Wednesday, January 27, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

سی این جی اسٹیشن پھر بند، شہری مشکلات شکار

سی این جی پھر بند، سوئی سدرن گیس کمپنی نے بدھ کی صبح 8 بجے سے ہفتہ کی صبح 8 بجے تک کراچی سمیت...

گلشن اقبال، گاڑی پر فائرنگ سے میاں بیوی زخمی

 شہر میں امن وامان کی صورت حال خراب، گلشن اقبال موتی محل کے قریب شاپنگ مال کے سامنے گاڑی پر فائرنگ سے میاں بیوی...

پاکستان ریلوے کا آن لائن بکنگ کا نظام بیٹھ گیا

سسٹم کی خرابی یا پھر بکنگ کا رش، پاکستان ریلوے کی آن لائن بکنگ کا نظام بیٹھ گیا، شہریوں کو آن لائن بکنگ کرانے...

گورنرسندھ عمران اسماعیل سے حلیم عادل شیخ کی ملاقات

گورنرسندھ عمران اسماعیل سے پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ کی ملاقات، دونوں رہنمائوں میں ملاقات کے دوران صوبے کی سیاسی صورت...

اسلامی معاشرے میں حجاب ایک پورے نظام کا نام ہے ۔سمیحہ راحیل قاضی

hijabکراچی، اسلامی نظر یاتی کونسل کی رکن اور سابق رکن قومی اسمبلی سمیحہ راحیل قاضی نے کہا ہے کہ اسلامی معاشر ے میں حجاب پورے ایک نظام کا نام ہے ۔نقاب اور حجاب والی خواتین کو پہلے کبھی پسماندہ قرار دیا جاتا تھالیکن آج پردے اور حجاب والی خواتین ہر مقام پر نظر آتی ہیں ۔اسلام نے خواتین کو جو اعلیٰ مقام عطاءکیا ہے کسی اور مذہب نے نہی ں دیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز جماعت اسلامی (حلقہ خواتین ) سندھ کے تحت الخدمت ہسپتال ناظم آباد میں حجاب کانفرس سے بطورِ مہمان خصوصی خطاب کر تے ہوئے کیا ۔کانفرنس کی صدارت جماعت اسلامی (حلقہ خواتین ) کی سابق سیکریٹری جنرل اور سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ منور نے کی ۔اس مو قع پر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کو سندھی اجرک اور شیلڈ بھی پیش کی گئی ۔کانفرس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر سارعہ نے ادا کیے ۔سمیحہ راحل قاضی نے مزید کہا کہ کسی بھی معاشرے میں خاندان کا ادارہ سب سے بڑا ادارہ ہو تا ہے ۔خاندان کا ادارہ ربانی اور اہمامی ادارہ ہے اور اس کے اندر عورت کا کردار انتہائی بنیادی اور قلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مساوات مردوزن کے نام پر عوارت کو مرد کے مقابلے پر لا کھڑا ہے اور عورت کو اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ مرد سے لڑ جائے اور اپنے حقوق چھین لے ۔مغرب نے مساوات ِ مردوزن اور آزادی¿ نسواں کا نعرہ لگا کر خواتین کو دھوکہ دیا اور عورت اس کے جائز اور حقیقی مقام سے محروم کر دیا ۔جبکہ اسلام عورت کو جو عزت وقار اور تقدس فراہم کر تا ہے وہ نہ مغرب میں ہے اور نہ کسی اور مذہب نے دہا ہے ۔انہون نے کہا کہ خاندان میں ماں ایک دھڑکتا ہو ا دل ہے اور بچے ہمارا مستقبل ہیں جبکہ باپ کردار ایک نگراں اور نگہبان کی حیثیت رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج موبائیل اور شوشل میڈیا پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آتا وہ جن جو بوتل سے نکل چکے ہیں وہ کسی کے قابو مین نہیں آرہے ۔میڈیا کے اس ذریعہ کو کنٹرول کر نے اور درست سمت دینے کی ضرورت ہے ۔عائشہ منور نے کہا کہ دین اور مذہب کا معاملہ انسان کی حرفِ نجی زندگی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ دین اور دین کے احکامات پوری زندگی اور ریاست و حکومت کے نظام پر محیط ہیں ۔جس کی ذمہ داری ہے اسے وہ ذمہ داری پوری طر ح سے ادا کر نا چاہیئے ۔موجودہ حا لات میں ہمارے معاشرے میں حجاب کلچر کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑ ھا یا جانا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat