عصبیت کا زہر (لیاقت علی مغل)

jealousتو کون میں خوامخواہ کا محاورہ اکثر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا عملی نمونہ آج کل دیکھنے میں شدت سے آرہا ہے الیکشن 2018 کے بعد سے دل جلے کھمبے تو نوچ ہی رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بے ہودہ قسم کے خیالات بھی تحریر کررہے ہیں جن کو پڑھ کر ان کی ذہنی پسماندگی ، کم فہمی اور حب الوطنی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہر شخص اپنے پسندیدہ سیاستدان اور پارٹی کو جا بے جا ڈیفنڈ کرتا دکھائی دیتا ہے اور کچھ لوگ تو اس میں اس حد تک آگے گزر چکے ہیں کہ سوائے ان کی ذہنی ابتری پر کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں سوجتا۔ مولانا فضل الرحمن کے بیانات اور کردار سے حوالے سے آج کل میڈیا میں ان کے خلاف سخت کمپین جاری ہے جو کہ ان کی سابقہ سیاسی زندگی کی نوے فیصد نہ صرف عکاسی کرتی ہے بلکہ بطور عالم ان کے کردار پر بھی بہت سے سوالیہ نشان لگاتی ہے ۔
ایک صاحب نے لکھا کہ حرامی اور حلالی ہونے کا پیمانہ یہ ہے کہ علما کے خلاف زبان درازی وہ کریگا جس کے ماں باپ کا نکاح کسی مولوی نے نہیںکرایا ہوگا یعنی جہالت کی انتہاہے کہ نکاح صرف مولوی نے پڑھانا ہے جب کہ اب تو اکثریت نکاح پڑھانے والوں کی ایسی ہوتی جارہی ہے جو کہ کلین شیوہیں یا ان کے منہ پر کم از کم داڑھی تو نہیں ہے تو کیا وہ تمام نکاح غلط ہیں ؟ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے، عالم کا معیار نکاح پڑھانایا جنازہ پڑھانا نہیں عالم کا معیاراس کی علمیت کے ساتھ ساتھ ان کاکردار ہے سیرت ہے اس کے قول و افعال ہیں۔
مولاناکی سیاسی تاریخ تضادات سے مزین ہے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ایک لمحے میں پلٹا کھانا ان کی سرشت میں شامل ہے۔ جہاں ان کے ذاتی مفادات پر ضرب لگتی ہے وہاں پر اپنی مرضی کا بیان داغ دیا جاتا ہے۔ جب اپنے آپ کو علما اور دین کے ٹھیکیدار کہلوانے والے اس قسم کے پلٹے ماریں گے تو عوام نے سوال بھی کرنا ہے اور جواب لینابھی ہے اور دینا بھی ہے۔ لہذا انکی محبت میں دیوانے اندھے پن کو چھوڑ کر شعور و آگہی کی آنکھوں کو استعمال کریں اور یہی درخواست دیگر سب سیاسی جماعتوں کے کارکنوں ووٹرز اور سپورٹرز کے لیے بھی کہ کسی کی تقلیدمیں اتنے اندھے نہ ہوجائیں کہ اچھے برے چھوٹے بڑے کی تمیز ہی کھو بیٹھیں۔مولانا فضل الرحمن اچھے نمازی ہوسکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ اچھے اور سچے سیاستدان بھی ہوں عمران خان اچھے لیڈر ہوسکتے ہیںلیکن کیا ضروری ہے کہ وہ اچھے عالم اور پکے نمازی بھی ہوں۔
نواز شریف ایک اچھے تاجر ہوسکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ اچھے حکمران بھی ثابت ہوں۔ آصف علی زرداری اچھے صدر ہوسکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اچھے شوہر اور اچھے باپ ثابت ہوں۔شہباز شریف اچھے ایڈمنسٹریٹر ہوسکتے ہیں لیکن ضروری تو نہیں ہے کہ وہ صائب رائے بھی ہوں تو ہمیں بحیثیت مجموعی سوچنا چاہئے ان لوگوں کے کئی کئی چہرے ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ سب کے سب چہرے آپ کے یا ہمارے سامنے ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری نسل نو میں عصبیت کا زہر بھر دیاگیا ہے یہ عصبیت مذہبی ہو کہ سیاسی، لسانی ہو کہ علاقائی، برداری کی سطح کی ہوئی کہ فرقے کی اس نے ملک کے نوجوانوں کو منتشر کردیا ہے نوجوانوں کو ان کی منزل سے دور کردیا ہے۔ عصبیت کے اس زہر سے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدار کا دیوالیہ بھی نکل رہا ہے۔
اسلامی تشخص اور قومیت کی شناخت کو مٹایا جارہا ہے۔ رنگ نسل ، ذات پات ، تہذیب و تمدن، وطن، علاقہ، پارٹی اور زبان نے اجتماعیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔تعصب کے عفریت کوحضور اکرم ﷺ نے بھی انتہائی سختی سے ناپسند فرمایا ہے ایک روایت میں ہے کہ احد کے دامن میں گھمسان کی جنگ جاری تھی تلواروں سے تلواریں اور نیزوں سے نیزے ٹکرا رہے تھے۔ تیروں کی بارش الگ تھی ایک مشرک ابو عقبہ مولی فارسی کی طرف بڑھا اور تلوار کا روار کیا ابو عقبہ کی زبان سے جوش میں ایک جملہ نکل گیا”اچھا تو لے سنبھال اس فارسی غلام کا وار“مگر ابو عقبہ کو کیا خبر تھی کہ اس پر نبی رحمت ﷺ کی نگاہیں مرکوز ہیں مڑ کے دیکھا تو آپ نہایت غصہ کی حالت میں دیکھ رہے تھے۔ ابو عقبہ حیران رہ گئے کہ مجھ سے کوئی جرم سرزد ہوگیا ہے یا کون کسی غلط بات زبان سے نکل گئی ہے کہ آپ اس قدر ناراضی کا اظہار فرمارہے ہیں ۔ ابوداﺅد شریف میں ہے کہ آپ ﷺاس قدر گھمسان کی لڑائی کے باوجود ابو عقبہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا” تونے یہ کیوں نہیں کہا کہ اس انصاری غلام کا وار سنبھال۔
ابو عقبہ عربی عجمی وجہ امتیاز نہیں کفر و اسلام اصل میں امتیاز کے عناصر ہیں۔اسی طرح ورقہ بن مالک بن جعشم سے روایت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عصبیت کی طرف دعوت دے یا عصبیت پر قتال کرے یا عصبیت کی بنیاد پر اس کی موت واقع ہو وہ میری جماعت سے خارج ہے۔ اس لیے کہ عصبیت خواہ کسی قسم کی ہو نسلی ہو علاقائی ہو لسانی ہو برادری کی ہو اسلامی قومیت کی جڑ کاٹ دینے والے چیز ہے۔ مختصر یہ کہ فحش گوئی گالم گلوچ بدزبانی اور الزمات کی جو کہ پارٹیز کی جانب سے جاری ہے یہ بھی عصبیت کی وجہ سے ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ نسل نو ان کی وجہ سے عصبیت کا شکار ہے جو کہ المناک المیہ ہے مسلمان اور بطور پاکستانی ہمارا شعار تو یہ ہوناچاہئے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے تابخاک کاشغر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top