Wednesday, October 28, 2020
Home رہنمائے کراچی کراچی میں حیدرآبادی ریسٹورنٹ (عبدالولی خان)

کراچی میں حیدرآبادی ریسٹورنٹ (عبدالولی خان)

IMG_20150806_144153یہ کوئی آج سے لگ بھگ ڈیڑھ دہائی پہلے کی بات ہے میری کزن کا بیٹا عادل حسین ،جو کہ رشتے میں میرا بھانجا ہے لیکن عمر میں مجھ سے ڈیڑھ سال زیاد ہے ،ان دنوں نیپا کے قریب ایک اسپتال میں ملازمت کرتا تھا، ایک روز اس کے گھر پر بیٹھے تھے گفتگو ہو رہی تھی بات نکلی اسپتال کے پرہیزی کھانے کی تو پوچھا تم لوگ کیا کھاتے ہو، عادل نے جواب دیا ، روز روز اسپتال کا کھانا اپنے بس کی بات نہیں میں تو اکثر حیدرآبادی کھانے کھاتا ہوں ، میں پوچھا کیا کوئی ساتھ کام کرنے والا حیدرآباد ی تو اس کا جواب تھا نہیں بھائی گلشن میں موجود حیدرآبادی ریسٹورنٹ سے کھاتا ہوں۔چونکہ میں خود بھی چٹورا ہوںاس لئے سوچا اب کبھی گلشن کی جانب باہر کھانے کا موڈ ہوا تو اس ریسٹورنٹ کا کھانا کھائیں گے۔ایک روز میرا اکلوتا مستقل دوست شاہد خان اور میں نیوکراچی سے بائیک پر واپس آرہے کہ اچانک حیدرآبادی ریسٹورنٹ پر نظر پڑی تو فوراً بھوک چمک اٹھی بائیک سڑک کنارے لگائی اور حیدرآبادی ریسٹورنٹ میں پہنچ گئے ۔ آرڈر دیا جلد ہی کھانا آگیا اور گرم گرم روٹی ہاتھوں ہاتھ آتی رہی۔ یہاں یہ بات واضح کردوں کہ شاہد کی والدہ حیدرآبادی ہیں اور کھانے میں اس کا مزاج ’کھٹا ‘ہے،کھانا مزیدار تھا اور سستا بھی۔اس کے بعد جا نے کا اتفاق نہیں ہوا ، صحافت بھی شروع نہیں کی تھی لہذااس پر کچھ لکھنے کی جانب دھیان ہی نہیں گیا اور یہ بات ماضی کا قصہ ہو گئی۔

اگر آپ گلشن چورنگی سے نیپا جارہے ہیں تو الٹے ہاتھ بنی دکانوںمیں ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ بھی قائم ہے، جگہ بہت زیادہ بڑی نہیں لیکن سڑک چوڑی ہونے کی وجہ سے کرسیاں اور میز باہر لگانے کی بھی گنجائش ہے۔ ریسٹورنٹ کے مالک سے ملنے کا منصوبہ بنایا ،اس کے ایک دوست نذیر الحسن سے ملاقات کا وقت لینے کی درخواست کی انہوںنے اپنی ذمہ داری بہ احسن و خوبی انجام دیتے ہوئے ملاقات کا وقت لے لیا جو کہ کسی بھی دن مغرب کے بعد کا تھا ۔
چند روز قبل ریسٹورنٹ جانے کا ارادہ کیا اور مغرب کی نماز قریبی مسجد میں ادا کرکے حیدرآبادی ریسٹورنٹ پہنچ گیا ، کاﺅنٹر پر موجود بچے سے پوچھا یہاں کون ہوتا ہے اس نے کہا میرے والد میں پوچھا وہ کہاں ہیںتو کہنے لگا کہیں گئے ہیں بس آتے ہیں ہوںگے ۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور انٹرویو کی مزید تیار ی میں لگ گیا۔کچھ دیر ریسٹورنٹ کے مالک وجاہت بن سالمن آئے بیٹے نے بتایا کہ میں انتظار کر رہا ہوں، وہ آئے سلام دعاکی کہ اور کہا بس 5منٹ اور انتظار کریں میں سالن پکنے کے لئے رکھ دوں۔5منٹ میں کیا واپس آتے، ان کو آتے آتے 10منٹ لگ گئے۔ ساتھ بیٹھتے ہیں انہوںنے صحافی ہونے کا ثبوت مانگا اور پھر خود ہی وضاحت کرنے لگے آج کل صحافی بن کر کئی لوگ بلیک میل بھی کرتے ہیں خیر ان کو میرے صحافی ہونے کایقین آگیا اور گفتگو شروع ہوئی۔

ریسٹورنٹ کب سے ہے اور اس کا خیال کیسے آیا کے جواب میں وجاہت نے بتایا کہ والد صاحب ہیئر آئل کا کام کرتے تھے ، نامعلوم وجوہات کی بناءپر کام میں کمی آتی گئی اور مالی حالات خراب ہوتے چلے گئے جب گذارا بالکل بھی ممکن نہیں رہا تو ہم بھائیوںنے یہاں قریب ہی میں چکن سوپ کا اسٹال لگا لیا ، اللہ تعالی نے برکت دی کام بہت اچھا چلنے لگا تو ہماری مزید دلچسپی پیدا ہوئی اور1984میں دکان کرائے پر لی اورریسٹورنٹ شروع کردیا ۔ابتداءمیں والدہ سے کھانے پکوائے جن میںصرف بریانی اور بھگارے بینگن تھے ۔ لوگوں نے بہت پسند کیا تو باورچی رکھنے کا خیال آیا کیونکہ والدہ یا بہنوں سے مستقل بنیادوں پر کھانا پکوانا ممکن نہیں تھا۔اس وقت میں ساتویں یا آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔
سائن بورڈ پر خوب ڈشز سجی ہیں اس حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ حیدرآبادی کھانے پسند بہت کئے جاتے ہیں ان کو پیشہ وارانہ طور پر بنانے والے دستیاب نہیں، یہ بہت محدود کھانے بنا سکتے ہیں جیسے بریانی ، قورمہ ، کھٹی دال اور ایک دو میٹھی ڈشز۔ ورائٹی بڑھنے کی بھی دلچسپ کہانی ہے ۔ میں اپنے بھائی کے پاس گھومنے سوئیڈن چلا گیا ، وہاں میرے لئے کھانوں کا بہت مسئلہ تھا ایک دن کچن میں چلا گیا کہ خود کچھ پکاتا ہوں لیکن سمجھ نہیں آیا کہ کیسے پکاﺅں ، لیکن ولایتی کھانے نہ کھانے کے جذبے نے ہمت دی اور میں نے کھانا پکانا شروع کردیااور آہستہ آہستہ کافی ڈشز بنانے کی مشق ہو گئی ۔ پاکستان واپس آیا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ سے ایک سالہ کورس کر لیا اورگھر پر مختلف کھانوں کی مشق کر تا رہا۔ ایک روزباورچی کو کہیں کام سے جانا پڑگیاتو مجھے موقع مل گیا، کیونکہ عام حالات میں تو باورچی مالکان کو کچن میں آنے ہی نہیں کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں اگر انہوںنے کھانا پکانا سیکھ لیا تو ہماری چھٹی۔میں صبح ہی ریسٹورنٹ پہنچ گیا اور 12بجے تک تمام کھانے بنا لیے وہ آیا تو بہت حیران ہوا کہ میں اتنی جلدی سارا کام کیسے کر لیا ۔ اس روز کے بعد سے باورچی کا بلیک میلنگ کا آپشن ختم ہوگیا۔
انہوںنے بتایا کہ ریسٹورنٹ کلی کامیابی کی پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم تیل میں کھانے بناتے ہیں ، صفائی ستھرائی کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتاہے اور دام بھی مناسب ترین ہیں، سنتے تو یہی ہیں کہ ہوٹلوںمیں گلی سڑی سبزیاں اور غیر معیاری گوشت تک پکا دیا جاتا ہے ۔لیکن ٹماٹر میں سوراخ ہوتو اسے کھانے میں ڈالنے کا دل نہیں کرتا ۔قیمہ بھی کسی بڑے اسٹور سے لیتا ہوں ۔ مچھلی بھی خود چھانٹ چھانٹ کر لاتا جیسے انسان اپنے گھر کی خریداری کرتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے ابھی بھی میرا گھراور دکان دونوں کرائے کے ہیں۔کامیابی کی دوسری وجہ حیدرآبادی کھانے کا منفرد ذائقہ ہے ، ان میں ورائٹی بہت ہے اور مسالوں کا استعمال اس خوبصورتی سے کیا جاتا ہے کہ ہر سالن کااپنا منفرد ذائقہ ہے۔اب ذرا دال کی ورائٹی ہی دیکھ لیں میٹھی دال ، کھٹی دال، کھڑی دال ۔ حیدرآبادی کھانوںمیں کھٹائی کا استعمال ہوتا ہے لیکن ہر کھانے میں نہیںیہ تو ترکیب پر منحصر ہے۔
ریسٹورنٹ کی ٹائمنگ اور کھانوں کی ورائٹی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ میں تو صبح ساڑھے 7بجے کام شروع کر دیتا ہوں،لیکن کھانے 12بجے تک ہی تیار ہوتے ہیں جو کہ 4:30بجے فروخت ہیں ، اس کے بعد ریسٹورنٹ بند تو نہیں ہوتا لیکن مغرب تک وقفہ رہتا ہے اور مغرب کے بعد سے رات 11:30بجے تک ریسٹورنٹ میں گاہک آتے رہتے ہیں۔کھانوں میں حیدرآبادی بریانی، بھگارے بینگن، مرچوںکا سالن، کھٹی دال، آلو کا بھرتہ، قیمہ شملہ مرچ،چکن کڑاہی،کوفتے، قورمہ ، کڑی، پسندے ہوتے ہیں ۔مرغ چھولے اگرچہ حیدرآبادی ڈش نہیں لیکن گاہگوں کی فرمائش پر موجود ہیں۔جمعرات کو خصوصی طور پر مچھلی کا سالن تیارکرتے ہیں۔اپنی خاص ڈش کے بارے میں ان کا کہنا تھ کہ ہم تھالی اسپیشل دیتے ہیں اس میں5لذیذ سالن، پاپڑ، چاول اور چپاتی ہوتی ہے۔ کھانے سے ساتھ پاپڑ کھانے کے حوالے سے پوچھنے پر انہوںنے بتایا کہپاپڑ سے ذائقہ اچھا ہوتا ہے ، اور حیدرآبادی دال چاول کے ساتھ اچار اور پاپڑ نہ ہوں تو مزہ نہیں آتا۔
IMG_20150806_144405ریسٹورنٹ میں بیٹھنے کی گنجائش کم ہے اس لئے 60فی صد گاہک پارسل لے جاتے ہیں جبکہ40فی صد یہاں آکر کھاتے ہیں ، گاہکوںمیں بڑی تعدادآس پاس دوسروں شہروں سے پڑھنے کے لئے آنے والے مقیم اور دفاتر میں کام کرنے والوں کی ہے۔مزدور سے لے کر رکن قومی اسمبلی تک بہت شوق سے کھانا کھاتے ہیں ، لیکن وہ ارکان جن کا تعلق کراچی سے نہیں کیونکہ ریسٹورنٹ کی کوئی ٹپ ٹاپ نہیں ہے۔ریسٹورنٹ کا کام اس قدر محنت طلب ہے کام اور پھیلانے کی ہمت نہیں۔میرے خیال سے اس کام میں گھر کے بندے ہوںتوڈیلیوری کا کام بہتر ہو سکتا ہے ورنہ مسائل زیادہ ہوجاتے ہیں۔وجاہت نے بتایا کہ ریسٹورنٹ کے ابتدائی برسوں میں تقریبات کے لئے بھی خدمات فراہم کیںلیکن یہکچھ عرصے تک کیا، اس میں ریسٹورنٹ کا بہت حرج ہوااس لئے بند کردیا۔
اپنے ریسٹورنٹ کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے وجاہت کہتے ہیں کہ بلامبالغہ دعویٰ کرسکتا ہوں پورے شہر کیا پورے ملک میں کوئی ایسا ریسٹورنٹ نہیں جو حیدرآبادی کھانوں کی اس قدر وسیع رینج فراہم کرتا ہو۔اس کی سب سے بڑی باورچی کا نہ ملنا ہے کیونکہ شیف یا باورچی ہی کسی بھی ریسٹورنٹ کی ریڑھ کی ہڈی ہوتاہے ، اور میں اس کام میں خود شامل ہوں اور جہاں میں کچھ پکانے میں پھنس جاتا ہوں بہن کو فون کیا اور سمجھ لیا۔
مشکل شب و روز میں اپنے لئے وقت نکالنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے بارے میں ان کا جواب تھا کہ میں تفریح صرف رمضان میں کرتا ہوں کیونکہ اگر ریسٹورنٹ کھلا ہو اور میں یہاں نہ بھی ہوں میرا دل یہیں پر ہوتا ہے تو میں جہاں گیا ہوتا ہوں وہاںتفریح کیا توجہ بھی مرکوز نہیں کر سکتا۔عید کے دنوںمیں بھی چھٹیاں ہوتی ہیں۔اتوار کو کام بہت کم ہوتا ہے کیونکہ دفاتر کی چھٹی ہوتی لیکن مستقل گاہکوں کی وجہ سے ریسٹورنٹ کھولنا پڑتا ہے۔پہلے حالات خراب ہوتے تھے یا ہڑتال تو آرام مل جاتا تھا لیکن اب اللہ کا شکر ہے یہ سلسلہ بہت کم ہو گیا ہے اس لئے مسلسل کام جاری ہے۔
مستقبل میں کام کو وسعت دینے کے بارے میں پوچھنے پر وہ ایک بول پڑے نہیں بھائینہیں بالکل نہیں میں صرف ضرورت کے تحت کام کرتا ہوں، اپنی صحت برقرار رکھنا چاہتا ہوں ، کام میں مشکلات بہت ہیں طرح طرح کے لوگ آتے ہیں ،سب کو دیکھنا پڑتا ہے ،اس لئے بیٹے کو بھی اس کام میں نہیں لایا،وہ کراچی یونیورسٹی سے بی سی ایس کر رہا ہے اور بیٹی ڈاﺅ میڈیکل کالج میں ہے۔یعنی جب تک آپ نے چلایا ٹھیک، آپ کے بعد ریسٹورنٹ بند ہو جائے گاتو وہ تھوڑا مسکرائے اور کہاجی ہاں ایسا ہی ہے ، کام میں مشکلات ہیں ، طرح طرح کے لوگ آتے ہیں سب کو لے کر چلنا آسان نہیں۔ بھائی میرے بیرون ملک میں مقیم ہیں وہ شروع ہی سے اس کام میں نہیں ہیں۔
کھانے پینے کے کام میں آدھو آدھ کی بچت ہے،اس بارے میںان کی رائے ہے کہ یہ بات بالکل درست تو نہیں لیکن اس کا دارومدار سیل پر ہے کیونکہ ایک حد تک آپ کے اخراجات تو مخصوص ہوتے ہیں صرف مٹیریل کے پیسے لگتے ہیں دیگر خرچے نہیں ہوتے تو منافع کی شرح بڑھ جاتی ہے ،لیکن میں پھر کہوں گا یہ اس کے لئے سیل بھرپور ہونی چاہیے۔دو نمبریاں کی جائیں تو منافع بڑھ سکتا ہے لیکن میرا دل نہیں مانتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک، دوسرا زخمی

کراچی:کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، پولیس کے مطابق کورنگی کبڈی گراؤنڈ 2 ڈاکو اسلحہ کے زور پر لوٹ مارکررہے تھے ،ملزمان نے...

رینجرز کا بلدیہ ٹائون میں فری میڈیکل کیمپ

کراچی، سندھ رینجرزکابلدیہ ٹاون میں فری میڈیکل کیمپ، میڈیکل اسپیشلسٹ، بچوں کےماہرڈاکٹرسمیت مختلف امراض کےڈاکٹرز نےمریضوں کاچیک اپ کیا ، کیمپ...

ایف بی انڈسٹریل ایریا، جعلی پولیس اہلکار گرفتار

کراچی:ایف بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس کاروائی،جعلی پولیس اہلکارگرفتار،پولیس کے مطابق ملزم احسن نے پولیس کیپ پہنےاورموٹرسائیکل پرایکسائزکانشان لگایا ہوا تھا ،...

جماعت اسلامی کا مارچ، فرانسیسی صدر کا پتلا نذرآتش

کراچی ، جماعت اسلامی کراچی کے تحت گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج میں فرانسیسی صدر کا پتلا نذر آتش۔ ذرائع کے مطابق...