اللہ تعالیٰ کی مدد کے اسباب (مفتی محمد یوسف طیبی)

allah-rabbiارشاد باری تعالی ہے: ”اللہ تبارک و تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر ایک ہو جاﺅ اور فرقہ نہ بناﺅ۔ اللہ تعالی کی نعمت کو یاد کرو جب تم مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے تھے اور اللہ نے تمھیں ایک کر دیا۔ اور تم اللہ کی نعمت کی وجہ سے اس کے احسان و انعام کی وجہ سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم جہنم کے گڑھے پر کھڑے تھے اللہ نے تمھیں بچا لیا۔ ایسے ہی اللہ تعالی تمھارے لیے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاﺅ“۔ (آل عمران: 103) کلمہ طیبہ جہاں ایک رب ذوالجلال کی وحدانیت کا درس دیتا ہے۔ ایک اللہ کی عبادت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا یقین اور شرک کی نفی کرتا ہے، وہاں یہ کلمہ مسلمانوں کے اتحاد اور بھائی چارے کا بھی درس دیتا ہے۔کیونکہ یہ وہ رسی ہے جسے پکڑ کر ایک ہونے کا حکم ملا ہے۔ جب تمہارا رب ایک ہے تو اس کے ماننے والے بھی ایک ہونے چاہیے۔ جب رسول ایک ہے تو اس کے ماننے والے بھی ایک ہونے چاہیے۔ جب قرآن محفوظ ہے اور ایک ہے اور سب مسلمان اس کو مانتے ہیں۔ جب اس کے اصول ایک ہیں۔ تو پھر مسلمانوں کو بھی ایک ہونا چاہیے۔ جب کعبہ ایک ہے۔ سب کا چہرہ اس کی طرف ہے تو وہ تقاضہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی ایک ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کے ایک ہونے کے اسباب بہت زیادہ ہیں۔ ان کے انتشار کے اسباب بہت کم ہیں۔ ان کو روزانہ نماز میں ایک امام کے پیچھے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس کی حرکات و سکنات کے ساتھ سب کی حرکات ہوتی ہیں۔ وہ اوپر جائے تو سب اوپر جاتے ہیں۔ وہ نیچے جائے تو سب نیچے جاتے ہیں۔ ایک کاشن پر سب عمل کرتے ہیں۔ یہ روزانہ کی مشق ہے۔ کوئی اس سے اختلاف نہیں کر سکتا، جب تک امام سلام نہ پھیرے کوئی نماز سے نکل نہیں سکتا۔ یہ سب مشق کروائی جاتی ہے کہ امت اسلامیہ ایک ہو جائے۔
مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت دی۔ اللہ تعالی کی توحید کا معنی ایک بن جانا، یعنی ایک قرار دے دیناہے۔ توحید واحد سے ہے۔ توحید کا معنی رب ذلجلال کو ایک ماننا۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ جب سب لوگ ایک رب کو مانیں گے تو سب ایک ہو جائیں گے۔ رسول اللہﷺ نے مدینے آتے ہی جو ضروری کام کیے۔ ان میں سے ایک اوس اور خزرج، جو چالیس سال سے قتل و غارت میں مصروف تھے، ان دونوں کو ایک کردیا۔ وہ بھائی بھائی بن گئے۔ پھر انصار اور مہاجرین کو ایک کر دیا۔ مہاجروں کے کیمپ نہیں لگائے، ان کو مایوس نہیں کیا کہ یہ ملکی ہیں اور وہ غیر ملکی۔ مقامی ہیں اور وہ مہاجر کیمپ سے ہیں۔ بلکہ ان کو انصاریوں پر بانٹ دیا۔ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور جاکر کہتے ہیں یہ آدھا گھر لے لو۔ دو بیویاں ہیں ایک کو میں طلاق دے دیتا ہوں، آپ نکاح کرلو۔ آدھا باغ لے لو۔ حالت یہ تھی کہ اگر کوئی انصاری فوت ہوتا، اس کے وارث اس کے حقیقی بھائی تھے، اگر وہ مسلمان نہیں تو اس کے وارث نہیں۔ اگر حقیقی بھائی مسلمان ہیں تو ان کے ساتھ مہاجر بھی وارث ہوتا۔ اگر کوئی مہاجر فوت ہوتا تو انصاری بھی وارث ہوتا۔ ایسا عمدہ بھائی چارہ قائم کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
اللہ تبارک و تعالی اس کا احسان جتلاتا ہے۔ فرمایا: اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اگر ساری زمین پر جو کچھ ہے آپ اس کے مالک بن جاتے، اس کو خرچ کر کے مسلمانوں کو ایک کرنا چاہتے، آپ نہیں کر سکتے تھے لیکن یہ کام میں(اللہ) نے کر دیا۔ (الانفال: 63) ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے اتحاد کی قیمت سارے جہاں کی کوئی دولت نہیں دے سکتی۔ یہ اتنی بڑی دولت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو ایک کرنے کے بعد کافروں کے ساتھ معاہدے کیے۔ جس کی رو سے مدینہ کی سطح پر یہودی ہو یا مشرک یا مسلمان، جتنے بھی ہیں اگر مدینہ پر حملہ ہوتا ہے تو سب مل کر مقابلہ کریں گے۔ اس طرح ان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر کے ان کو بھی ساتھ جوڑ لیا۔ پھر ایک سو کلومیٹر، دو سو کلومیٹر میں جو گاﺅں آتے تھے ان کو بھی ساتھ معاہدے میں باندھ لیا۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ مکہ والے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر اس حال میں دشمن نے حملہ کیا تو ہم مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ دشمن کے حملے کا مقابلہ کرنا، اپنا دفاع کرنا اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اندر سے محفوظ ہو، اندر سے ہمیں خطرات نہ ہو۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست، بصیرت، جنگی تکنیک، حکمت عملی تھی۔
آج اگر اپنے حالات پر ہم غور کریں تو چاروں طرف سے دشمن نے ہمیں گھیرا ہوا ہے اور اندر انتشار ہیں۔ کوئی سندھو دیش کی بات کرتا ہے، کوئی پختونخوا کی بات کرتا ہے۔ کوئی اسلام آباد پر حملے اور چڑھائی کی بات کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی بنیاد پر سب کو ایک کیا، جو کافر تھے ان کے ساتھ معاہدات کیے، اندر سے بے فکر ہو کر کہا ہم تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن بدر میں آیا، احد میں آیا، احزاب میں آیا مسلمانوں کو شکست نہیں ہوئی۔ کیونکہ مسلمانوں کو ایمان کی بنیاد پر اکٹھا کیا گیا تھا۔
آج پا کستان کے چار صوبے ہیں، ان کی زبانیں مختلف ہیں۔ ان کی عادات مختلف ہیں۔ ان کی نسلیں، قبیلے مختلف ہیں۔ اس ملک کو یک جان رکھنے کے لیے کوئی زبان نہیں ہے جو ان کو جمع کرے۔ کوئی نسل نہیں ہے، ان کو جمع کرنے والی صرف ایک چیز ہے کہ یہ ملک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر بنا ہے، اس پر سب کو ایک کر دیا جائے۔ افسوس ناک طور پر اسی کلمے پر ہی حملے ہو رہے ہیں، اسی نظریہ پاکستان کو پس پشت ڈالنے کے لیے اجتماعی کوششیں ہو رہی ہیں اور جو اس نظریہ پاکستان ،کلمہ طیبہ کو اجاگر کرتا ہے، بھولا ہوا سبق یاد کرواتا ہے، اس کے خلاف اپنے بھی کھڑے ہو رہے ہیں اور پرائے بھی کھڑے ہو رہے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی انفرادی طور پر، قبائلی حساب سے، جماعتوں کے حساب سے، ملکوں کے حساب سے ہر سطح پر مسلمانوں کو ایک دیکھنا چاہتا ہے۔ اللہ کی رسی کو پکڑ کر ایک ہو جاﺅ، بلا شبہ سارے مسلمان ایک جسم کی مانند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مسلمان کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے کہ اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
امت اسلامیہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جسم قرار دیا، اس جسم میں ہاتھ، پاﺅں، جگر گردے سارے اعضا ہیں۔ ان میں بعض کی اہمیت زیادہ ہے، بعض کی اہمیت کم۔ دل خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ ہاتھ ایک بھی ہو تو گزارہ ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم جسم کے کسی ایک حصہ کو کم اہمیت کی وجہ سے کاٹ کر پھینک سکتے ہیں؟ امت اسلامیہ، اس کی جماعتیں، اس کے افراد، وہ بھی ایک جسم ہیں، کسی کی کم اہمیت کی بنا پر اس کو کاٹا نہیں جا سکتا۔ جس طرح گاڑی کے انجن کا اپنا مقام ہے اور ٹائروں کا اپنا مقام۔ لیکن کوئی ایک ٹائر پنکچر ہو جائے تو انجن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ سب کی ضرورت ہے۔ اللہ ہم سب کو دین پر عمل کرنے والا اور اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنے والا بنائے۔ اتحاد کی وجہ سے ہی اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی۔ ان شاءاللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top