Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

کراچی چڑیا گھر اور برگد کا درخت

برگد کا درخت متعدد خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ جہاں بھی اگتا ہے وہاں اپنا پورا خاندان تشکیل دیتا ہے۔
ایسا ہی ایک پھلتا پھولتا برگد کا درخت آپ کراچی میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔
جو دو صدیاں گزار کر کم و بیش ایک ہزار گز سے زائد رقبے پر پھیل چکا ہے۔
اس ایک درخت سے اب تک مزید نو درخت بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
یہ درخت کراچی کے گنجان آباد علاقے کے ایک نباتاتی باغ میں موجود ہے۔
جی ہاں!
عام طور پر اہل کراچی اس باغ کو ”گارڈن“ یا ”چڑیا گھر“ کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ کراچی کی قدیم آبادی کے بیچ 43 ایکڑ کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اگرچہ جانوروں کی موجودگی اب اس جگہ کی پہچان ہے۔
لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ تاریخی طور پر یہ جگہ ایک نباتاتی باغ کے لیے مخصوص تھی۔
اب بھی یہاں دو ہزار سے زائد تناور درختوں کا ذخیرہ موجود ہے۔
جو بدلتے موسموں سے لڑتے کراچی کے لیے کسی آکسیجن کے کارخانے سے کم نہیں۔
اس باغ کو قائم ہوئے 150 سال پورے ہوچکے ہیں۔
 وقت کے ساتھ ساتھ اس باغ کی شناخت بدلتی رہی۔
پہلے اسے سرکاری باغ کہا جاتا تھا۔
انگریز دور میں اسے وکٹوریہ کوئین گارڈن کا نام ملا۔
بعدآزاں یہ گاندھی گارڈن کے نام سے موسوم ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد اسے کراچی زو یا چڑیا گھر کا نام دیا گیا۔
اب اس کا پورا نام ”کراچی زولوجیکل اینڈ بوٹینیکل گارڈن“ ہے۔
درختوں کے متوالوں، نباتات کے طالب علموں، ماہرین ماحولیات اور محققین کے لیے آج بھی یہ باغ بطور ”بوٹینیکل گارڈن“ کشش کا باعث ہے

Open chat