Thursday, October 22, 2020
Home کالم /فیچر کراچی کیا چاہتا ہے؟ (سلمان صدیقی)

کراچی کیا چاہتا ہے؟ (سلمان صدیقی)

khiairکراچی شہر کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے بین الاقوامی منصب کو نظر اندا کرنے اور جدید خطوط پر اس کی تعمیر و ترقی کی ضرورت سے پہلو تہی ہے اور اس کے ذمہ دار حکومت اور سیاسی نظام کے وہ تمام اسٹیک ہولڈرز ہیں، جو اس شہر کواپنا کہتے ضرور ہیں، مگر اس کی اہمیت کے مطابق اسے آراستہ کرنے میں ناکام ہیں۔
دنیا سکڑ رہی ہے فاصلے سمٹ رہے ہیں، ملکوں کے مفادات میں یکسانیت آرہی ہے۔ عالمی سرمایہ منافع کے حصول کے لیے موزوں سرمایہ کاری کے مراکز تلاش کر رہے ہیں اور یہ سرمایہ کاری وہیں ہوگی، جہاں امن ہوگا، ہنر مندافردی قوت ہوگی۔ ترقی یافتہ ذرائع آمد ورفت ہوں گے۔ اہم جغرافیائی محل وقوع ہوگا۔ کوئی بھی خرد مند اس امرسے بے خبر نہیں ہوگا کہ سوائے امن اور ترقی یافتہ ذرائع سے محرومی کے، پاکستان کی آمدنی کا بنیادی مرکز و محور کم و بیش ڈھائی کروڑ آبادی والا شہر کراچی درج بالا تمام شرائط پر پورا اترتا ہے۔
اگر قومی مفادا کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اگر کراچی کو آج سے ربع صدی پہلے امن و امان، میٹرو بس، انڈر گراﺅنڈ ریل، شہر کے گرد رنگ روڈ، کم از کم دو مسافر ایئر پورٹس اور ملک کے کئی شہروں کی بندرگاہوں تک سمندری سفر کی سہولیات مہیا کر دی جاتیں تو آج نہ صرف ملک کی معیشت اپنے قدموں پر کھڑی ہوتی۔ بلکہ ملک کے تمام اہم شہروں کو یہ سہولتیں میسر آچکی ہوتیں۔ پاکستان کے وہ نادیدہ تھنک ٹینک، جو پالیسی سازی کرتے اور ارتقاءکی ترجیحات کرتے ہیں، وہ کیسے علاقائی مفادات پر مبنی اور ملک کے اجتمائی مفادات کے منافی فیصلے کر سکتے ہیں، مگر یہ فیصلے ہو رہے ہیں۔ یہ اسی قسم کے فیصلے ہیں، جو ماضی میں ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں، ماضی کے اسباق سے روگردانی کے نتائج سوچنے اور سمجھنے والوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔
کراچی ایک طرف تو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف یہ پاکستان میں مختلف صوبائی اور لسانی اکائیوں کی مشترکہ رہائش گاہ اور ذریعہ روزگار بھی ہے، اور یہاں ان اکائیوں کی تہذہبی آمیزش سے ایک کلچر فروغ پا رہا ہے، جو پاکستان کے قومی کلچر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس کا ایک امکانی ذیلی اثر یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ پاکستان کی تمام لسانی اکائیوں کا اجتماع بھی کراچی میں موجود ہے اور اس اجتماع کے اردو زبان سے امتزاج کے نتیجے میں پاکستان کی قومی زبان کی ایک نمائندہ پاکستانی شکل بھی نئی صورت میں سامنے آسکتی ہے۔
k paradoxofkarachiپاکستان کی تمام قومیتوں کے علاوہ دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ رہ گیا ہو، جس کا فرد کراچی میں موجود نہ ہو۔ آزادی کے 67 سال بعد بھی کراچی میں آبادی کے اضافی کی شرح ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں دگنی سے زیادہ ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے 1941ءکی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی تین لاکھ 86 ہزار تھی۔ 1951ءمیں پاکستان کی پہلی مردم شماری کے مطابق گیارہ لاکھ کے لگ بھگ تھی، گویا 10 سال میں 176 فیصد اضافہ ہوا، 1960ءتک اابادی میں اضافے کی شرح 8 فیصد رہی۔ جب کہ 1980ءسے کراچی میں آبادی کے اضافے کی شرح 6 فیصد ہے، جب کہ ملک کے دیگر حصوں میں یہ شرح آج بھی 3 فیصد ہے۔ کراچی کی آبادی کو نامعلوم وجوہات کی بناءپر اصل تعداد سے کم دکھایا جا تا ہے۔ 1981ءمیں کی گئی مردم شماری میں اس کی آبادی 52 لاکھ دکھائی گئی، جب کہ اس وقت بھی غیر سرکاری اعداد و شمارے کے مطابق یہ 70لاکھ سے زیادہ تھی، یعنی منصوبہ بندی 50 لاکھ کی آبادی کے لیے کی گئی، جب کہ حقائق اس کے برعکس تھے۔ نتائج شہر کی ابتر صورتحال کی صورت میں سب کے سامنے ہیں کہ یہی عدم توازن آج بھی موجود ہے۔ آج کراچی کی آبدی سوا دو کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ یہ تعداد کراچی ڈویژن کی ہے، لیکن اگر کراچی کو اپنا مرکز سمجھنے والی چار سمتوں میں سے ایک سمت سمندرکو چھوڑ کر تین سمتوں کی بات کی جائے تو یہ شہر ایک طرف ٹھٹھہ، دوسری طرف نوری آباد اور تیسری طرف حب تک کی آبادی کو اپنی سہولیات سے مستفید کرتا ہے۔ اس صورت میں تو اس کے وسائل کی تقسیم صرف مقامی سطح پر ساڑھے تین کروڑ نفوس تک جا پہنچی ہے۔ موجودہ کراچی ڈویژن کا رقبہ ساڑھے چار ہزار مربع کلومیٹر سے زائد ہو چکا ہے۔ یہاں پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ تجارت اور صنعتی بندرگاہیں ہیں۔ وسط ایشیا کی ریاستوں کی آزادی کے بعد اس کی حیثیت ”Gateway of Central Asia“ کی ہے۔ اس شہر کی بے چینی کی وجوہات میں کچھ پڑوسی ممالک کی طرف سے اس کی حیثیت کو مسخ کرنے کی خواہش کا بھی عمل دخل ہے۔ عالمی سطح پر اہمیت کے حامل کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے بین الاقوامی منصب کو نظر انداز کرنے اور جدید خطوط پر اس کی تعمیر و ترقی کی ضرورت سے پہلو تہی ہے اور اس کے ذمے دار مرکزی حکومت، صوبائی حکومت اور سیاسی نظام کے وہ تمام اسٹیک ہولڈرز ہیں، جو اس شہر کو اپنا ضرور کہتے ہیں، مگر اس کی اہمیت کے مطابق اسے آراستہ کرنے میں ناکام ہیں۔ شہر میں مسائل کے انبار کا ایک مختصر خاکہ یہ ہے کہ شہر میں انتظامی سہولتیں غائب ہیں، نہ شنوائی ہے نہ کوتاہی برتنے والوں سے بازپرس، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، صحت روزگار، اور عدالتی نظام زیادہ سے زیادہ سوا کرڑ لوگوں کا بوجھ اٹھا نے کی استطاعت رکھتاہے، جب کہ اس پر ڈھائی یا سوا دو کروڑ لوگوں کا بوجھ ہے۔ تمام شعبے اپنی ضروریات کے مطابق وسائل مانگ رہے ہیں اور شہر کے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے پاس ہمارے مسائل سننے لیے وقت نہیںہے۔ نہ صرف بد انتظا می عروج پر ہے، جب کہ اداروں کے درمیان موثر رابطوں ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی کا بھی فقدان ہے۔ ہم کراچی کو بین الاقوامی شہر کہتے نہیں تھکتے، مگر اسے بین الاقوامی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ کراچی وہ شہر ہے جہاں شاید زیر زمین تنصیبات کے بارے میں نہ کوئی ماسٹر پلان موجود ہے اور نہ کوئی اس بارے میں یقین سے کچھ بتا سکتا ہے۔ کیا اس کے بغیر زمین ریلوے کا کوئی نظام بنایا جا سکتا ہے۔
tanqedخبر ہر چند مہینوں بعد آتی ہے، مگر یہ شہر ماس ٹرانزٹ سسٹم 25 سال سے منتظر ہے۔ شہر کی بسوں میں ٹکٹ ہے اور نہ رکشوں، ٹیکسیوں میں میٹر نام کی کوئی چیر، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ بسوں کی چھتوں پر سفر کرنا ایک عام بات ہے۔ مغربی ممالک کی تو بات ہی کیا، ہمارے پڑوسی ملک نے بھی شہروں میں ریلوے کا زیر زمین نظام بنالیا ہے اور ہمارے لوگوں نے اس نظام کی صرف تصاویر دیکھی ہیں۔ کراچی میٹرو پولیٹن سٹی ہے۔ واضح رہے کہ کسی ملک کے سربراہ کی حیثیت رکھنے والے شہر کو میٹرو پولیٹن سٹی کہتے ہیں۔ کیا کراچی واقعی پاکستان کے شہروں کا سربراہ ہونے کے اوصاف رکھتا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو اب بھی وقت ہے کہ کراچی کو حقیقی معنوں میں میٹرو پولیٹن سٹی بنا دیا جائے اور اس کے اجتماعی مفاد میں فیصلے کیجئے اور عالمی معیشت کو پاکستان میں ڈیرے ڈالنے پر مجبور کر دیجئے۔ اس لیے کہ عالمی دولت سرمایہ کاری کے لیے جگہ ڈھونڈ رہی ہے۔یہ سرمایہ وہیں جائے گا جہاں امن ہوگا، ہنر مند افرادی قوت ہوگی، ترقی یافتہ ذروئع آمد و رفت ہوں گے، اہم جغرافیائی محل وقوع ہوگا اور سمندر ہوگا۔ کراچی یہی چاہتا ہے۔
بشکریہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ حکومت اور پولیس ڈرامہ کررہی ہے، شبلی فراز

کراچی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے ایک بار پھر سندھ پولیس کی چھٹیوں کی درخواست کو ڈارمہ قرار دے...

کراچی، مسکن چورنگی پر دھماکے کے زخمیوں کے علاج کے معاملے محکمہ صحت سندھ نے نجی اسپتال کو خط لکھ کر آگا...

کراچی میں جھڑپوں کی جھوٹی خبر،بھارتی میڈیا دنیا بھر میں رسوا

کراچی ،بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے اپنے ہی ریکارڈز توڑ دیے۔ بھارتی میڈیا اپنی اِس احمقانہ خواہش کو خبر...

کورونا وائرس، حکومت کا کئی شعبوں کی بندش پر غور

کراچی، نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس وفاقی وزیر اسد عمر کے زیر صدارت ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جس...