Sunday, November 29, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

میئر کراچی کے پاس اختیارات نہیں تھے، گورنر سندھ

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ پیغام...

اسٹیل مل کی نجکاری، ملازمین کو معاوضہ کی ادائیگی کا اعلان

حکومت نے اسٹیل مل کی نجکاری کا اعلان کردیا، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے...

جناح ہسپتال کھنڈرات میں تبدیل (حمیرا محمود)

jpmc2بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے موسوم جناح اسپتال کراچی کا شمار ملک کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ہوتا ہے۔ شہر کے مشہور ریلوے اسٹیشن کینٹ کے نزدیک قائم یہ ہسپتال ایک زمانے میں وفاقی حکومت کے ماتحت جدید ترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا تھا، اسی بناءپر ملک بھر سے مریض شفاءیاب ہونے یہاں آتے تھے۔ آج اس ادارے کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ جناح اسپتال کی انتظامیہ کی من مانیاں اور کرپشن کی وجہ سے صوبے کا سب سے بڑا شفاءخانہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت نے سب کچھ جاننے کے باجود اس اہم مسئلے کی جانب سے آنکھیں چرائی ہوئی ہیں۔ جون 2011ءسے قبل وفاقی حکوت کے زیر نگرانی یہ ادارہ عمدہ کارکردگی دکھا رہا تھا۔ سرکار کی جانب سے ملنے والے فنڈز مریضوں کو بہترین علاج اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں خرچ ہو رہے تھے مگر آٹھویں ترمیم کے تحت جب صوبوں کو اختیارات منتقل کیے گئے تو یہ ادارہ بھی حکومت سندھ کے ماتحت چلا گیا۔ اس وقت ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا اور اس دن سے اسپتال کی کارکردگی مسلسل روبہ زوال ہے۔ ہسپتال کے 28 شعبہ جات میں سے صرف 5میں پروفیسرز تعینات ہیں جبکہ 23پروفیسرز ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جن کے بعد ان کی اسامیوں پر کسی کی بھرتی ہوئی نہ کسی ڈاکٹر کو ترقی دی جا سکی ۔ گزشتہ تین برس کے دوران 23 پروفیسرز اپنی مدت ملازمت پوری کر چکے ہیں اور صرف 2 پروفیسرز شعبہ جات چلا رہے ہیں اس صورتحال کی بدولت امراض گردہ، کینسر، سرجری اور پلاسٹک یونٹ بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کئی سالوں سے کسی ڈاکٹر ی یا پیرا میڈیکل اسٹاف کی ترقی نہیں ہوئی۔ ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تقریباً 20 اسامیاں خالی ہیں۔ اس کے علاوہ نرسنگ اسٹاف، ایڈمن آفیسرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، گریڈ ون سے لے کر ہائر پوسٹ تک تقریباً آٹھ سو اسامیاں خالی ہیں جن پر کسی کو بھرتی نہیں کیا جا رہا اس معاملے پر بھی ہسپتال انتظامیہ نے اس ”حکم امتناعی“ لیا ہوا ہے۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ساتھ انتظامیہ کا رویہ انتہائی برا اور ہتک آمیز ہے اس پر جب ڈاکٹرز نرسوں اور دیگر عملے کی جانب سے آئے روز احتجاج جاری رہتا ہے۔ اسپتال میں سینئرز ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باعث غریب مریضوں کو علاج کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت سے ہر سال بجٹ ملتا ہے۔ اس کے باوجود اسپتال کی حالت انتائی دگرگوں ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ابلتے گٹر، ٹوٹے اور رستے ہوئے سیورج پائپ، اسپتال کی المناک داستان سنا رہے ہیں۔

ادویات کی قلت کا یہ حال ہے کہ اینٹی الرجی ٹیبلٹ ہے نہ آنکھ، کان کے قطرے، دواو¿ں کی مد میں ملنے والے کروڑوں روپے کہاں جاتے ہیں اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ شعبہ حادثات میں بم دھماکوں کے بعد کروڑوں روپے فنڈز ملے جن میں سے چار کروڑ شعبہ حادثات کی تعمیر پر خرچ ہوئے دنیا بھر کے اسپتالوں میں شعبہ حادثات تک فوری رسائی ہوتی ہے مگر جناح اسپتال کا ایمرجنسی وارڈ چاروں اطراف سے اونچی اونچی فصلوں میں گھرا ہونے کے باعث سینٹر جیل کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں رینجرز اور پولیس ہر وقت موجود رہتی ہے۔ باقی تمام اسپتال کی سیکورٹی کا کوئی پرسان حال نہیں اسپتال کی موجودہ انتظامیہ نے گزشتہ کئی سالوں سے آڈٹ نہیں کرایا۔ اس لیے اسپتال کو ملنے والے فنڈز اور عطیات کہاں خرچ ہوتے ہیں کسی کو معلوم نہیں۔ شفاخانے میں مشینیں اور دیگر آلات خراب ہیں ایک خاتون نے ای سی جی مشین خریدنے کے لیے پیسے دیے تھے وہ کہاں گئے اس کا بھی کچھ معلوم نہیں۔ ایک ڈونر ای این ٹی ڈی ڈیپارٹمنٹ کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنانا چاہتا تھا اس نے وزٹ کیا اور الزامات کا تخمینہ لگوایا لیکن جب اس آفس جانے کے لیے گندگی سے گزرنا پڑا تو اس نے منع کر دیا کہ جب مریض گندگی کے ڈھیر سے گزر کر وارڈ میںجائے گا تو مزید بیمار ہو جائے گا۔ایک سال بعد اس نے دوبارہ وزٹ کیا تو گندگی کی وہی حالت دیکھ کر واپس چلا گیا۔ امریکی سفیر رچرڈ ولسن گائنی وارڈ اپنی نگرانی میں بنوا رہے ہیں۔ جناح اسپتال میں ایک ہیلی پیڈ بھی بنا ہوا ہے جہاں ایدھی کا ہیلی کاپٹر مریضوں کو لے کر آتا تھا وہ جگہ اب گھنے جنگل میں تبدیل ہو گئی ہے اور گزشتہ دنوں وہاں سے اسلحہ بھی برآمد ہو چکاہے۔ اولڈ کیمپس میں ہاسٹل تھا جو توڑ دیا گیا اور آج تک نہیں بنا۔ گزشتہ ساڑھے تین سال سے ایگزیکٹو نے اسپتال کا ایک وزٹ بھی نہیں کیا جب کہ سابق ڈائریکٹر ہر بد ھ کو اسپتال کا معائنہ کرتے تھے۔ جناح اسپتال کا رقبہ 75ایکڑ زمین پر مشتمل ہے جس میں سے 25ایکڑ زمین پر کچی آبادی بسائی گئی ہے اور وہاں اسپتال کی بجلی دی جاتی ہے ان لوگوں سے بجلی کی مد میں بل لیتے ہیں اور اسپتال کا بل گورنمنٹ دیتی ہے۔ شفا خانے میں ٹک شاپ، کیفے ٹیریا، میڈیکل اسٹور کھلے ہوئے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی لاکھوں میں ہے لیکن اندرون خانہ ڈیل کر کے ان سے کرایہ پندرہ سے بیس ہزار ماہانہ وصول کیا جاتا ہے اور بجلی بھی مفت فراہم کی جاتی ہے۔ لوئر اسٹاف کی کالونی میں موجودہ دکانوں سے بھی کی جاتی ہے۔ لوئر اسٹاف کی کالونی میں موجود دکانوں سے بھی بھتہ آتا ہے وہاں کی بجلی بھی فری ہے۔ جناح سندھ مڈیکل یونیورسٹی کا ٹیچنگ اسپتال بھی جناح ہے جس کا سندھ حکومت اور محکمہ صحت باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر چکے ہیں لیکن انتظامی افسران یہ فیصلہ بھی تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو ہاو¿س جاب کرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسپتال کو ملنے والی تین گاڑیوں میں سے دو گاڑیاں انتظامی افسران کے زیر استعمال ہیں۔ جناح اسپتال کی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اپنی شکایات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل تک پہنچائیں لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ جناح اسپتال کے انتظامی افسران کی کرپشن کے کیسز نیب اور ایف آئی اے پاس بھی ہیں۔ ایف آئی اے نے کچھ عرصہ قبل جانچ پڑتال شروع کی تھی لیکن ایف آئی اے سربراہ کے قریبی رشتہ دار ڈاکٹر کو گھر تحفے میں دے کر فائل بند کروا دی گئی۔ یہی حال نیب کے کیس کا ہوا۔ جناح اسپتال کی موجودہ حالت کے پیش نظر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ جناح اسپتال کا الحاق جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سے ہو چکا ہے لہذا اس کے وائس چانسلر کو اسپتال کا انتظام بھی سنبھالا چاہیے سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت 20 گریڈ کا افسر 21 گریڈ میں بھرتی نہیں ہو سکتا لیکن جناح اسپتال میں اس آرڈر کی نافرمانی کی جاری ہے۔ اور 20 گریڈ کے افسر ہائی گریڈ اسامی سنبھالے ہوئے ہیں اس مسئلے پر بھی انتظامیہ نے سندھ ہائی کورٹ سے اس نے آرڈر لیا ہوا ہے۔ جناح اسپتال گزرے وقتوں میں مثالی ادارہ ہوا کرتا تھا ملک بھر میں ڈاکٹرز یہاں سے بن کر جاتے تھے۔ ڈاو¿ یونیورسٹی اور سول اسپتال کی حالت اس وقت انتہائی خراب تھی لیکن جب سے ڈاو¿ یونیورسٹی کا الحاق اسپتال سے ہوا ہے تو اس نے ترقی کر کر لی ہے۔ 52 نئے یونٹس کھل چکے ہیں جبکہ جناح اسپتال وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لے رہا ہے حکومت سندھ اور وزارت صحت و چاہیے کہ صوبے کے سب سے بڑے شفاءخانے کو تباہ ہونے سے بچائیں ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کی اس قانونی جنگ میں نقصان غریب اور ہے بس مریضوں کا ہو رہا ہے۔
(بشکریہ نوائے وقت)

Open chat