Sunday, October 25, 2020
Home Trending شہر قائد کی آبی ضروریات | مختصر ڈاکومینٹری

شہر قائد کی آبی ضروریات | مختصر ڈاکومینٹری

کراچی کی آبی ضرورتیں…. کراچی کی آبی ضرورتیں…. کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی کی آبی ضرورتیں کن ذرائع سے پوری ہوتی ہیں؟ اگرچہ کراچی بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ تاہم اس ساحلی شہر میں پینے کے لیے صاف پانی ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ برطانوی دور میں ملیر ندی کے قریب ڈملوٹی کے مقام پر پانی کے حصول کے لیے کنویں کھودیں گئے تھے۔ لیکن زیر زمین ذخیرہ آب اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد ٹھٹھہ کے قریب کینجھر جھیل سے شہر قائد کے لیے پانی کی ترسیل پر کام شروع کیا گیا۔ مختلف وقتوں میں کینجھر جھیل سے تین بڑی لائنیں شہر کراچی کے لیے نکالی گئیں۔ اب ”کے فور“ کے نام سے کراچی کے لیے چوتھی بڑی لائن پر کام جاری ہے۔ کینجھر جھیل کے علاوہ کراچی کا دوسرا بڑا ذریعہ آب حب ڈیم ہے۔ یہ ڈیم سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر حب کے مقام پر 1980ءمیں تعمیر کیا گیا۔ مون سون کی حالیہ بارشوں میں ایک طرف اہل کراچی کو نکاسی آب کے مسائل کی وجہ سے سخت آزمائش سے گزرنا پڑا۔ تو دوسری جانب انہیں یہ خوش خبری بھی سننے کو ملی کہ حب ڈیم 139 فٹ کی حد عبور کرچکا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ شہر کا یہ دوسرا بڑا ذریعہ آب حب ڈیم مکمل بھر چکا ہے۔ واضح رہے شہر قائد کے ضلع غربی اور بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے بعض علاقوں کو پانی فراہم کرنے والا حب ڈیم 13 سال بعد مکمل بھر گیا۔ دو سال قبل بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے حب ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول پر پہنچ گیا تھا۔ جس کی وجہ سے حب ڈیم سے پانی کی سپلائی بند کرنا پڑی تھی۔ حب ڈیم آخری مرتبہ سال 2007 میں مکمل طور پر بھر گیا تھا۔ واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق حب ڈیم میں پانی کا یہ ذخیرہ تین سال تک کراچی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ 45کلو میٹر کے علاقے تک پھیلے حب ڈیم سے دو نہریں نکلتی ہیں۔ جن میں سے ایک کینال حب ڈیم کے اطراف میں بلوچستان کے زرعی علاقوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اور دوسرا کینال کراچی میں منگھوپیر کی جانب پانی سپلائی کرتا ہے۔ جہاں سے کراچی کے ضلع غربی کے لیے پانی کی ترسیل کی جاتی ہے۔ حب کینال کے ذریعے یومیہ 100 ملین گیلن پانی کراچی سپلائی کیا جاتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کراچی کے بیشتر علاقے سالہا سال شدید آبی قلت کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی اہل کراچی یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ حب ڈیم تو بھر چکا۔ لیکن حکام بالا کے پیٹ کب بھریں گے؟ کیا اب بھی ہم حب ڈیم کا پانی ٹینکر مافیا کے ذریعے ہی حاصل کریں گے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی کی آبی ضرورتیں کن ذرائع سے پوری ہوتی ہیں؟ اگرچہ کراچی بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ تاہم اس ساحلی شہر میں پینے کے لیے صاف پانی ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ برطانوی دور میں ملیر ندی کے قریب ڈملوٹی کے مقام پر پانی کے حصول کے لیے کنویں کھودیں گئے تھے۔ لیکن زیر زمین ذخیرہ آب اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد ٹھٹھہ کے قریب کینجھر جھیل سے شہر قائد کے لیے پانی کی ترسیل پر کام شروع کیا گیا۔ مختلف وقتوں میں کینجھر جھیل سے تین بڑی لائنیں شہر کراچی کے لیے نکالی گئیں۔ اب ”کے فور“ کے نام سے کراچی کے لیے چوتھی بڑی لائن پر کام جاری ہے۔ کینجھر جھیل کے علاوہ کراچی کا دوسرا بڑا ذریعہ آب حب ڈیم ہے۔ یہ ڈیم سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر حب کے مقام پر 1980ءمیں تعمیر کیا گیا۔ مون سون کی حالیہ بارشوں میں ایک طرف اہل کراچی کو نکاسی آب کے مسائل کی وجہ سے سخت آزمائش سے گزرنا پڑا۔ تو دوسری جانب انہیں یہ خوش خبری بھی سننے کو ملی کہ حب ڈیم 139 فٹ کی حد عبور کرچکا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ شہر کا یہ دوسرا بڑا ذریعہ آب حب ڈیم مکمل بھر چکا ہے۔ واضح رہے شہر قائد کے ضلع غربی اور بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے بعض علاقوں کو پانی فراہم کرنے والا حب ڈیم 13 سال بعد مکمل بھر گیا۔ دو سال قبل بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے حب ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول پر پہنچ گیا تھا۔ جس کی وجہ سے حب ڈیم سے پانی کی سپلائی بند کرنا پڑی تھی۔ حب ڈیم آخری مرتبہ سال 2007 میں مکمل طور پر بھر گیا تھا۔ واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق حب ڈیم میں پانی کا یہ ذخیرہ تین سال تک کراچی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ 45کلو میٹر کے علاقے تک پھیلے حب ڈیم سے دو نہریں نکلتی ہیں۔ جن میں سے ایک کینال حب ڈیم کے اطراف میں بلوچستان کے زرعی علاقوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اور دوسرا کینال کراچی میں منگھوپیر کی جانب پانی سپلائی کرتا ہے۔ جہاں سے کراچی کے ضلع غربی کے لیے پانی کی ترسیل کی جاتی ہے۔ حب کینال کے ذریعے یومیہ 100 ملین گیلن پانی کراچی سپلائی کیا جاتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کراچی کے بیشتر علاقے سالہا سال شدید آبی قلت کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی اہل کراچی یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ حب ڈیم تو بھر چکا۔ لیکن حکام بالا کے پیٹ کب بھریں گے؟ کیا اب بھی ہم حب ڈیم کا پانی ٹینکر مافیا کے ذریعے ہی حاصل کریں گے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...