Tuesday, October 20, 2020
Home کالم /فیچر کراچی: بے ہنگم ٹریفک، ذمہ دار کون؟ (مصباح الدین فرید)

کراچی: بے ہنگم ٹریفک، ذمہ دار کون؟ (مصباح الدین فرید)

trafic7یوں تو کراچی شہر مسائل کی آماجگاہ ہے لیکن ایک اہم مسئلہ کراچی میں ٹریفک کا بھی ہے۔ شہر میں ٹریفک جام سے کروڑوں روپے کا ایندھن اور لاکھوں لوگوںکا وقت ضائع ہوتا ہے، جس کے باعث نہ صرف لوگوں میں چڑچڑاپن اور بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے بلکہ آپس میں غیر اخلاقی رویوں کے باعث بیشتر شہری بے عزتی و بے توقیری کابھی شکار ہوتے ہیں۔
شہریوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا بہتر بندوبست بنانے کے لیے سب سے پہلی ضرورت کراچی کی آبادی کا صحیح تعین کرنا ہے کیونکہ صحیح معلومات کے بغیر ٹرانسپورٹ یا کوئی بھی بنیادی سہولت مہیا کرنا دشواری ہی نہیں نا ممکن ہے۔ کراچی میں ٹریفک میں اضافے کی وجہ پرائیویٹ بسوں اور سرکاری بسوں کا نظام تقریبا محدود ہو کر رہ گیا ہے اور بیشتر لوگ ان گاڑیوں کی چھتوں تک سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ منی بسوں میں انکی ساخت کی بنا پرسفر لوگوں کو پریشانی کا شکار کر دیتا ہے اور ان کے عجیب و غریب طویل روٹ شہریوں کو تھکا دیتے ہیںکراچی میں مہنگائی کے سبب متوسط طبقے کے لیے ٹیکسی سروس کا استعمال محال کر ہوکر رہ گیا ہے۔ سستی مگر خطرناک سروس رکشہ اور چنگچی رکشے شہریوں کے لیے سہولت ضرور ہیں مگر یہ سروس کراچی کے رہے سہے ٹریفک کے نظام کو برباد کرنے اور حادثات کی شرح بڑہانے کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں لیزنگ کمپنیوں کی جانب سے لیز پر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوںکی فراہمی نے بھی شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں بے حد اضافہ کردیا ہے،اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کی عدم جانچ پڑتال کی بناءپر لاپرواہ ڈرائیونگ میں بے پناہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں حادثات کی شرح میں اضافہ دکھائی دیتا ہے۔ پرائیویٹ اور کمرشل سیکٹر میں 80 فیصد سے زائد افراد بغیر ڈرائیونگ لائیسنس کے گاڑیاں چلا رہے ہیں، کم عمر رکشہ ڈرائیوروں کی بڑی تعداد کے پاس لائیسنس تو درکنار شناختی کارڈ بھی نہیں ہوتا۔

trafic5گاڑیوں کی فٹنس، دھواں ،ہولناک ہارن، سامان کی اوور لوڈنگ، بسوں اور منی بسوں کی چھتوںپر سفر، کراچی کی مخدوش سڑکیں، کھلے میں ہول کا بہتا ہوا پانی، برساتی نالوں کا اوور فلو ہوکر سڑکوںپر آجانا، سڑکوں پر قائم کچی اور پکی تجاوزات، ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی، ٹریفک منیجمینٹ قوانین کی عدم موجودگی، فلیٹوں اور دفاتر میں کار پارکنگ کی سہولت کا نہ ہونا یہ تمام چیزیں بھی ٹریفک کے نظام کو متاثر کرنے میں پیش پیش ہیں اور ان ہی وجوہات نے کراچی میں ٹریفک کے مسئلے کو گمببھیر بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر قائم فروٹ منڈیاں، بکرا منڈیاں، سبزی منڈیاں، لنڈا بازار و دیگر استعمال کی چیزوں کی منڈیاں و بازار تقریبا آدھی سڑکوں پر قائم ہیں۔ شہر میں ایک ہی جانب تجارتی مراکز کا ارتکاز اور ہول سیل مارکیٹوں، شاپنگ سینٹرز اور فوڈ اسٹریٹ نے ٹریفک کی روانی کو ختم کر دیا ہے۔ شہر کے وسط میں بسوں، ویگنوں و ٹرکوں کے اڈے اور گاڑیوں کے شورومز کی بھر مار اس مسئلے کو بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہرکی مصروف ترین سڑکوں پر قائم منی ریسٹورنٹ، چائے کے ہوٹل اور مکینک شاپس، شادی ہال کے اطراف کھڑی سینکڑوں گاڑیاںبھی ٹریفک کوجام کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
دن دہاڑے شہر کی مصروف شاہراہوں پر رواں دواں ٹینکرز سے گرنے والا آئل اور پانی سڑکوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ حادثات کا بھی سبب بنتا ہے، یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکوں کے نیچے بچھا ہوا سیوریج کا نظام تیں ہزار گیلن یا 21 ٹن سے ذیادہ کا وزن برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر اب شہر میں 5 ہزار لے کر 10 ہزار گیلن پانی اور تیل لے جانے والے ٹینکرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جس کے باعث اکثر میں ہولز کے ڈھکن آپ کو ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص اوقات کی پابندی پر عمل نہ کرتے ہیوی ٹرالرز بھی چھوٹی گاڑیوں کے لیے خطرہ بنے ہوتے ہیں۔
trafic5شہر کے تمام فٹ پاتھوں اور خالی جگہوں پر نرسریاں قائم ہوگئی ہیں اور تمام آئی لینڈ پر غیر قانونی ہورڈنگز لگادیے گئے ہیں جس کے باعث پیدل چلنے والے بھی سڑک پر چلتے ہیں اور یہ ٹریفک میں خلل کا بڑاسبب بنتے ہیں۔ بجلی کے بحران کے سبب فٹ پاتھوں پر رکھے دیو قامت جنریٹرز اور سڑکوں کے کنارے پڑے تعمیراتی سامان اور ملبے کی وجہ سے بھی سروس روڈز پر ٹریفک جام رہتا ہے۔ شہر میںVIP شخصیات کی آمدورفت، پریس کلب، ریگل چوک، نمائش چورنگی یا شہر کے کسی بھی مقام پر عوامی احتجاج بھی ٹریفک کے نظام کو جام کر دیتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے ٹریفک منیجمنٹ پلان کے تحت وقت کے اعتبار سے سڑکوں پر گاڑیوںکی آمد و رفت ممنوع قرار دی جائے، مخصوص روٹ بنائے جائیں اور اسی طرح دفاتراور شاپنگ سینٹرز کے اوقات کار بھی آگے پیچھے کیے جائیں۔
عام طور پر ٹریفک پولیس کو کراچی میں ٹریفک کی بد نظمی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ شہر میں قانونی حکمرانی، عوامی شعور اور تحمل و برداشت کی کمی ہے۔ کراچی میں کم از کم بڑی شاہراہوں پر لین مارکنگ کرکے کراچی کے ٹریفک کے نظم میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کراچی میں کم از کم 200 سے زائد ایسے مقامات ہیں جو ) Chronic Point دائمی مقامات) کہلاتے ہیں جہاں کسی بھی شکل میں ٹریفک جام ہوتا ہے، اگر ان 200 مقامات کو بھی پلاننگ کے تحت رواں کر دیا جائے تو 25 فیصد ٹریفک کے مسائل ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ کی مختف مارکیٹوں سے 955 کورونا کیسز رپورٹ

محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مارکیٹوں، دفاتر، ہوٹلوں اور ڈینگی و پولیو کے رضاکاروں سمیت 2087 افراد...

سندھ حکومت کا کیپٹن صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان،

سندھ حکومت کا کیپٹن صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان،مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ 3...

یہ کراچی کی تاریخ کاسب سےبڑاجلسہ تھا،مرادعلی شاہ

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ کہ یہ کراچی کی تاریخ کاسب سےبڑاجلسہ تھا،جلسے کے بارے...

غصے میں عقل جاتی رہتی ہے

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل کا حکمران چیتا، غصے میں آگیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے مخالفوں...