اسلامی نظریاتی کونسل اور چیلنجز (محمد سمیع)

islami Nazriati Councilصدرمملکت عارف علوی نے حامد میر کو انٹرویو میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو فنکشنل کرنے کی بات کی تھی اس کا ایک حالیہ مظہر کونسل کے چیئرمین کی دو حکومتی وزراءکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس کانفرنس کے دوران کافی امید افزاءباتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک شکوہ کونسل کے چیئرمین محترم ڈاکٹر قبلہ ایازکی جانب سے کیا گیاکہ ماضی میں کونسل کو نظر انداز کیا گیا۔ اب ان کا یہ شکوہ دور ہوجانا چاہئے کیونکہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور محترم پیر نور الحق قادری اوروزیر مملکت برائے پارلیمانی امور جناب علی محمد خان صاحب پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے تسلیم کیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک اہم ادارہ ہے جو ریاست کے مذہبی اور اسلامی معاملات کی دیکھ بھال کرتا ہے اور حکومت کو مفید مشوروں سے نوازتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کونسل کی وہ سفارشات جو قابل عمل ہیں ان پر فوری عملدرآمد ہونا چاہئے اور یہ سفارشات عوام کے سامنے بھی لائی جانی چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ وزارت مذہبی امور ،وزارت تعلیم ، وزارت داخلہ ، وزارت پارلیمانی اموراوروزارت قانون و انصاف مسلسل اسلامی نظریاتی کونسل سے رابطے میں رہیں تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اسکالرز سے رہنمائی لی جاسکے۔ وزیر اعظم بہت جلد نظریاتی کونسل کے ارکان سے ملاقات کریں گے جس میں کونسل کی سفارشات اور دیگر امور پر بات چیت کریں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام قرآن وسنت سے متصادم جاری قوانین کا جائزہ لینا اور انہیں اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے حکومت کو سفارشات پیش کرنا ہیںاور جب سے یہ کونسل قائم ہوئی ہے اس نے سفارشات کی ڈھیر لگادی ہے لیکن ماضی کی حکومتوں نے ان سفارشات کو در خور اعتناءنہیں سمجھا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت ان سفارشات پر عمل درآمد کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے۔اب تک کی تمام سفارشات عوام کے سامنے بھی لائی جانی چاہئیں اور انہیں پارلیمنٹ میں غور و خوض کے بعد زیر بحث بھی لانے کی ضرورت ہے تاکہ قانون سازی کے لئے راہ ہموار ہوسکے۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے قوم کو یہ خوشخبری دی ہے کہ توہین انبیاءؑ کے سدباب کے لئے عالمی قانون بنانے کے لئے پاکستان امت مسلمہ کی قیادت کرے گا۔
موجودہ حکومت نے توہین رسالت کے ضمن میں پہلی مرتبہ سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی آئے ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم ممالک سے رابطہ کرکے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ اس سلسلے میں آئی او سی، عرب لیگ اور رابطہ عالم اسلامی جیسے اداروں کو بھی متحرک کیا جائے۔حال ہی میں یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق نے ایک مقدمے میں فیصلہ دیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ انتشار اور فساد کا باعث ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فیصلے سے یورپ میں گستاخوں کوناپاک جسارت سے روکنے کی راہ ہموارہوئی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں اگر تمام مسلم ممالک مل کر سفارتی سطح پر کوششیں کریں تو ان شاءاللہ مثبت نتائج برآمدہونے کی توقع ہے۔پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سود کے حتمی خاتمے کے لئے پہلے قدم کے طور پر بلا سود بینکنگ کو فروغ دیا جارہا ہے ۔بلا سود بینکاری جسے اسلامی بینکنگ کا نام دیا گیا ہے ،کے بارے میں نہ صرف علماءکے ایک گروہ بلکہ ماہرین معاشیات نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے سودی بینکنگ نظام کے ساتھ بلاسود بینکاری کے نظام کو جاری رکھ کر سود کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے بینکنگ کے سود کے بارے میں جو فیصلہ 1991ءمیں دیا تھا اورجس پر عملدرآمد کے بجائے مختلف حکومتوں نے مختلف بہانوں سے تاخیری حربے کررکھے تھے اور اس ضمن میں جس حکومتی اپیل کے خلاف مقدمے کی سماعت عدالت میںجاری ہے اس کو حکومت واپس لے اورفیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد کرائے۔ پریس کانفرنس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور جناب علی محمد خان نے کہا کہ وزیر اعظم باربار کہہ چکے ہیں کہ ریاست مدینہ کے طرزپر پاکستان بنانانچاہتے ہیں تاکہ ملک میں قرآن وحدیث کے مطابق فیصلے ہوسکیں ۔لیکن قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے تو اس وقت ممکن ہوں گے جب یہاں اسلام کا نظام عدل قائم اور شرعی قوانین نافذ ہوں ۔ اس بارے میں اب تک نہ وزیر اعظم کا کوئی بیان سامنے آیا ہے اور نہ اس جانب کوئی حکومتی سطح پر پیشرفت نظر آرہی ہے جس سے ان کے اس مبارک عزم کے بارے میں عوام کے دلوں میںشکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں جن کا فوری ازالہ وقت کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top