نیک بندوں کے اوصاف (مفتی عبداللطیف)

islamاللہ رب العزت اپنی لاریب کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اپنے رب کی عبادت کرو موت آنے تک“۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو! تمہارے جتنے بھی اعمال ہیں میں ان کو شمار کر رہا ہوں، پھر ان عملوں کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ جس نے اچھائی کی ہو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے گا اور جس نے اچھے اعمال نہیں کیے وہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ اچھے اعمال ہمیشہ کریں کیوں کہ یہ اللہ کے ہاں بہت بہتر ہیں۔ نماز کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ جو نماز میں ہمیشگی کرتے ہیں، اصل میں اللہ کے نیک بندے وہی ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر نیکی کے بعد مسلمان کو استغفار سکھایا گیا ہے۔ جس طرح نماز کے اختتام پر سلام پھیرنے کے بعد اللہ اکبر اور تین مرتبہ استغفر اللہ کہا جاتا ہے۔

 عبداللہ بن مسعود ؓ اپنے ساتھیوں کو کہا کرتے تھے: قسم اللہ کی کبھی بھی میں کسی چیز کے لیے اتنا شرمندہ نہیں ہوتا، جتنا میں اس دن سے ہوتا ہوں، جس دن کا سورج غروب ہو گیا ہو اور اس دن میرے اعمال گزشتہ کل سے کم ہو۔ ذرا سوچیں کیا یہ شرمندگی ہمیں بھی ہوتی ہے؟ جس طرح میں رمضان میں باجماعت نماز ادا کرتا رہا۔ کیا غیر رمضان میں بھی ویسے ہی پابندی سے باجماعت نماز ادا کرتا ہوں؟ اسی طرح تلاوت قرآن، اذکار، نوافل وغیرہ میں رمضان کے بعد اگر کمی آ گئی ہے تو کیا میں کبھی شرمندہ ہوتا ہوں؟ ایک مرتبہ حضرت حنظلہؓ مدینے کہ گلیوں میں آوازیں لگا رہے تھے کہ لوگو! میں منافق ہوگیا، میں منافق ہوگیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کیا بات ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جب میں پیارے پیغمبرﷺ کی مجلس میں ہوتا ہوں تو میرے ایمان کی کیفیت بہت ا چھی ہوتی ہے اور جب اپنے گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ ہوتا ہوں تو ایمان کی کیفیت ویسے نہیں ہوتی۔ اس لیے میں منافق ہو گیا ہوں۔ حالاں کہ یہ نفاق نہیں احساس ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسلام لانے کے بعد سب سے اچھا عمل آپ نے کو ن سا کیا ہے؟ کیوں کہ میں نے جنت میں تمہارے قدموں کی آہٹ سنی ہے۔ بلالؓ نے بتایا کہ یارسول اللہﷺ جب بھی میں وضو کرتا ہوں تو نوافل ضرور پڑھتا ہوں۔ اس چھوٹی سی نیکی پر ہمیشگی کی وجہ سے اللہ نے جنت کا حق دار بنا دیا۔ ہمیشگی اختیارکرنے کا دوسرابڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور تیسرا فائدہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال میں ہمیشگی اختیار کرتا ہے اور تسلسل کے ساتھ عمل سرانجام دیتا ہے۔ اگر وہ عمل کسی عذر کی وجہ سے رہ جائے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا اجر پورا دے گا۔ مزید برآں ہمیشگی اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ انسان جب خوش حالی میں ہوتا ہے تو کثرت سے اللہ سے دعا کیا کرے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ جب انسان پر مشکلات آ جائیں تو اللہ اس انسان کو نہیں بھلائے گا۔ وہ انسان کو مشکلات سے نکالے گا۔ اعمال میں ہمیشگی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان مشکلات میں بھی اللہ کے قریب رہتا ہے اور اللہ اس پر فضل فرماتا ہے۔

.

ہمیں ان اعمال اور اوصاف کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے، جن اوصاف کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فخر سے بیان کرتے ہیں۔ سورہ فرقان میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اوصاف کو بیان کیا ہے۔ ویسے تو پورا قرآن ہی ایمان والوں کے اوصاف سے بھرا پڑا ہے، لیکن سورہ فرقان میں کچھ خاص قسم کے اوصاف بیان کیے ہیں۔ رمضان کے بعد ہم نے اپنا جائزہ لینا ہے کہ اللہ نے جو اپنے بندوں کے اوصاف بیان کیے ہیں وہ کس قدر ہم میں موجود ہیں اور کس قدر اس کی کمی ہے؟ تاکہ انہیں اپنا کر اللہ کا بندہ کہلانے میں ہمیں فخر محسوس ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، ان میں تکبر نہیں ہوتا۔ دنیا میں سبھی اللہ کے بندے ہیں۔ وہ چاہے مسلمان ہیں یا کافر۔ کافر بھی اللہ کے بندے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ انہوں نے رحمان کو بطور معبود نہیں مانا اور مومنوں نے اپنے معبود کو رحمان مان لیا ہے۔ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا کہ زمین پر اکڑ اکڑ کر نہیں چلنا کیوں کہ عباد الرحمن کے اوصاف میں سے یہ وصف ہے کہ وہ زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، تواضع اور انکساری اپناتے ہیں۔ جو انسان تکبر اور غرور سے چلتا ہے تو یہ انسان درحقیقت عباد الرحمن کی بیان کردہ صفت چھوڑ رہا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔

یاد رہے کہ قیامت کا دن ہو گا، متکبر کو جب اس کی قبر سے اٹھایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا چھوٹا بناد ے گا جتنا کہ بھورے رنگ کی چیونٹی ہوتی ہے۔ حالاں کہ شکلیں انسانوں جیسی ہی ہوں گی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اپنا کپڑا ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہے، جو کہ زمین پر لگتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ اس شخص کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس انسان کو زمین میں دھنسا دے گااور قیامت تک زمین میں دھنستا ہی جائے گا، کیوں کہ اس نے لباس تکبر کا پہنا ہوتا تھا۔ واضح رہے کہ کپڑے کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں جائے گا۔

حدیث نبوی ﷺ کے مطابق تین قسم کے لوگ ہیں، جن سے رب کریم کلام کرے گا، نہ رحمت کی نظر سے دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا۔ ایک جس نے چادر کپڑا وغیرہ ٹخنوں سے نیچے رکھا۔ دوم جو قسمیں اٹھا اٹھا کر سودا بیچتا ہے۔ سوم احسان جتلانے والا۔ ان تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کلام تک نہیں کرے گا۔ اس طرح کے متکبرین کو دھکیل کر جہنم میں پھینکا جائے گا۔ جہنم میں جو سب سے سخت آگ ہوگی اس میں ان متکبرین کو جلایا جائے گا۔ جہنمیوں کے جسم سے جو کچھ بہہ کر آ رہا ہو گا وہ ان کو پلایا اور کھلایا جائے گا۔ انسان کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کسی مسلمان کو حقیر جانے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے کہا کہ مجھے کوئی حدیث سناﺅ۔ دونوں ایک چٹان پر بیٹھے ہیں، عبداللہ بن عمرو بن عاص نے حدیث سنائی کہ فرمان رسولﷺ ہے کہ جس انسان کے دل میں سرسوں کے دانے جتنا بھی تکبر ہو گا اسے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل نہیں کریں گے۔ عبداللہ بن عمر اسی چٹان پر بیٹھے زارو قطار رو رہے تھے۔ ساتھیوں کے پوچھنے پر بتایا کہ تھوڑا بہت تکبر ہر انسان میں آ جاتا ہے تو پھر جنت میں کیسے جائیں گے؟

یاد رہے کہ اللہ کے ہاں بدترین انسان وہ ہے جب اسے نصیحت کی جائے تو آگے سے باتیں شروع کر دیتا ہے کہ تو نے اپنی قبر میں جانا ہے، میرا حساب آپ نے نہیں دینا۔۔۔ یہ اللہ کے نزدیک بدترین انسان ہے۔ غلطی ہر کسی سے ہوجاتی ہے۔ آدم علیہ السلام سے بھی لغزش ہوئی تھی اور پھر اللہ سے معافی مانگنے پر معاف کیے گئے۔ ہم بھی بنو آدم سے ہیں۔ مومن کو نصیحت کی جائے تو قبول کرتا ہے اور جب کوئی جاہل ان سے با ت کرتا ہے توبجائے بحث کرنے کے اسے سلام کہہ کر آگے نکل جاتا ہے۔اللہ ہمیں عباد الرحمن کے اوصاف اپنانے اور نیک اعمال پر ہمیشگی اختیار کرنے والا بنائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top