کشمیر پاکستان کی شہ رگ (سعادت نعمان)

india_kashmir_protest_37660دنیامیں بہت سے علاقے آزادی کی تحریکوں کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن کشمیر کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگ حوصلے اور شجاعت و جواں مردی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ میں وادی کشمیر کا مختصر تعارف آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مقبوضہ جموں کشمیر 101387مربع کلومیٹر پر واقع ایک خوبصورت جنت نظیر وادی ہے۔جو 70% مسلمان آبادی جب کہ بقیہ آبادی بدھ ہندو ،سکھ ،شعیت ،مرزایت اور دیگر مذاہب پر مشتمل ہے۔اس وقت یہ خطہ تنازعات کی وجہ سے تین ممالک میں تقسیم ہے۔پاکستان کے ساتھ شمال مغربی علاقے شمالی علاقہ جات اورآزاد کشمیر بھارت کے ساتھ وسطی اور مغربی علاقے جموں و کشمیر اور لداخ وغیرہ،جب کہ چین شمال مشرقی علاقوں اسکائی چین اور بلائے قراقرم کے علاقہ جات واقع ہیں ۔
کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میں تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے کیوں کہ بھارت کشمیر کے وسائل لوٹنا چاہتا ہے ۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جب کہ پاکستان کشمیر کی آزادی کا خواں ہے۔ اللہ پاک نے کشمیر کو بے بہا آبی وسائل اور اعالی قسم کے سیب اور دوسرے پھلوں سے نوازا ہے اور ان وسائل پر بھارت نے قبضہ کررکھا ہے کشمیر کے عوام اس ّخطے کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں ۔ بھارت نے آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے آٹھ لاکھ فوج مقرر کررکھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاونی کا منظر پیش کرتا ہے۔ہر گلی اور چوراہے پر فوجی کھڑے ہوتے ہیں۔الغرض کشمیریوں کاعرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے مقبوضہ جموں کشمیر میں بہت سی حریت پسندجماعتوں کے قائدین جن کو آئے روز تشدداور قیدوبندکا سامنا ہے۔ ان میں محترمہ آسیہ اندرابی،سید علی گیلانی،شبیر شاہ،مسرت عالم بٹ،محمد قاسم فکتو،اوریسین ملک وغیرہ جیسے بہت سے لیڈر شامل ہیں۔
اس آزادی کے لیے لاکھوں لوگ قربان ہو چکے ہیں اور ہزاروں خواتین کی عزتوں کو پامال کیا گیاہے۔ کشمیر کے لوگ ہر قیمت پر آزادی چاہتے ہیں مگر بھارت کی غنڈا گردی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ کشمیر کے لوگ ہر طرح کی قربانیاں دےرہے ہیںاور ان کی زبان پر یہ جملہ ہوتا ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان،ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارہ ہے۔پاکستان کے عوام کشمیر کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ ہیں،گوکہ ہماری حکومت موثر خارجہ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کاز کی ترجمانی نہ کرسکی مگر پاکستانی قوم ہمیشہ ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے دل کشمیری مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہر سال5فروری کے دن سول سوسائٹی اور مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے پروگامز منعقدہوتے ہیں ۔ جس میں کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے یوں توپاکستان میں بہت سی جماعتیں ہیں مگر ان سب میں مضبوط اور توانا آواز حافظ محمد سعید صاحب کی ہے جو جماعتہ الدعوہ کے سربراہ ہیں ۔حافظ صاحب کشمیری عوام کے لیے دل میں بہت درد رکھتے ہیں وہ مختلف فورمز پر بھارت کے ظالمانا کردار کو قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو کئی بار قید و بند کی صوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں ۔
2017 میں جب برہان وانی کو شہید کیا گیا تو تحریک آزادی بام عروج پر تھی بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔ محترم حافظ صاحب نے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ایک کشمیر کارواں کا اعلان کیا ۔جس میں محترم حافظ سعید صاحب نے خطاب کرتے ہوئے 2017 کو آزادی کشمیر کا سال قرار دیا ۔اس پر مودی نواز پاکستانی حکومت نے حافظ صاحب کودس ماہ تک نظر بند رکھا اور انکی تنظیموں فلاح انسانیت فاونڈیشن اور تحریک آزادی کشمیر کو فلاحی کام سے روک دیا گیاکریک ڈاون کیے گئے یہ اقدامات بھارت خوشنودی کیلیے کیے گئے تھے مگر حافظ صاحب نے سال 2018 کو بھی آزادی کشمیر کے نام سے موسوم کیا۔
25 جولائی 2018 کے الیکشن کے بعد عمران خان کی حکومت بنی عوام بہت پرامید تھے کہ عمران خان صاحب نے جس منشور پر قوم سے ووٹ حاصل کیے وہ اس کی قدر کرتے ہوے پاکستان کو مضبوط اور مستحکم خارجہ پالیسی دینگے اور کشمیری قوم کی آواز کو عالمی فورم پر پہنچائیں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر پر مفصل بات کی اور بھارت کا بھیانک چہرا بے نقاب کیا کلبھوشن یادیو کے کردار پر روشنی ڈالی اور پاکستانی قوم کے دل جیت لیے مگر ابھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کافی نہیں ہے ۔ہمیں اقوام عالم کو باور کروانا ہے کہ کشمیر کے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنا ہے تاکہ کشمیر میں جو کشت و خون کا بازار گرم ہے اس خطے کو پر امن بنایا جاسکے۔کیوں کہ کشمیر کی آزادی سے خطے میں امن و استحکام کی فضا قائم ہوگی اور جو ظلم روا رکھے گئے ہیں کشمیریوں کو ان سے نجات حاصل ہوگی۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک کشمیر ی مسلمانو ں کو جلد ازجلد آزادی جیسی نعمت عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top