Tuesday, December 1, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ظفراللہ جمالی کی موت، جھوٹی خبر پر عارف علوی معذرت خواہ

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی موت کی غلط خبر دینے والی ٹویٹ کو ہٹادیا ، ڈاکٹر عارف...

گیس کی سپلائی بہتر ہوگئی، سوئی سدرن گیس کمپنی کا دعویٰ

سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ تین روز قبل ہونے والی سسٹم کی خرابی دور کرلی گئی ہے، ترجمان سوئی سدرن گیس...

پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل4 روپے فی لیٹر مہنگا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل، پیٹرول ،مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ جبکہ ڈیزل کی قیمت...

میرظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ، حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ ، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کا دورہ پڑنے پر اے ایف آئی...

کراچی بندرگاہ پر کسٹم نے گوسلو پالیسی اختیار کرلی

karachi portکراچی، پاک افغان باڈر بند ہونے پر کراچی بندرگاہ پر کسٹم نے گوسلو پالیسی اختیار کرلی ۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی مد میں ماہانہ 3 ہزار سے ساڑے تین ہزار کنٹینرز اور یومیہ سو سے زائد کنٹینرز کی آمد ورفت ہوتی ہے ۔کسٹم حکام کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں باڈر پر کنٹینرز کو رکھنے اور ان کے حفاظت کا بڑا مسئلہ ہے ۔

کراچی پورٹ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کو گو سلو پالیسی کے تحت چلایا جائے گا ۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سینئر ممبر قاضی زاہد کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر ماہانہ3 ہزار سے 3500 ہزار کنٹینرز کی آمد و رفت ہوتی ہے ، افغان ٹرانزٹ کا 40 فیصد کارگو کراچی، کوئٹہ اور چمن سے جاتا ہے ۔60 فیصد افغان ٹرانزٹ کا کارگو پشاور ،تورخم سے جاتا ہے ۔ افغانی تاجروں کی شپمنٹ بھی پائپ لائن میں ہے، مزید مال بھی آنے والا ہے ۔

دوسری جانب افغانستان سے واپس خالی آنے والے کنٹینرز بھی باررڈ پر رکے ہوئے ہیں ۔کسٹم ایجنٹس کے سنیئر ممبر کا کہنا ہے کہ پورٹ پر مال روکنے پر بھاری کرایہ اور ٹرمینل چارجز لگتے ہیں ۔40 فٹ کے ایک کنٹینر پر 5 ہزار روپے یومیہ اور 20 فٹ کنٹینر پر 2500 روپے تک کرایہ دینا پڑتا ہے جبکہ شپنگ لائن کے کنٹینرز پر ڈٹینشن کی مد میں سو سے دو سو ڈالر وصول کیا جاتا ہے ۔بارڈ بند ہونے پر کوئی بھی کنٹینر لے جانے کے لئے بھی تیارنہیں ہے۔

Open chat