آزمائش میں صبر کی اہمیت (مفتی عبداللطیف )

Islam-01-Webاللہ رب العزت اپنی لاریب کتاب قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ ہم کبھی خیر دے کر آزماتے ہیں اور کبھی تکلیف دے کر۔ آزمائش بندے کے لیے بطور امتحان ہوتی ہے، یہ افراد کو پرکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے موقع پر فکرمند تھے کہ دشمن کے پاس اسلحہ اور افرادی قوت زیادہ ہے۔ مقابلے میں ہم نہتے اور کمزور ہیں، تلواریں بھی پوری نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے پریشانی کے عالم میں دعا مانگ رہے تھے اور مشرکوں کے لیے بدعا کر رہے تھے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب پیارے پیغمبرﷺ دعا کر رہے تھے تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے یا رسول اللہﷺ آپ کس بات سے پریشان ہیں؟ ہم قوم موسیٰ کی طرح نہیں، جنہوں نے کہا تھا کہ اے موسیٰ تو اور تیرا رب جا کر لڑیں، ہم لڑنے والے نہیں ہیں۔ اے رسول اللہﷺ ہم آپ کے چاروں طرف سے لڑیں گے، دائیں طرف سے بھی لڑیں گے اور بائیں طرف سے بھی، آپ کے سامنے سے آ کر لڑیں گے اور پیچھے سے بھی۔ چاروں طرف سے گھیر کر آپﷺ پر ہم اپنی جانیں قربان کریں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جب حضرت مقداد نے تسلی دی تو اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کھڑا تھا، میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ کِھل اٹھا، پریشانی کے آثار زائل ہو گئے۔
یہ ہیں وہ لوگ جو اسلام کو صحیح طرح سمجھتے تھے۔ جن پر اللہ کی طرف سے آزمائش آئے تو دوسرا تسلی دیتا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، گھبرانے کی بات نہیں۔ آزمائش کے ایام میں اور خوشی کے دنوں میں کی گئی باتیں زیادہ نوٹ ہوتی ہیں۔ صرف حضرت مقداد رضی اللہ ساتھ کھڑے ہیں اور باقی صحابہؓ پیچھے کھڑے ہیں۔ صرف ایک صحابی نے پیارے پیغمبر کا چہرہ منور کر دیا۔ یہ بھی ایک کردار ہے اور یہی امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم انہیں آزماتے ہیں تاکہ یہ لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ صرف دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ کس طرف لوٹتے ہیں، خیر کی طرف یا شر اور برائی کی طرف؟ ایمان کی طرف یا بزدلی کی طرف؟ تم سمجھتے ہو کہ ایسے ہی جنتی بن جاﺅ گے؟ اپنی دکانوں میں منڈیوں میں بیٹھ کر تم جنتوں کے وارث بن جاﺅ گے۔ حالاں کہ ابھی تک تو اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اور جہاد کرنے والوں کو باقی لوگوں سے الگ ہی نہیں کیا۔ جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے علاوہ کسی کو جگری دوست ہی نہیں بنایا۔
تکلیفوں میں اللہ تعالیٰ نے پرکھنا ہے کہ تم صبر کرنے والے ہو یا بھاگ جانے والے ہو۔ مشکل حالات میں اللہ، اس کے رسولﷺ اور مومنوں کے ساتھ کھڑے رہے یا راہیں جدا کرلی تھیں۔ ابھی تک تم پر پہلے لوگوں کی طرح تکلیفیں نہیں آئیں۔ تم پر ان جیسی لڑائی مسلط نہیں کی گئی۔ وہ ہلا کر رکھ دیے گئے، ان کے دل منہ کی طرف آ گئے۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ ان کا ہلاکر رکھ دینا ان کے ایمان کی دلیل ہے۔ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنوں کو انسانوں میں پھیر پھیر کر لاتے ہیں۔ کون گواہی دیتا ہے اور کون منہ موڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ ایک موقع پر بنو نوفل اور بنو عبد شمس آکر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہﷺ آپ نے بنو عبدالمطلب کو مال و متاع دیا اور ہم دو قبیلوںکو محروم رکھا، حالاں کہ ہم تینوں قبائل ایک ہی مرتبے پر ہیں اور ایک ہی درجے کے لوگ ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جب قریشیوں نے ہمیں شعب ابی طالب میں محصور کر رکھا تھا، لوگوں نے سماجی بائیکاٹ کر دیا تھا، اس وقت بنوہاشم کے ساتھ بنوعبدالمطلب کھڑے تھے۔ اس لیے تم دونوں اس مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے، جہاں بنو عبدالمطلب ہیں۔ تکلیفوں میں ہی پرکھا جاتا ہے، کیوں کہ خوشی میں تو سارے ہی ساتھ ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ منافقوں کی یہ علامت ہے کہ جب مسلمانوں پر حالات بہتر ہوتے ہیں، سازگار ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ چلتے ہیں۔ جب کوئی پریشانی آتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ مخلص وہ ہے جو تکلیف میں آپ کا ساتھ دے۔ جب اندھیرے چھاجاتے ہیں تو دب کر پیچھے نہیں بیٹھتے۔ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سر چھپاتے پھر رہے تھے، پریشانی بڑی تھی، تکالیف دی جا رہی تھیں۔ ہجرت کے سفر میں تین دن غار ثور میں گزار دیے، رات کو چھپتے چھپاتے مدینہ منورہ کا سفر کیا، کیا پیارے پیغمبرﷺ حق پر نہ تھے؟ جتنی تکلیفیں پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں پر آئیں کیا اور کسی پر آئی ہیں؟ حالاں کہ ہمارا تو گھر بھی محفوظ ہے، ہمارا کاروبار بھی محفوظ ہے اور بیوی بچے بھی محفوظ ہیں۔
جب مسلمانوں کو مشکل حالات کا پتہ ہو تو کمزور کی کمزوری کا عذر سمجھنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی غار ثور میں چھپے رہے۔ یہ حالات امت مسلمہ پر بھی لازم آئیں گے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ اصل میں مسلمان کا امتحان لیتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں میں مسلمان کا عقیدہ دیکھنا چاہتا ہے۔ ان حالات میں دو طرح کے لوگ ملیں گے ایک وہ جو کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تہذیب کرنے کے لیے، انہیں درست کرنے کے لیے، تیز کرنے کے لیے، سیدھا کرنے کے لیے ایسا کیا ہے، جسے عربی میں تہذیب کہتے ہیں۔ کچھ قسم کے لوگ اسے تعذیب سمجھتے ہیں، تعذیب عذاب سے ہے۔ ایمان والا یہ سمجھتا ہے کہ اگر اللہ کے دین کی وجہ سے پریشانی آئی ہے تو یہ تہذیب ہے، تعذیب نہیں۔ یہ دلیل اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تہذیب کے لیے بھی آزماتا ہے۔ جس کا دماغ درست ہے اور برتن سیدھا ہے، وہ مثبت ہی سوچے گا، بصورت دیگر منفی سوچیں ہی آئیں گی۔
پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے درجات بڑی آزمائشوں کے بعد دیتے ہیں۔ اللہ جب کسی قوم کو محبوب بناتا ہے تو آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ سنن ابی ماجہ کی روایت ہے کہ مومنوں پر آزمائشیں آئیں گی، حتیٰ کہ کچھ ایسے مومن ہوں گے کہ وہ لطف محسوس کریںگے، لذت محسوس کریں گے۔ صحیح البخاری کی حدیث ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ خیر کرنا چاہتا ہے، اس پر آزماشیں نازل کر دیتا ہے۔ آزماشوں اور پریشانی کے حالات میں کہی ہوئی باتیں یاد رہتی ہیں۔ مومن آزمائشوں کی وجہ سے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے، جب کہ منفی سوچ والا سوچتا ہے کہ اللہ نے اس پر تعذیب نازل کی ہوئی ہے۔ ان آزمائشوں پر اللہ تعالیٰ لوگوں کا تقدیر پر ایمان جانچتا ہے، کیوں کہ ان حالات میں وہ یہ جملے منہ سے ادا کرتا ہے کہ کاش میں ان کے ساتھ نہ ہوتا۔ منافقین ان حالات میں پیچھے ہٹ جاتے تھے اور مومن آکر دلاسہ دیتے تھے۔ اللہ نے اپنے دین کا کام لینا ہی ہے، اگر ہم نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری جگہ کوئی دوسری قوم لے آئے گا۔ بے شک عملوں کا دارومدار خاتمے پر ہے، ساری زندگی تم اچھے طبقے کے ساتھ معاون بن کر کام کرتے رہے اور آخری عمر منہ موڑ گئے تو دلیل اس بات کی ہے کہ اللہ نے تمہارا خاتمہ اچھا نہیں کیا۔ یہ آزماشیں تو گناہوں کا کفارہ ہے۔ مومن پریشانی کے عالم میں صبر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top