Friday, October 23, 2020
Home انٹرویوز جماعت اسلامی فیس بک پیج، خدمات کے 6 سال

جماعت اسلامی فیس بک پیج، خدمات کے 6 سال

جمع ترتیب و انٹرویو: عارف رمضان جتوئی
 کراچی اپنی دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ سیاسی و مذہبی لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کراچی کی سیاست وہ ہے جس کی گونج نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے۔ پورے ملک کا سیاسی منظر نامہ اپنی جگہ میں ایک کراچی کا سیاسی منظر نامہ ہمیشہ منفرد ہی رہا ہے۔
کراچی میں سیاست بچوں کا کھیل نہیں۔ یہاں سیاسی دنگل میں اترنے کا مطلب جان کی بازی لگانا ہے۔ ان سیاسی جماعتوں میں سے ایک وہ بھی ہے جس کے سخت ترین مخالفین نے بھی اعتراف کیا کہ اگر کراچی میں کام ہوا تو ان کے دور نظامت میں ہوا۔ جی ہاں میرا اشارہ جماعت اسلامی کی جانب ہے۔
یہ وہ جماعت تھی جس نے کراچی میں سیاست سے لے کر، تعلیم تک، خواتین سے لے کر مزدوروں تک ہر شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ کراچی میں موروثی سیاست کا قلع قمع کر کے وڈیروں سے اقتدار چھین کر غریب مگر اہل افراد کو حقیقی نمائندگی کا حق دیا۔ اسی جماعت کی تاریخ ہے کہ جس نے کراچی میں دو مرتبہ مئیر اور ایک مرتبہ نظامت کی سیٹ سنبھالی۔
جماعت اسلامی کو کراچی میں پہلی مرتبہ 9 نومبر 1979ءتا 7 نومبر 1983ءاور دوسری مرتبہ7 نومبر 1983ءتا 12 فروری 1987ءمیئر شپ حاصل رہی۔ جس کے میئر جماعت اسلامی کے رہنما عبدالستار افغانی تھے۔ عبدالستار افغانی کو کراچی کی میئر شپ دے کر جماعت نے اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ وہ چودھری، وڈیرے یا بزنس مین نہیں بلکہ صرف اور صرف اہلیت کے حامل متقی و پرہیز گار افراد کی قیادت چاہتی ہے۔ عبد الستار افغانی 6 جولائی 1930ءکو کراچی کے علاقے لیاری میں پیدا ہوئے۔ کراچی کے علاقے صدر میں جوتے کی ایک دکان پر بطور سیلز مین کام کیا کرتے تھے۔ 4 نومبر 2006ءکو 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ کراچی کے میوہ شاہ قبرستان سپرد خاک کیا گیا۔ لازوال خدمات پر ”بابائے کراچی“ کے نام سے موسوم کیا گیا۔
abdul-satar-afghani-nemat-ullah-khan
کراچی میں نظامت کے نظام کو متعارف کرائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ ناظم کراچی کی سیٹ پر جماعت اسلامی کے رہنما اور رکن اسمبلی نعمت اللہ خان اگست 2001ءمئی 2005ءمنتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا کہ جس میں بلا امتیاز، رنگ و نسل،و قومیت ترقیاتی کام ہوئے۔ان ترقیاتی کاموں میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کے لیے ”اربن ٹرانسپورٹ اسکیم“ اسکیم شروع کی اور باہر سے بسیں درآمد کرنے کے علاوہ کئی پرائیویٹ کمپنیوں کو بسیں چلانے کے لائسنس دیے۔ پہلی دفعہ500 بڑی، کشادہ اور ائیر کنڈیشن بسیں کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں نظر آئیں۔ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے درجنوں ”پیڈیسٹرین “پلوں کی تنصیب کے علاوہ ڈرائیوروں کی تربیت کے لیے ڈرائیور اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ470 مقامات پر خوبصورت بس شیلٹرز تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح ماس ٹرانزٹ کے لیے ایک غیر ملکی کمپنی سے معاہدہ کیا گیا جس کے تحت87 کلومیٹر طویل مقناطیسی ریل چلائی جائے گی، جبکہ شہر میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی اورنگی، بلدیہ، کورنگی اور نارتھ کراچی تک اس کی توسیع کا منصوبہ منظور کرایا۔ شہر کے انفراسٹرکچر میں تبدیلی خاص کر ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا اثر اب شہر میں نظر آرہا ہے۔
نئے اسکولوں کی تعمیر، سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کے مختلف جدید ٹریننگ کورسز اور ”پروفیشنل ٹریننگ پروگرام“ میں ہزاروں اساتذہ کی تربیت کی گئی۔ قبل شہر میں88 کالجز تھے، 4 سال کی مختصر مدت میں ریکارڈ32 نئے کالجوں کا اضافہ ہوا۔ تمام کالجوں میں آئی ٹی لیب کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے علاوہ 10 مختلف مقامات پر ”پرچیسٹ پین سینٹر“کے قیام کا منصوبہ پیش کیا۔ امراض قلب کے جدید ترین اسپتال کا قیام ہے۔ ”کڈنی ڈائلیس سینٹر“ کا قیام بھی اسی دور میں عمل میں آیا۔ پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے آپ نے”کے تھری واٹر سپلائی پروجیکٹ“ شروع کیا گیا۔
ji-4
الغرض جماعت اسلامی کراچی نے ہر شعبہ میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ جماعت کے عملی میدان میں اقدامات اپنی جگہ تاہم ان کاموں کو پرموٹ کرنے اور نشرو اشاعت کرنے والوں کا کردار اپنی جگہ اہم ہے۔ نشرو اشاعت کے میدان میں سوشل میڈیا کی خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ دورہ میں کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے پیغام کو باآسانی دوسروں تک پہنچانے میںسوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ تعلیم یافتہ اور مذہب لوگوں پر مشتمل اس مذہبی و سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے باقاعدہ ایک پیج تشکیل دیا گیا ہے جس پر تحریک کے کاموں کو انتہائی سنجیدگی سے پھیلایا جارہاہے۔

screencapture-facebook-jamaat-pk-1477972036195-copy

جماعت اسلامی کراچی کے فیس بک پیج کا تعارف
روز بروز مقبولیت کے ریکارڈ توڑتے سوشل میڈیا کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کی میڈیا ٹیم کے ممبر ریاض صدیقی نے2010ءمیں فیصلہ کیا کہ جماعت کی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر بھی نمایاں انداز میں پیش کیا جائے۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیس بک پیج بنایا گیا اور اس پر شروع میں جماعت کی خبریں اور سرگرمیوں کو اپ لوڈ کیا جاتا تھا۔بعد ازاں اپنے نظم کو بھی سوشل میڈیا کی اہمیت سے آگاہ کیا جس کے نتیجے میں جماعت نے سوشل میڈیا کا الگ شعبہ بنایا اور نظم کا تقرر کیا۔
جماعت اسلامی کراچی کے پیج jamaat.pkکی خاص بات یہ ہے کہ جماعت اپنے پیج پر صرف اپنے پروگرامات کی ترسیل اور اطلاعات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تمام عوامی ایشوز کو اپنے پیج پر ہائی لائٹ کرتی ہے اور عام عوام سے بھی رابطہ میں رہتی ہے۔ پاکستانی ثقافت ہو یا کوئی اسلامی ماہ اور دن جماعت اسلامی ہر طریقہ سے ہر ایونٹ کو بھرپور طریقے سے عملی طور پر بھی اور سوشل میڈیا پر بھی پیش کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ پروفیشنل ڈیزائنر کشف کی  سے پوسٹ ڈیزائن کرواتی ہے۔ فیس بک پیج سے ہمیں عوام میں اپنی مقبولیت کی کمی پیشی کا اندازہ ہوتا رہتا ہے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جماعت اسلامی کو کس ایشو زپر کام کرنا چاہیے اور کس ایشوپر نہیں اس کے علاوہ فیس بک پیج سے ہم اپنی دعوت کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیںاور قران و حدیث کی خوبصورت ڈیزائن میں ترویج کا کام بھی کررہے ہیں۔
جماعت اسلامی کراچی کے فیس بک پیج پر اس وقت لائیکس کی تعداد 3لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس کی ریچ 10لاکھ لوگوں سے زیادہ ہے بعض اوقات یہ 30اور40 لاکھ کے درمیان بھی چلی جاتی ہے۔ پیج پر اتنی تعداد میںوزیٹرز کی تعداد اس لیے موجود ہے کہ کراچی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ایشوز کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔ ٹیم باقاعدہ طور پر مسائل کا حل بھی پیش کررہی ہوتی ہے۔ دینی ترانہ ونغمے بھی پیج کا خاصا ہیں۔
جماعت اسلامی کراچی کے فیس بک پیج پر باقاعدہ ایک ٹیم کام کر رہی ہے. ٹیم  میں باقاعدہ ہیڈ ایڈمن ہیں جو اس ٹیم کو مکمل طور پر دیکھ رہے ہیں.کراچی اپڈیٹس کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے فیس بک پیج کے   ہیڈ ایڈمن کا کہنا تھا کہ جدید ڈیجیٹل دور میں ہرکوئی سوشل میڈیا کا صارف ہے۔ اب عوام سے کوئی بھی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہتی، نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس سے مستفید ہورہی ہے اور اس کا اچھا اور برا استعمال کررہی ہے ۔ ہم یوتھ کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں تاکہ وہ ہماری ٹیم میں رہ کر اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں اور جب بھی موقع لگے ملک و قوم کی خدمات انجام دے سکیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھا جائے تو آج کل سوشل میڈیا کا مثبت اور منفی دونوں استعمال ہورہا ہے منفی ایسا کہ لوگ اس کے ذریعے کوئی جھوٹی خبر کو سچ بنا کر پیش کردیتے ہیں تو کبھی کسی ویب سائٹ کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ کچھ لوگ اس کا مثبت استعمال بھی کررہے ہیں ۔ اس کو اپنی دعوت کا ذریعہ بنارہے ہیں اور مختلف سماجی مسائل کو یہاں اٹھارہے ہیں تاکہ عوام الناس میں آگاہی پھیلے ۔
professor-ghafoor-ahmed
ان کا مزید کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتیں عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر بہت محنت کررہی ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ پروفیشنل ہائر کیے ہوئے ہیں ہم نوجوانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا ایسا استعمال کیا جائے کہ آپ کسی کے آلہ کار نہ بن سکیں بلکہ آپ اس کو اپنی طاقت بنالیں ، ملک کی خوبصورت و منفرد چیزوں کو یہاں اجاگر کریں اور تفرقہ بازی سے باز رہیں تاکہ دشمن بھی آپ سے لڑنے سے بعض رہے۔
نوٹ: جماعت اسلامی کراچی کی تنظیمی تقسیم کے لحاظ سے 5اضلاع، ضلع وسطی، ضلع شرقی، ضلع جنوبی، ضلع غربی اور ضلع بن قاسم کی الگ الگ سوشل میڈیا ٹیمیں ہیں جو کہ اپنے اضلاع کی سطح پر باقاعدہ الگ الگ پیج چلا رہی ہیں۔
اگر آپ فیس بک پر کس قسم کا کوئی پیج چلا رہے ہیں اور اس کے فینز کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے تو کراچی اپ ڈیٹس پر اس کو متعارف کروانے کے لیے رابطہ کریں 
arif.jatoi1990@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کراچی میں پیش آنے والے واقعے کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ کراچی میں پیش آنے والے واقعے کی رپورٹ عوام کے...

سندھ پولیس کے اہلکاروں کی پھرتی، ڈکیتی کی کوشش ناکام بنادی

فیڈرل بی ایریا میں مصروف سڑک پر ڈکیتی کے دوران سندھ پولیس اہلکار بروقت پہنچ گئے اور شہری کو لوٹنے کی کوشش...

حقوق کراچی ریفرنڈم، اختتامی گنتی کا عمل شروع

کراچی، جماعت اسلامی کا حقوق کراچی ریفرنڈم اختتامی مراحل میں داخل، 16 اکتوبر سے شروع ہونے والا حقوق کراچی ریفرنڈم 21 اکتوبر...

12 ربیع الاول، عبدالحق قادری کی احتجاج ملتوی کرنے کی اپیل

کراچی ، شاہ عبدالحق قادری نے ماہ ربیع الاول میں سیاسی جماعتوں سے احتجاجی پروگرام ملتوی کرنے کی درخواست کردی،...