Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

کراچی کا آبی بحران (فاروق اعظم)

karachi-crowdsروز بروز بڑھتی آبادی کے باوجود فراہمی آب کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں کی گئی
کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں سب سے زیادہ ٹیکس دیا جاتا ہے، اس کے باوجود اس شہرکا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ بحران کی نوعیت سیاسی ہو یا معاشی، ہر بحران کاری ضرب ہی لگاتا ہے۔ تاہم آبی بحران کو درجہ امتیاز اس لیے حاصل ہے کہ ”پانی زندگی ہے“۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حیات انسانی کا دارومدار ہی پانی پر ہے۔ کرہ ارض کا 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، لیکن اس میں سے قابل استعمال پانی 0.07 فیصد ہے۔ ویسے شہر کراچی کو معاشی حب ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کا کنارہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں پانی کی کمی تو نہیں، لیکن قابل استعمال پانی کا بحران ضرور ہے۔ 2 کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا یہ شہر صاف پانی کے حصول کے لیے تین ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔ پانی کا پہلا بڑا ذریعہ دریائے سندھ ہے۔ حیدرآباد کوٹری بیراج سے دریائے سندھ کے پانی کو کینجھر جھیل ٹھٹھہ کی طرف موڑا گیا ہے۔ کینجھر جھیل سے کراچی کو فراہمی آب منصوبے کا آغاز 1953ءمیں ہوا تھا۔ اس جھیل سے واٹر بورڈ نے کراچی کے لیے چار بڑے فیز لے رکھے ہیں۔ پانی کے یہ چاروں فیز دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے ہوکر شہر کی طرف آتے ہیں۔ فراہمی آب کا دوسرا بڑا ذریعہ حب ڈیم ہے۔ دریائے حب بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں کوہ کھیر تھر سے شروع ہوکر بحیرہ عرب کی طرف جاتا ہے۔ اس دریا پر 1981ءمیں ڈیم تعمیر کیا گیا، جو کہ اب ضلع لسبیلہ کے علاوہ کراچی کے باسیوں کو بھی پانی فراہم کر رہا ہے۔ پانی کا تیسر ذریعہ ملیر کے قریب ڈم لوٹی کے وہ پرانے کنویں ہیں، جو کراچی کے لیے سب سے پہلے فراہمی آب منصوبے کے تحت 1883ءمیں کھودے گئے تھے۔ واٹر بورڈ کے مطابق ڈم لوٹی کے کنویں اب بھی 2 سے 5 ملین گیلن پانی کراچی کو فراہم کرتا ہے۔

Photo 20140824135637دنیا کے اس تیسرے بڑے شہر کراچی کی آبادی روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے، لیکن نکاسی و فراہمی آب کا نظام وہی سالوں پرانا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق شہر کو روز درکار 1000 ملین گیلن پانی میں سے 350 ملین گیلن کی پہلے ہی کمی تھی، جبکہ بارشیں نہ ہونے سے حب ڈیم میں پانی کی کمی نے مزید100 ایم جی ڈی کی قلت پیدا کردی ہے۔ ساتھ لائن لیکجز نے یہ شارٹ فال مزید بڑھا دیا ہے۔ اب 2 کروڑ سے زیادہ آبادی والے اس شہر کو روزانہ 450 ملین گیلن کے لگ بھگ پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پریشانیوں میں گھرے عوام نے انتظامیہ سے مایوس ہوکر پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے متبادل راستے ڈھونڈنا شروع کردیے ہیں۔ اب شاید ہی کوئی گلی محلہ ہو جہاں بورنگ نہ ہورہی ہو۔ لیکن بورنگ کے نتیجے میں عموماََ نمکین یاکھارا پانی ہی نکل آتا ہے، جو پینے کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی روز مرہ استعمال کے لیے شہر بھر میں دستی اور مشینی بورنگ کے کام میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں شہر کے 30 فیصد علاقوں میں دستی بورنگ جبکہ باقی 70 فیصد علاقوں میں مشینی بورنگ کی جا رہی ہے۔

5-21-2011_15867_lدوسری طرف شہر میں آبی بحران کے پیش نظر واٹر بورڈ نے چند ماہ قبل کراچی میں ناغہ کا نظام نافذ کردیا ہے۔ جس کی رو سے مرحلہ وار شہر کے تمام علاقوں میں پانی 24 گھنٹے کے لیے مکمل طور بند رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس کراچی کے متعدد علاقے ایسے بھی ہیں جہاں مہینہ بعد بھی پانی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔ واٹر بورڈ انتظامیہ لائن لیکجز اور پانی کی معطلی پر ہمیشہ یہی کہتی رہی ہے کہ کوششیں جاری ہیں اور بحران پرجلد قابو پالیا جائے گا۔ لیکن عوام کا شکوہ یہ ہے اگرشہر آبی بحران کی زد میں ہے توٹینکرزپانی کہاں سے لارہے ہیں؟

2 COMMENTS

  1. meray bahi water hain lakin jab KWSB chor rastay dekhana or chorea karwana band karay ge to karachi main pani sab ko mil jay ga

  2. ye sb hukmaraan kaafir hain or ye sb dajjal ki pairwi kr rahe hain us k aane k intezam ho raha hai, kyu k us k aane se phle hi pani ka bohran shidat ikhtiyar kre ga or wohi sb ho rha hai… koi kuch nahi kr rha na hukumat or na koi or seyasat daan… sb kehne ki baatein hain k hukumat koshish kr rahi hai ye kr rahi hai wo kr rahi hai, awam bewakoof nahi hai wo sb janti hai k kya hai or kya nahi hai… humare mulk mein kisi chez ki kami nahi hai sb kuch hai yahan bs sahi hukmaran nahi hain or humari awam ka bhi yehi haal hai, zahir si baat hai jaisi awam hogi wese hi hukmaran un pr musalat hongay phir… ye log bs dam hi bana lein to bahut faida ho skta hia humare mulk ko pr nahi banae gay q k agar dam gan gaya phir in ko kon pochay ga kon… agar ye log chahe to aaj hi se loadshedding ka masla hal ho jae aaj hi se pani ka bohran khatam ho jae pr ye log aisa krein ye na mumkin baat hai, q k ye log to bs mulk ko khanay aatay hain bari bari or kha k chalay jatay hain….

Comments are closed.

Open chat