Tuesday, December 1, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ظفراللہ جمالی کی موت، جھوٹی خبر پر عارف علوی معذرت خواہ

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی موت کی غلط خبر دینے والی ٹویٹ کو ہٹادیا ، ڈاکٹر عارف...

گیس کی سپلائی بہتر ہوگئی، سوئی سدرن گیس کمپنی کا دعویٰ

سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ تین روز قبل ہونے والی سسٹم کی خرابی دور کرلی گئی ہے، ترجمان سوئی سدرن گیس...

پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل4 روپے فی لیٹر مہنگا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل، پیٹرول ،مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ جبکہ ڈیزل کی قیمت...

میرظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ، حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ ، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کا دورہ پڑنے پر اے ایف آئی...

سانحہ کارساز کو 8 سال بیت گئے، سیکڑوں جاں بحق اورزخمی افراد کو انصاف نہ مل سکا، کیس داخل دفتر

karsazکراچی، اکتوبر 2007ءکو پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئر پرسن محترمہ بےنظیر بھٹو 8 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس پہنچی تھیں اور اسی روز ان کے قافلے پر دو بم دھماکوں نے ملک بھر میں سوگ کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ سانحہ کارساز کو آج 8 سال مکمل ہو چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 18 اکتوبر 2007ءکا دن چڑھا تو کراچی میں پیپلزپارٹی کے جیالے اپنی ہر دلعزیز لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو کے استقبال کیلئے ملک بھر سے کراچی پہنچنا شروع ہوچکے تھے۔ شہر کی مرکزی شاہراہ شارع فیصل پر حدنگاہ پیپلز پارٹی کے جیالے، جھنڈے اور خوشیاں مناتے انسانوں کا ایک سمندرتھا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو 8 سال بعد خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے کراچی پہنچ چکی تھیں۔ جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے لاکھوں کا مجمع اپنی قائد کے بم پروف کنٹینرز کے ساتھ شارع فیصل پر چیونٹی کی سی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا کہ کارساز کے مقام پر دہشت گردوں نے اس قافلے کو نشانہ بنایا۔

ایک کے بعد دوسرا بم دھماکہ اور پھر لاشیں، زخمی اور آہ و بکا کے سوا کچھ نہیں دیکھا گیا۔ جانثاران بے نظیر بھٹو نامی دستے نے محترمہ کو اپنے حصار میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ان دو دھماکوں میں 150 سے زائد جانیں گئیں جبکہ 450 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 20 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

کارساز دھماکے کا پہلا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج ہوا۔ دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ کبھی القاعدہ اور کبھی طالبان قرار دیئے جاتے رہے لیکن تفتیش جمود کا شکار رہی۔ پیپلز پارٹی کی درخواست پر اس دھماکے کا دوسرا مقدمہ درج کیا گیا لیکن اس بار بھی نتیجہ ندارد۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے دھماکے کے مقام پر ایک یادگار تعمیر کر دی۔ پولیس نے تفتیش بند کر دی لیکن یہ دن شاید تاریخ کے سرخ صفحات میں ہمیشہ لکھا اور پڑھا جاتا رہے گا۔

Open chat