Saturday, October 24, 2020
Home اسلام ترقی اور خوشحالی کے لئے اسلامی نظام کا قیام ناگزیر (حافظ عاکف...

ترقی اور خوشحالی کے لئے اسلامی نظام کا قیام ناگزیر (حافظ عاکف سعید)

Pakistan-RE-lاس وقت پاکستان کے دو صوبوں میں آپریشن کلین اپ جاری ہے۔ بلوچستان میں مداخلت کاروں کا صفایا کیا جارہا ہے۔ علیحدگی پسندوں پرکاری ضرب لگائی گئی ہے۔ یہ وقت کا تقاضا تھا۔ کراچی میں بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف بھی آپریشن جاری ہے۔ اس سے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ نیب اور رینجرز نے سندھ میں کرپشن کے خلاف اقدامات کئے ہیں اور اس سے کرپٹ عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ کرپشن ہماری قوم کا روگ بن چکا ہے لہٰذا یہ کام جاری رہنے چاہئےں۔ بڑے خوش آئند کام ہیں جو ہورہے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اب اچھی توقعات بھی وابستہ کی جانے لگی ہیں کہ اب ان شاءاللہ حالات بہتر ہوں گے۔ جس مسیحا کی ضرورت تھی شاید وہ ہمیں مل گیا ہے اور اس کے ذریعے یہ سارے کام ہورہے ہیں۔ بالخصوص سیکولر طبقات بہت خوش اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ ان کی خوشی اور اطمینان کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ سارے اصلاحات دین اور مذہب کے نام سے نہیں ہورہے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں ہورہا ہے کہ اسلام میں یہ ساری خرابیاں غلط ہیں۔ دین او ر شریعت کے خلاف ہیں۔ بلکہ یہ دنیا میں جاری قومی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ چنانچہ وہ توقع کررہے ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں سے بھی نظر آرہا ہے کہ ملکی نظریاتی تشخص کو بالکل ثانوی حیثیت دی جائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ قرارداد مقاصد کیا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔یہاں پر شریعت نافذ ہونی چاہئے۔ یہ ساری باتیں ہمارے ہاں اب پس پردہ چلی جارہی ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلوں میں ان چیزوں کے نظر اندازکئے جانے کا رجحان واضح نظر آرہا ہے۔ چنانچہ دستور کے بنیادی ڈھانچے کے سوال پر جو اکیسویں ترمیم کے حوالے سے اٹھا تھا کہ اس ترمیم میںشہریوں کے بنیادی حقوق کے سلب ہونے کی بات ہورہی ہے۔ یہ ہمارے دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ایک verdict دے دیا ہے۔ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ باتیں دستورمیں تین ہی ہیں۔ ایک تو یہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ جمہوریت کا یہاں پارلیمانی نظام ہوگا۔ یہاں صوبوں کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ یہاں پارلیمانی نظام ہی سوٹ کرتا ہے۔ تیسری بات عدالت عالیہ کی برتری ہے۔ یہ تین چیزیں بنیادی ہیں باقی کوئی شے بنیادی نہیں۔ اس کا مقصد کیا ہے؟ قرارداد مقاصد کہاں گئی؟clause2(a) کے مطابق اس ملک میں حاکمیت اللہ کی ہے۔ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیںہوگی۔ یہ کہاں گیا؟ جیسا کہ ابھی میں نے عرض کیا تھا کہ اس ملک کا اسلامی تشخص پس پردہ جارہا ہے۔ یہ بہت خوفناک رجحان ہے۔ اعلیٰ عدلیہ سے اس حوالے سے سوال نہیں کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جیسے دنیا کی ساری قومیں جن بنیادوں پرترقی کررہی ہیں، ہمارے لئے بھی وہی بنیادیں ہیں۔ اسلام وغیرہ تو اضافی چیزیں ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔ یہ حقائق کو جھٹلانے والی بات ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔
Islam-01-Webیہ اسلام کے نام پر بنا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے حکیم الامت، مصور پاکستان علامہ اقبال نے فرمایا تھا اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر  خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔ اقوام مغرب کی طرف دیکھ کر کہ انہوں نے کیسے ترقی کی، کیا پیرامیٹرز تھے، کیا اصول بنائے گئے، ہم بھی وہاں جاکر سیکھیں۔ اس پر تحقیق کریں۔ وہی پیرامیٹرز، اصول ہم بھی اپنائیں تو ہم بھی ترقی کریں گے۔ ایک سو برس قبل علامہ اقبال نے اس کی سخت ترین تردید کی۔ ان کی جمیعت کا ہے ملک و نسب پر انحصار قوت مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تری۔ دنیا کے اقوام کی بنیاد وطنی قومیت پر ہے۔ ہم فلاں نسل کے لوگ ہیں۔ ہم جرمن قوم ہیں۔ جرمنی نے german race کی بنیاد پر ترقی کی۔ ہم اعلیٰ raceکے لوگ ہیں اور ہمیں ترقی کرنا ہے۔ اس جذبے نے انہیں آگے کردیا۔ وطن عزیز کو استحکام صرف دین کی قوت سے ہوگا۔ کوئی اور شے اس کی بنیاد نہیں۔ لہٰذا ہم کسی خوش فہمی میں نہ رہیں۔ اگر ہم نے اپنے نظرئیے کو نظر انداز کرکے ملک کو سیکولرزم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی تو ہمیں بدترین انجام کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔ یہ ساری چیزیں عارضی ثابت ہوں گی۔ ہاں اگر نظریے کی بنیاد پر چلیں گے تو ہمیں اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ اللہ سے سرکشی اختیار کرکے کیا ہم دنیا میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ نظریہ¿ پاکستان اور قرارداد مقاصد سے انحراف دراصل اعلان ہے کہ اس کو نکالا جائے۔ مجھے یاد پڑ رہا ہے کہ کچھ عرصے قبل خیبرپختون خواہ کے ایک وزیر حاجی عدیل صاحب نے کہا تھا کہ پاکستان کے نام سے لفظ اسلامی کو نکالا جائے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام میں لفظ اسلامی لوگوں کو بڑا کھلتا ہے۔ ویسے تو ہم نے اسلام کو دیس نکالا دیا ہوا ہی ہے۔ یہ سوچ اگر پروان چڑھے گی تو پھر اس ملک کی خیر نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے کہ دنیا میں کامیاب تم ہی ہوگے اگر واقعتا مومن ہوئے۔ کامیابی کے لئے ایمان اور اس کے عملی تقاضو ں کی تکمیل سے مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ارباب اقتدار اور اختیار ہی نہیں بلکہ پور ی قوم کو یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
msami.ti@hotmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

جیو نیوز کے صحافی علی عمران کے اغوا کا مقدمہ درج

کراچی: جیو نیوز کے صحافی علی عمران کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق علی عمران کے بھائی طالب...

گلشن معمار، اسلحے کے زور پر 2 ملزمان شہری سے گاڑی چھین کر فرار

کراچی: شہر میں اسٹریٹ کرمنلز سے شہری غیر محفوظ، گلشن معمار میں احسن نامی شخص سے2 ملزمان ا سلحے کے زور پر...

آلو، ٹماٹر اوردودھ سمیت 14اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ

کراچی: آلو، ٹماٹر اوردودھ سمیت 14اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ، اعداد وشمار کے مطابق 22 اکتوبر2020 کو ختم ہونے والے...

شہباز گل نے کراچی واقعہ کو سازش قرار دے دیا

کراچی: وزیراعظم عمران خان کےمعاون خصوصی شہباز گل نے کراچی واقعہ کو سازش قرار دیدیا اور کہا کہ کیپٹن(ر)صفدر کی گرفتاری کا...