Saturday, October 31, 2020
Home کالم /فیچر گِدھ کا گھیرا (محمد آصف)

گِدھ کا گھیرا (محمد آصف)

1اس شہر میں دنیا کا شاید ہی ایسا کوئی ملک ہو جس کا شہری یہاں نہ رہتاہو۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کراچی کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن اس شہر امن کے ساتھ سلوک سوتن والا ہی کیا جاتا ہے۔ جس کی مثال ہمیں کراچی میں جاری کردہ منصوبوں اور ان پر کام کی رفتار سے اندازہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ پاکستان کے سیاست دان اپنا مستقبل پاکستان کی بجائے دوسرے ممالک میں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور پاکستان کی عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹ کر اپنے بچوں کو اعلٰی تعلیم دلونے کے بہانے بیرون ممالک میں ان کو بھیج دیتے ہیں اور وہاں اپنا پیسہ بھیجتے رہتے ہیں۔کراچی کو جہاں ریڑھ کی ہڈی تسلیم کیا جاتا ہے وہیں اس کے مسائل کو بھی حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے لیکن افسوس ہر سیاسی جماعت کراچی کے مسائل حل کرنے کے نام پر ووٹ تو لیتی ہے لیکن ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے عوام کی مشکلات میں سوائے اضافے کے اور کچھ نہیں کرتی ہیں۔
کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کا ہے شرم کی بات یہ ہے کہ کراچی میں پانی کے اس شدید بحران کے باوجود پانی کی فراہمی کے منصوبے K-4 کے لیے نہ وفاقی حکومت اپنے حصے کی رقم ادا کر رہی ہے اور نہ صوبائی حکومت۔ کراچی محکمہ واٹر بورڈ کا کہنا ہے کہ K-4 منصوبے پر عملدرآمد کے لیے 2016-2015ءکے بجٹ میں 15 ارب روپے رکھے جانے چاہئیں۔ واٹربورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں
4
مالی سال میں وفاقی حکومت نے 20 کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن صرف 8 کروڑ روپے دیے گئے۔ سندھ حکومت نے اس منصوبے کے لیے 84 کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن ایک پائی بھی ادا نہیں کی گئی، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور کراچی کی عوام ان کے درمیان خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ۔اور انہی باتوں کی وجہ سے وہ سیاست دان جو کراچی کی عوام کے سامنے ان مسائل اور کئی اور مسائل کو اجاگر کرکے لسانیت کا استعمال کر کے ووٹ حاصل کرتے ہیں اور لوگوں کو استعمال کرتے ہیں ۔
2
2013کے الیکشن کے بعد کراچی کے عوام بہت ہی زیادہ خوش تھی اس کی وجہ شاید نواز شریف کا حکومت میں آنا نہیں تھا بلکہ کراچی میں ایک نئی سیاسی جماعت کا سیٹیں لینا تھا ۔لیکن افسوس وہ جماعت بھی کراچی کے حقیقی مسائل کو نہ سمجھ سکی اور ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے اس نے کراچی ہی نہیں پورے پاکستان کی سیاست کو دھرنے کی نظر کردیا اور کراچی کی عوام ہر دفعہ کی طرح لسانیت کی دلدل میں گھسنا شروع ہو گئی۔ پورے پاکستان میں پاک فوج نے جس وقت ضرب عضب پریشن شروع کیا اس میں بلوچستان اور کراچی کو بھی فوکس کیا گیا۔ پچھلی اور موجودہ تمام حکومتیں کراچی میں بھارت خفیہ ایجنسی ” را” کا ذکر تو کرتی تھی لیکن سیاسی مفادات کے پیش نظر کوئی ایکشن نہ لیا جاتا تھا۔ لیکن2013 کے الیکشن کے بعد سے شروع ہونے والے ضرب عضب آپریشن میں پاکستان رینجرز کو کراچی میں آپریشن کلین اپ کا ٹاسک دیا گیا جو بخوبی سر انجام دیا گیا اور کراچی میں دشمن کے نیٹ ورک کو توڑنے کے ساتھ ساتھ پکڑا بھی جس کی مثا ل ایم کیو ایم کے مرکز کے پاس سے برآمد ہونے والے اسلحے سے لگایا جا سکتا ہے یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری سے گینگ وار جیسی فورسز کا خاتمہ کیا اور کراچی میں جو علاقے نو گو ایریاز بنے ہوئے تھے ان کا خاتمہ کیا۔کراچی میں ایم کیو ایم1990کی دہائی تک ایک ہی جماعت تھی لیکن 1992کے آپریشن کے بعد یہ جماعت دو حصوں میں بٹ گئی اور اب 2016 میں یہ مزید ایک اور حصے میں بٹ گئی ایم کیو ایم پاکستان۔ بقول ایم کیو ایم پاکستان کے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ایم کیو ایم لندن سے لیکن فاروق ستار آپ انگاروں پر کھڑے
3
ہوکر بھی بولیں گے تو ہمیں اس کا یقین نہیں آئے گا اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہیں کہ آپ جن لاپتہ افراد کا ذکر کر رہے ہیں ان کا کراچی کے سکون کو تباہ کرنے میں بہت بڑا ہاتھ تھا اورآپ سمیت سب لوگ جو آج ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ہیں ان کی پالیسی آج بھی لسانیت سے بھرپور اور ایم کیو ایم لندن جیسی ہے صرف فرق اتنا ہے کہ آج الطاف حسین نہیں بول رہے لیکن الفاظات سارے وہیں سے آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس جو ووٹ بینک ہیں وہ الطاف حسین کے نام پر ہے۔ 2013 میں ایم کیو ایم سے بچھڑنے والے اور 2016 میں کراچی کی سیاست میں ہلچل مچانے والے کراچی کے سابقہ میئر نے ایک نئی پارٹی بناکر نہ صرف لا تعلقی کا اعلان کیا بلکہ اپنی جماعت کا نام بھی ایم کیو ایم نہیں رکھا۔ لیکن سوال یہی اٹھتا ہے کہ کراچی کی عوام نے کیا ان کو قبول کر لیا؟ الطاف حسین پر پابندی کے بعد کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے کراچی شہر میں اپنی تنظیم سازی کو دوبارہ سے شروع کیا اور وہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب کراچی میں ہم اپنا ووٹ بینک بنا سکتے ہیں اس کی مثال میں صرف اتنی ہی دوں گا کہ ایک کہاوت تو سنی ہو گی جوتے میں دال بٹنا تو شاید اب وہ کراچی میں فٹ بیٹھی ہے۔ اس شہر میں ایک جماعت کو بھاری اکثریت سے کراچی میں اب کامیابی نہیں مل سکتی اگر مل سکتی ہے تو صرف اس جماعت کو جو کراچی کے مسائل کو بخوبی حل کریں اور کراچی کو ایک مرتبہ پھر سے ترقی کی راہ پر چڑھا دیں۔
asef2009@outlook.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...