Wednesday, December 2, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ایم کیو ایم کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا میں مبتلا

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر عتیق شیخ بھی کورونا وائرس میں مبتلا، سینیٹر عتیق شیخ نے چند روز قابل نجی اسپتال میں طبی...

رینجرز کارروائیوں میں 3 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

سندھ رینجرز کی گلشن اقبال اور شاہ فیصل کالونی میں کارروائیاں، 3 ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان محمد اختر ،سدھیر احمد...

سندھ میں فنڈجاتا ہے لگتا نظر نہیں آتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار،جھیلوں اور شاہراہوں کے اطراف درخت لگانے کا حکم، اس موقع پرچیف جسٹس نے سخت ریمارکس...

جعلی نوٹ چلاتے خاتون گرفتار،نقلی 2 ہزار روپے برآمد

کورنگی کراسنگ کے قریب مارکیٹ میں جعلی نوٹ چلاتے ہوئے خاتون گرفتار، ہزار ہزار کے دو نقلی نوٹ بھی برآمد، پولیس کے مطابق ابراہیم...

پارلیمنٹ طاغوتی قوتوں کے دبائو پر قانون سازی کرتی ہے،حافظ عاکف

tanzem islamiکراچی ہماری پارلیمنٹ عالمی طاغوتی قوتوں کے دبائو پر قانون سازی کرتی ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر حافظ عاکف سعید نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کے حوالہ سے قانون سازی کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے قرآن اور سنت کے احکامات سے مکمل طور پر انحراف کیا ہے اور ایک نوع کے قتل کو دوسرے قتل سے فرق کر کے خلافِ شریعت قانون بنایا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پہلے ہی ہمارے آئین میں قرآنی احکامات کے خلاف یہ شق شامل ہے کہ قاتل کو سربراہ مملکت معاف کر سکتا ہے حالانکہ شریعت کے مطابق یہ حق صرف مقتول کے ورثا کو حاصل ہے۔ مزید برآں یہ قانون بنا کر کہ غیرت کے نام پر قتل پر قاتل کو اُس صورت میں بھی25 سال کی سزا دی جائے گی جبکہ مقتول کے ورثا اُس کو معاف کر چکے ہوں گے یہ ترمیم شریعت محمدیؐ کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اللہ کو ناراض کر کے ساری دنیا کو بھی اپنا دوست اور حلیف بنا لیں گے تب بھی انجام بد سے نہیں بچ سکیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئین کی اس شق کو تمام آئین پر حاوی ہونا چاہیے کہ قرآن وسنت کی بالادستی ہو گی اور کوئی قانون قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بنے گا۔ اُنہوں نے سینیٹر مشاہد حسین کے اس بیان پر تشویش کا اظہار کیا کہ جنگ کے بادل ابھی چھٹے نہیں ہیں اور بھارت اپنا جدید ترین اسلحہ سرحدوں پر جمع کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا ایسے موقع پر قوم میں اتفاق و اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔

Open chat