Tuesday, October 27, 2020
Home خاص خبریں مذہبی و سیاسی جماعتیں اقوامِ متحدہ جونا گڑھ سے بھارتی قبضہ ختم کروائے،اقبال ساندھ

اقوامِ متحدہ جونا گڑھ سے بھارتی قبضہ ختم کروائے،اقبال ساندھ

Junaghdhجوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کے تحت بڑی احتجاجی ریلی سے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست جونا گڑھ پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ناقابل برداشت ہے،اقوامِ متحدہ جونا گڑھ سے بھارتی قبضہ ختم کروائے۔ حکمران و سیاستدان کشمیر کی طرح جونا گڑھ کا مسئلہ بھی عالمی سطح پر اُٹھائیں۔ حکمران بھارت سے دوستی لگانے اور تجارتی معاہدے کرنے کے بجائے بھارت سے اپنے مقبوضہ علاقے واپس لینے کے لیے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔ یومِ سقوط جونا گڑھ کو سرکاری سطح پر بُھلا دینا اور میڈیا کا توجہ نہ دینا انتہائی افسوس ناک ہے۔ جونا گڑھی عوام اپنی ریاست کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار ”یوم سقوطِ جوناگڑھ“ کے موقع پر جوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کے صدر اقبال ساندھ، جنرل سیکرٹری عبدالعزیز عرب، جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی، سنی اتحاد کونسل کے رہنما طارق محمود، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نجمی عالم، آل کاٹھیاواڑ سپریم کونسل کے رہنما محمد شعیب سمیت دیگر نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی ریلی جونا گڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کے صدر محمد اقبال ساندھ کی قیادت میں جوناگڑھ لان نیشنل اسٹیڈیم سے کراچی پریس کلب تک نکالی گئی۔ جس میں جوناگڑھ فیڈریشن سے منسلک 100 سے زائد جماعتوں کے نمائندوں اور جوناگڑھی عوام نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر فیڈریشن کے جوائنٹ سیکریٹری قاضی مصطفی، خازن فاروق شیخ اور جوناگڑھ فیڈریشن کے دیگر عہدیداران رفیق زہری، عبدالستار ترک، بشیر قریشی، یوسف شیخ، سید سجاد حسین، ناصر جمال، علی محمد پنجہ، امان اللہ ملک، محمد یوسف اورنگ آباد، عبدالرزاق و دیگر بھی موجود تھے۔ شرکاءنے پلے کارڈ اور بینر اُٹھا رکھے تھے جن پر ریاست جونا گڑھ کے حوالے سے جملے درج تھے۔ ریلی کے شرکاء”جونا گڑھ سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ“، ” قائد اعظم کا فرمان جونا گڑھ ہے پاکستان“ اور ”لے کر رہیں گے جونا گڑھ “ کے نعرے لگا رہے تھے۔ سینکڑوں Junaghdhگاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل ریلی پریس کلب پہنچنے پر جلسہ عام کی شکل اختیار کر گئی۔ جونا گڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کے صدر محمد اقبال ساندھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جونا گڑھی عوام بیدار ہوگئے ہیں۔ حکومت پاکستان ہمارے مسائل اور مجبوریوں پر توجہ دے۔ ہم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرکے کوئی جرم نہیں کیا۔ ہماری آواز کو اقوام متحدہ تک پہنچائے۔ ہم اپنے دعوے کو حقیقت میں بدل کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی تمام سماجی، سیاسی اور دینی جماعتوں کی قیادت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے مسئلہ جونا گڑھ کو اجاگر کریں اور کراچی میں بسنے والے لاکھوں جونا گڑھی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے فیڈریشن کا ساتھ دیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی طرح جونا گڑھ پر بھی فوجیں اتار کر غاصبانہ قبضہ کیا۔ ہندوستان نے آج تک پاکستان کوتسلیم نہیں کیا، وہاں مسلمانوں کی مساجد اور آبادیاں غیر محفوظ ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں نے اس امید پر ہجرت کی تھی کہ ایک دن اس ریاست سے ہندوستان کا قبضہ ختم ہوگا۔ آج وقت آگیا ہے، دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں بپا ہیں۔ اب جونا گڑھ کو بھی بھارتی تسلط سے آزاد کروانا ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے رہنما طارق محمود نے کہا کہ کشمیر کی طرح جونا گڑھ بھی پاکستان کا حصہ ہے، اسے فراموش نہ کیا جائے۔ 67 سال گزرنے کے باوجود آج بھی جونا گڑھ کے عوام کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہاں کا نواب اور اس کا خاندان اپنی ریاست چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں آج بھی کراچی میں مقیم ہیں۔ پاکستانی حکمران اقوامِ متحدہ میں جونا گڑھ کے مسئلہ کو اُٹھائیں۔ جو ریاست دو ماہ تک باقاعدہ آئینی و قانونی طور پر پاکستان کا حصہ رہی اس پر بھارتی قبضہ کے آج 67 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ حکمرانوں کی طرح ہمارے میڈیا نے بھی اسے بُھلا دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نجمی عالم نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے جونا گڑھ کو پاکستان کا حصہ بنایا تھا۔ مگرافسوس آج نئی نسل پاکستان میں شامل اس ریاست سے لاعلم ہے، جس پر بھارت نے 9 نومبر 1947ءکواپنی فوجیں اتار کر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کشمیر کی طرح اس مسئلہ کی جانب بھی اقوام متحدہ کی توجہ مبذول کروائے۔ فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل عبدالعزیز عرب نے کہا کہ کراچی میں 20 لاکھ سے زائد جونا گڑھی آباد ہیں۔ حکومت ان کے مسائل اور نواب آف جونا گڑھ کی مراعات بحال کرے اور بھارت سے آنے والے جونا گڑھی عوام کو شہریت دی جائے۔ کیونکہ وہ کل بھی پاکستانی تھے اور آج بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 67 سال گزرنے کے باوجود جونا گڑھی عوام اپنی ریاست سے بھارتی قبضہ ختم ہونے کی منتظر ہے۔ ریاست جونا گڑھ کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ پر پہلے سے موجود ہے۔ پاکستان ہماری آواز کو اقوام متحدہ تک پہنچا کر بھارتی تسلط ختم کروائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

بدھ اور جمعہ کو سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے

کراچی، سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بدھ اور جمعہ کو بند رہیں گے، ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعہ کو...

لیاقت آباد، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر حملہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم پر لیاقت آباد میں حملہ، ذرائع ایس بی سی اے کے مطابق لیاقت آباد...

گزری، نجی بینک میں آتشزدگی،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ

کراچی، گذری میں نجی بینک میں آتشزدگی، کنٹونمنٹ بورڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے کےلئے روانہ، ذرائع کے مطابق بینک میں...

کورونا وائرس، کاروباری اوقات میں کمی پر غور

کراچی، کورونا تیزی سے پھیلنے لگا، حکومت کا کاروبار اور تقریبات کے اوقات کار میں تبدیلی اور ایس او پیز پر سختی...