکہ...

گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکہ

گلشن اقبال، مسکن چورنگی کے قریب دھماکہ،ریسکیو کے مطابق دھماکہ 2 منزلہ عمارت میں ہوا,دھماکے سے عمارت کا ایک حصہ گر گیا،متعدد...