عدم برداشت کا رجحان (جاوید فاروقی)

Intoleranceبلاشبہ ہمارا معاشرہ شدت پسندی کی طرف گامزن ہے، کوئی آدمی اپنے موقف پر کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتا اور اپنے آپ کو عقل کل مانتا ہے۔ اور اپنے علاوہ کسی کی عزت و تکریم کا روادار نہیں ہے یہ ہیں وہ اسباب جو ہمیں شدت پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات اور معلم انسانیت کے سکھلائے ہوئے آداب و معاملات میں ہمیں جا بجا رواداری ، خوش اخلاقی دوسرے کی عزت کرنااور اپنے موقف میں نرم گوشہ رکھنے کی روایات و واقعات ملتے ہیں۔ آئیے تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہیں اور تمام ایسے واقعات کو منصہ شہود پر لے آتے ہیں۔
آئیے 14سو سال پہلے حدیبیہ کے مقام پر چلتے ہیں جہاں پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جا رہا ہے اسلامی تاریخ کو اٹھائیں اور اپنی نظر کو تیز کر کے پڑھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری شرطیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے جذبات کے برعکس تسلیم کر لیں جبکہ دشمن محمد الرسول اللہ لکھنا اور سننا بھی گوارا نہیں کر رہا لیکن آپ نے اپنے طرز عمل سے امت کو یہ سبق دیا ہے کہ اپنے موقف میں نرمی اور لچک رکھنی چاہیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں دوسرے کو عزت وتکریم اس قدر دی جاتی تھی کہ اپنا تو اپنا دشمن بھی گرویدہ ہو جاتا تھا اسلامی تاریخ ایسے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔
ایک موقعے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عائشہ ؓ! ہمارے پاس ایک شریر النفس اور بدقماش آدمی آ رہا ہے“، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے اپنی چادر مبارک بچھا دی اور عزت سے پیش آئے۔ اس کے جانے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کیا کہ ”اے اللہ کے رسول ! ابھی تو آپ فرما رہے تھے کہ وہ شریر آدمی اور پھر آپ نے اس کے لیے چادر بھی بچھا دی“۔ آپﷺ نے فرمایا ”اے عائشہؓ ! وہ اپنی قوم کا سردار بھی ہے اس لئے اس کا اکرام کیا“۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ” انزلوا الناس مراتبھم “کے لوگوں کو ان کے مراتب پر اتارو۔ یہ بہت بڑا اصول ہے اگر اس کو مدنظر رکھا جائے تو برادریوں اور خاندانوں کے درمیان کافی سارے معاملات خود بخود سلجھ جائیں گے۔
عدم برداشت کی ایک بڑی وجہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھ بیٹھنا ہے حالانکہ انسان کو تو اپنی معلومات اور تحقیق کو کمزور سمجھنا چاہیے۔اپنی معلومات کو محدود سمجھنا چاہیے۔اور دوسرے کی بات کو حتی المقدور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور اسلامی تعلیمات تو یہ ہیں کہ” ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہوتا ہے“۔ اپنے آپ کو بڑا محقق کہنا اور علامہ کہنا یہ تو تکبر کی علامت ہے اور اللہ کو ہرگز ہرگز پسند نہیں ہے اس کا اندازہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جب ایک عورت نے حضرت موسی علیہ الصلوٰة و السلام سے پوچھا کس اس وقت روئے زمین کا سب سے بڑا عالم کون ہے؟
حضرت موسی علیہ الصلوٰة والسلام نے جواب اس وقت روئے زمین کا سب سے بڑا عالم میں ہوں۔ لیکن یہ کوئی تکبر اور تصنع نہیں تھا بلکہ حقیقت کا بیان تھا لیکن چونکہ بڑا بول تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ الصلوٰة والسلام کو پابند بنا دیا کہ مجمع البحرین نامی جگہ میں ہمارا ایک بندہ سویا ہوا ہے جس کا نام حضرت خضر علیہ الرحمہ ہے اس کی صحبت اختیار کریں۔ صحیح قول کے مطابق حضرت خضر پیغمبر نہیں تھے بلکہ اللہ کے ولی تھے اور اللہ تعالی تکوین کائنات میں ان کے ذمہ بھی بعض امور لگا دیتے تھے۔جیسا کہ فرشتوں کے ذمے بعض امور ہوتے ہیں جبکہ نبی تو سب سے زیادہ افضل ہوتا ہے لیکن موسی علیہ الصلوٰة والسلام کو اپنے سے کم درجہ والے شخص کی صحبت اختیار کرنے کا پابند بنا دیا گیا۔مفسرین کرام نے لکھا ہے ایسا کرنا تادیبا تھا اور اللہ تعالی ہی انبیائے کرام علیہم الرضوان کو براہ راست آداب زندگی سکھاتے ہیں۔تو معلوم ہوا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا عقل کل سمجھنا اور حرف آخر سمجھنا اس ضعیف الخلقت انسان کو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top