Saturday, October 24, 2020
Home ٹیکنالوجی انٹر نیٹ کے معاشرتی فوائد و نقصانات (شمائلہ زاہد)

انٹر نیٹ کے معاشرتی فوائد و نقصانات (شمائلہ زاہد)

1انٹرنیٹ کہنے کو تو معلومات حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اسی کی وجہ سے ہم ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے عزیز رشتے داروں سے انتہائی آسانی اور سہولت کے ساتھ نہ صرف گفت و شنید کرتے ہیں بلکہ اب تو ان کو جلتے پھرتے کام کرتے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ طالب علموں کے لیے تو یہ قدرت کا یا پھر یوں کہہ لیں کے سائنس کا انمول تحفہ ہے کیوں کہ ان کی کتابوں سے جان چھوٹ گئی ایک کلک پر دنیا جہاں کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔
بلاشبہ انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا کیں۔ والدین بھی اپنے بچوں کو آئی فون، آئی پیڈ، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ دے کر بے فکر ہو گئے ہیں۔ گھر کوئی آ جائے تو بچے اپنے کمروں سے نہیں نکلتے۔ پھر اگر ماں باپ سے پوچھ لیا جائے بھئی بچے کہاں ہیں سیدھا و سہل سا جواب ہوتا ہے اپنے کمرے میں پڑھ رہے ہوں گے۔ یا پھر لیپ ٹاپ یا موبائل وغیرہ پر کچھ کر رہے ہوں گے۔ ماں باپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچوں کو گھر میں رکھ کر ان کو دنیا کے گندے ماحول سے بچا لیا ہے اور ان پر معاشرے میں پھیلتی برائیاں اثر انداز نہیں ہوں گی لیکن یہ ان کی سوچ ہے۔ آئی پیڈ ٹیبلٹ کے نام پر انہوں نے بچوں کو گندگی کے ڈھیر میں غوطہ زن ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس وقت کم از کم 80% لوگ انٹرنیٹ کو فائدہ کے لیے کم اور ذہنی جسمانی و روحانی تسکین کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
2
انٹرنیٹ کے فوائد میں یہ ہے کہ قرآن و حدیث جیسی دینی معلوماتی اشیا تک بآسانی رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسلامی سوال جواب سے متعلق ڈھیروں ویب سائٹ دستیاب ہیں۔ اسی طرح آن لائن بزنس کے ذریعے بھی بہت کم وقت میں آن لائن آڈر کر کے چیز منگوائی جا کتی ہیں۔ اسی طرح وہ خواتین جن کو کھانے بنانے نہیں آتے وہ کوئی بھی کوکنگ پروگرام آن لائن کسی بھی وقت دیکھ سکتی ہیں۔
ان سب سہولیات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے ہمارے بچوں ہمارے معاشرے پر انتہائی اذیت ناک اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ آج کل بچے کارٹون چھوڑ چھاڑ انٹرنیٹ کے ہو گئے ہیں۔ سب سے خطرناک نقصان انٹرنیٹ کا یہ ہے کہ اس کے بے دریغ استعمال سے جنسی بے راہ روی ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔ ہم آئے دن سنتے ہیں کہ کسی معصوم پری کو آدم زاد نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ جب امیر سے امیر اور غریب سے غریب کو انتہائی سستے ریٹ میں تفریح کا بھر پور سامان دستیاب ہو گا تو وہ کیوں اس سے فائدہ نہیں اٹھائے گا۔ جب کوئی فحاشی دیکھے گا تو وہ شریف تو ہونے سے رہا برائی کہیں تو اثر انداز ہو گی۔
social media
آج کل نیٹ کی وجہ سے گندگی اتنی عام ہے کہ بنا عورت اور مرد کی تفریق کے ہر کوئی اس میں مبتلا پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر میری بات ہوئی کچھ لوگوں سے جن کی عمر بمشکل 16سال ہو گی۔ ان کی گفتگو کسی طور پر بھی کسی مہذب گھرانے کہ فرد جیسی نہیں تھی۔ بچوں کی تربیت کا تعلق نہ تو حکومت کا اور نہ ہی سیاست یا لیڈروں کا ہے۔ بلکہ ہمارے اپنے گھروں سے ہے۔ ہمارے والدین اور سرپرست اعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں۔ یہ ہماری ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کی ذہنی اور روحانی تربیت کرتی ہیں۔
ہر ماں کو چاہیے کہ وہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ ٹی وی چینل پر چلنے والے ڈراموں یا غیر ضروری کاموں میں پڑ کر اپنی ذمہ داری کو نظر انداز مت کریں۔ بچے کیا اور کیوں کر رہے ہیں یہ چیک اینڈ بیلنس کا سلسلہ رکھنا چاہیے۔ مائیں اپنے بچوں کو ہر لحاظ سے تربیت دیں۔ ان خفیہ مسائل کو بھی سمجھیں اور انہیں پیار محبت سے سمجھائیں۔ اپنے بچوں کے خود ہی دوست بنیں اس سے پہلے کہ وہ آپ پر اعتماد کرنے کے بجائے کسی اجنبی سے دوستی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

نقلی وزیراعظم نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ

کراچی، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نااہل وزیراعظم نے اپنی ڈھائی سالہ ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ کا صحافیوں سے گفتگو...

رینجرز کی کارروائی،2 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

کراچی، سندھ رینجرز کی کارروائی 2 اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت عبدالمجید اور...

ملازمت کی مستقلی، نرسوں کا دوسرے روز بھی مظاہرہ

کراچی، ملازمت کی مستقلی اور دیگر مطالبات کی منظوری کےلئے نرسوں کا پریس کے کلب کے باہر احتجاج کا دوسرا روز،...

پی ایس ایل کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کو مل گئی

،کراچی، کرکٹ کے دیوانوں کے لئے خوشخبری، پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کے حوالے، لاہور میں اسموگ...