Monday, October 26, 2020
Home کالم /فیچر نیویارک اور کراچی (علی معین نوازش)

نیویارک اور کراچی (علی معین نوازش)

karachi21میئر کے تینوںدوستوں نے آ کے میئر کو بتایا کہ کس کس طرح انہوں نے قانون کی چھوٹی چھوٹی خلاف ورزیاں کی ہیں اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انکے چالان کر کے انہیں جرمانے کئے اورپھر باری باری میئر کے دوستوں نے بتایا کی کس طرح انہوں نے کلرا سپرے ٹن لے کر ایک دیوار پر کچھ غیر ضروری کلمات لکھنے کی کوشش کی کہ پولیس نے فوری کارروائی کر کے اسے وقتی طور پر حراست میں لے لیااور اسکو جرمانہ کرتے ہو ئے سخت وارننگ کر کے چھوڑا۔دوسرے دوست نے بتایا کہ وہ ایک ٹیلی فون بوتھ میں لگے فون اور بوتھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش میںپولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔جبکہ تیسرے دوست نے بتایا کی کس طرح اس نے کم کرایہ دے کر پبلک ٹرانسپورٹ پر لمبا سفر کر نے کی کو شش کی تو پولیس نے پکڑ لیا اوراس پر جرمانہ کیا۔میئر نے خوشی سے اپنی میز پر مکا مار ا اور تینوں دوستوںکو اپنی پرائیویٹ کار میں لے کرشہر کی شاہراﺅں پر نکل گیا اور ایک مارکیٹ کے باہر ایسی جگہ اپنی گاڑی کو پارک کر دیا۔جہاں نو پارکنگ کا بورڈ آویز اں تھا ابھی گاڑی پارک کی ہی تھی کہ پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی وہاں پہنچ گئی میئر کے ایک دوست نے پولیس کو بتایا کہ گاڑی کسی عام یا معمولی شخص کی نہیں ہے۔ بلکہ شہر کے میئر کی ہے۔ یوں باری باری میئر سمیت سارے دوستوں نے پولیس کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ شہر کا میئرشہر کا مالک ہوتا ہے۔ وہ جہاں چاہے کار پارک کر سکتا ہے۔ لیکن پولیس نے میئر اور اس کے دوستوں کی با ت سننے اور پرو ٹو کو ل دینے کی بجائے میئر کا چالان کاٹا اور جر ما نے کی چٹ میئر کے حوالے کر دی۔ میئر دوستوں کے ہمراہ واپس کار میں بیٹھا اور اپنے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا وہ سارے راستے یہی کہتا رہا I did it.۔ میں نے حاصل کر لیا۔ یہ شخص امریکہ کے شہر نیویارک کا میئرروڈی جیولانی تھا۔ جو نیویارک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر بہت پریشان تھا۔ جیولانی کے دور سے پہلے صرف 1990میں دولاکھ 8 ہزار 813 ڈکیتیاں تھیں۔ 2605 قتل ہوئے تھے 5368 جنسی حملے، 5 لاکھ 36 ہزار سے زائد چوریاں، لاکھوں ڈاکے اور نقب زنی کی وارداتیں، قبضے اور چھینا جپٹی کے واقعات نے نیویارک کو کرائم کے حوالے سے پوری دنیا میں بدنام کر رکھا تھا۔ اور جیولانی نے ان جرائم کو ختم اور کم کرنے کے لیے ایک حکمت عملی بنائی تھی۔ جسمیں پولیس کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں اس طرح متحرک کرنا تھا کہ بڑی بڑی وارداتوں کو روکنے سے پہلے چھوٹی چھوٹی وارداتوں کا خاتمہ کیا جائے نیویارک کے مجرمانہ ذہن لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ چھوٹی سی غلطی پر وہ نہ صرف گر فتا ر ہو سکتا ہے بلکہ اسے جر ما نہ بھی بھگتنا پڑے گا اور دو سری اہم با ت کے شہر کے میئر سمیت ہر بڑی شخصیت کے لئے ایک ہی قا نو ن ہے۔ اس کے لئے میئر نے پو لیس کو یہ اعتما د اوراختیا ر دیا کے میں یا کو ئی بھی با ا ثر شخصیت قا نو ن کی خلاف ورزی کرے اس کے خلا ف بلا تفر یق کا رر وا ئی کی جا ئے اور پھر میڈیا کے ذریعے ان با ا ثر لوگوں کی خلا ف ورزیا ں عوا م النا س تک پہنچا ئی جا ئیں۔ نیو یا ر ک کے میئر کی یہ حکمت عملی بہت کا میا ب رہی اور نیو یا رک میں جرا ئم کی شر ح لا کھو ں سے سینکڑوں میں آگئی۔ ڈکیت، چور، راہزن، قاتل، نقب زن، جنسی حملہ آور اوربڑے بڑے مجرمو ں کویہ یقین ہو گیا کہ وہ سزا سے نہیں بچ سکتے۔ نیو یا رک کے میئر کی حکمت عملی کا یہ بھی حصہ تھا کہ چھو ٹے جرائم سے عا دتاً یا مجبو راً مجرما نہ زند گی کا آغا ز کرنے والے بعد ازاں بڑے مجرم بنتے ہیں اور اگر چھو ٹے کرا ئمز پر قا بو پا لیا جائے توبڑے جرا ئم خو د بخو دکم ہو جا تے ہیں۔ اور یہ چیک کر نے کے لئے اس اپنے دو ستو ں اور خو د کو استعما ل کیا کہ اس کی حکمت عملی پر کام کا آغاز ہو گیا ہے۔ اور جب اسے یہ نظر آیا کہ ایسا ہو نے لگا ہے تو اسے یقین ہو گیا کہ اس نے جرائم کی بیخ کنی کہ لئے اسکی حکمت عملی اب ضرور با ر آور ثا بت ہو گی تو اسنے دو ستو ں کے سا منے نعرہ بلند کیا کہ I got it.۔ میں نے مقصد پا لیا،کراچی میں بڑھتے ہو ئے جر ائم کی بڑی وجو ہات بھی یہی ہیں کہ بڑی اور با اثر شخصیا ت گھرو ں سے لے کر اپنے کا رو با ری مراکز تک میں تجاوزات سے لے کر ٹیکس چو ری،کر پشن، ٹریفک کی خلا ف ورزیو ںکو جرم تصورہی نہیں کرتے بلکہ قتل تک کی وا ردات کرنے کے بعد بھی بچ نکلتے ہیں کیو نکہ یہا ں سب کے لئے ایک قا نو ن نہیں ہے۔ جبکہ عا م شہری جو چھو ٹے کرا ئم کوتفریح، عا دتاً یا مجبو ر اً شرو ع کرتے اور اس حو الے سے کو ئی قا نو ن نہ ہو نے یا قا نو ن نا فذ کرنے وا لے ادا رو ں کی صر ف نظری کی و جہ سے چوری، ڈکیتی، راہزنی، قتل حتیٰ کہ پو ری پو ری فیکٹری کو سینکڑو ںمزدوروں سمیت آگ لگا تے ہو ئے ان کے ہا تھو ں میں ذرا سی لغز ش نہیں آتی اور نہ ہی قا نو ن سے خوف محسوس کرتے ہیں تھا نے اور جیلیں ان کے لئے ڈرائنگ رومز اور بیڈ رومز سے زیادہ آرام دہ کر دی جا تی ہیں۔ لیکن جرائم کو کم کرنے کے لئے ایماندار پولیس کی بھر تی کرکے انہیں اس طر ح متحرک کر نے کی ضرورت ہے کہ قانون سب کے لئے ایک اور یکسا ں ہو بڑے مجرمو ں کی پکڑ دھکڑ کے ساتھ چھو ٹے جرا ئم والو ں کو بھی سزا اور قا نو ن کا احسا س دلا یا جا ئے تو کرا چی ایک با ر پھر سیاحت، بزنس حب اور روشنیوں کے شہر کے ٹائیٹل کے سا تھ پر امن بن سکتا ہے۔
بشکریہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...