اعمال صالح کی اہمیت وافادیت (مفتی یوسف کشمیر)

islamاللہ رب العزت نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ اگر آپ نیک اعمال کرو گے تو میں تمہاری دنیا کی زندگی کو پرسکون، راحت بخش اور پاکیزہ بنا دوں گا۔ لیکن ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بہت سارے لوگ نیکیاں کر رہے ہوتے ہیں لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہماری زندگی پرسکون نہیں ہوتی، یا کماحقہ اس کے فوائد، اس کے نتائج حاصل نہیں ہو رہے ہوتے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمارے ذمے بہت سارے کام لگائے ہوئے ہیں۔ بہت سارے نیکیوں کے فوائد، نتائج، برکات اور ثمرات کو ہمارے عمل کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے متعدد مقامات پر ”اے ایمان والو!“ کہہ کر مومن مردوں اور مومن عورتوں کو مخاطب کیا ہے۔ عبداللہ ابن مسعودؓ اپنے شاگردوں کو فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی یہ ”آیت اے ایمان والو!“ پڑھو یا سنو تو پوری توجہ سے اپنا مکمل دھیان اس طرف کر لیا کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ مومن مردوں و عورتوں کو مخاطب کر کے اہم حکم دے رہا ہوتا ہے یا کسی خوفناک اور تباہ کن بربادی سے روک رہا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ جب بھی آپ کو پکاریں، آپ فوراً اللہ اور اس کے رسولﷺ کی پکار پر لبیک کہا کریں۔ عمل بظاہر مشکل ہو یا آسان، اس میں آپ کو کو ئی حکمت نظر آئے یا نہ آئے، جب بھی اللہ اور اس کے رسولﷺ آپ کو پکاریں فوراً کھڑے ہو جاﺅ۔ سورہ حجرات میں پانچ مرتبہ یا ایھا الذین اٰمنوا کہہ کر اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ جب مسجد کے میناروں سے اللہ کی کبریائی کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور حیی الصلواة، حیی الفلاح کی آواز لگتی ہے تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا اس کا بھی جواب دیا کرو کرو۔ اذان کے جواب کا ایک مطلب یہ ہے کہ موذن کی پکار سن کر مسجد چلے آﺅ۔

 

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان کے عین مطابق ہوں۔ بندہ میرے متعلق جو گمان رکھے گا، جو ذہن بنائے گا، ویسے ہی مجھے پائے گا۔ وہ اگر تنہائی میں مجھے یاد رکھے گا، دل میں یاد رکھے گا، میں بھی اسے تنہائی میںیاد رکھوں گا۔ اگر مجھے کسی مجلس میں یاد رکھے گا تو میں اسے ایسی مجلسوں میں یاد رکھوں گا، اس کا تذکرہ کروں گا جو ان لوگوں سے بہت بہتر ہیں۔ یعنی آسمان کے فرشتوں کے سامنے۔ فرمایا جو ہمارے ذکر سے، ہماری یاد، ہمارے احکامات سے اعراض کرتے ہیں اور میرے فرمان کو بھول جاتے ہیں، ان کی زندگی تنگ ہو جاتی ہے۔ بے سکون ہو جاتی ہے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی پریشان ہوتا ہے۔ فرمایا کل قیامت والے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ بندہ کہے گا اللہ پاک میرے پاس تو دنیا میں آنکھیں تھیں، سب کچھ دیکھ سکتا تھا، اب یہاں کیوں اندھا کرکے اٹھایا گیا ہوں؟ اللہ فرمائے گا: تیرے پاس میری نشانیاں آئیں، میری آیات آئیں، دلائل آئے، قرآن آیا، پیغام آیا، لیکن تو بھول گیا۔ تیرے پیدائش کا مقصد کیا تھا؟ کس نے تجھے پیدا کیا؟ کس نے نعمتیں دیں؟ اس رب کا تجھ پر حق ہے۔ اللہ فرمائے گا: دنیا میں تو نے ہمیں بھلا دیا آج ہم تجھے بھلا دیں گے۔
قرآن میں ہے کہ آپ میرے وعدے پورے کرو میں تمہارے وعدے میں پورے کر دوں گا۔ صحیح بخاری و مسلم اور جامع ترمذی و مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ زمین والوں پر تم رحم کرو آسمان والا تم پر رحمتیں نچھاور کر دے گا۔ جو لوگوں پر ترس نہیں کھاتا، لوگوں پر شفقت نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔ فرمایا اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تجھ پر رحم کرے، تمہیں انعام دے، تو پھر دنیا کے انسانوں پر تم بھی رحمت شروع کر دو، شفقت شروع کر دو، محبت شروع کر دو۔ بخاری و مسلم کی یہ حدیث لاتعداد مرتبہ سنی ہو گی کہ مومنوں کی مثال ایسی ہے کہ جب ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو اسلام کی خاطر، دین کی خاطر، اللہ کی خاطر، رب کی رضا کی خاطر اور رب کی رضا کی خاطر ہی نفرت کرتا ہے۔ فرمایا جس طرح جسم میں ایک کانٹا چبھ جاتا ہے، تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمان بھی آپس میں خواہ وہ پوری دنیا میں جہاں بھی رہتے ہوں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا:
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بیتاب ہو جائے
جب اللہ نے رحم کو پیدا فرمایا تو اس نے شکایت کی کہ یا اللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ لوگ مجھے توڑیں گے، صلہ رحمی کی بجائے قطع رحمی کریں گے۔ اللہ نے فرمایا: تجھے پریشانی کس بات کی ہے؟ جو تجھے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو تجھے کاٹیں گے میں بھی اسے کاٹوں گا۔ با جماعت نماز میں صف کے متعلق بھی یہی فرمایا کہ جو صف کو ملائے گا، اللہ اس کو ملائے گا اور جو صف کو توڑے گا اللہ اس کو توڑے گا۔ اسی لیے اللہ کے رسولﷺ فرمایا کرتے تھے صف کو درست کر لو۔ آپس میں اختلاف نہ کرنا، ایک دوسرے سے دور نہ رہا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو دور کر دے گا۔
یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیامیں بہت سارے اللہ کے باغی ہیں لیکن اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے۔ اللہ نے بہت ساری ایسی چیزیں اپنے بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں، جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں۔ ہماری نیکیاں ہی کام آتی ہیں۔ یہ ذکر و اذکار، صدقات، نمازیں، ہمارے پاس پہنچنے والی بلاﺅں کو پہلے سے ہی ٹال دیتی ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ خوشی کے لمحات میں بھی اللہ کو نہیں بھولتے تھے اور پریشانی میں بھی بلکہ سجدے میں چلے جاتے تھے۔ سجدہ شکر کیا کرتے تھے۔ کبھی غمگین ہوتے تو انا للہ و انا الیہ راجعون کہا کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ جب کسی کا بچہ فوت ہوتا ہے اور اس کی روح قبض کر کے فرشتے اللہ کے پاس لے جاتے ہیں تو اللہ پوچھتا ہے کہ میرے بندے کے دل کا پھل توڑ کر لائے ہو، اس وقت میرا بندہ کیا کہہ رہا تھا؟ فرشتے کہتے ہیں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ رہا تھا۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک محل بناﺅ اور اس کا نام رکھو بیت الحمد۔ اللہ ہمیں بھی صابر و شاکر اور نیک اعمال کرنے والا مومن بنائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top