کشمیر میں بھارتی مظالم (مریم بتول)

kashmirسرسبز و شاداب، پہاڑوں اور دریاوں کی سرزمین جیسے اہل نظر جنت کہتے ہیں۔27 اکتوبر 1947سے بھارتی افواج کے شکنجے میں ہے۔ جنہوں نے جنت کے باسیوں کی زندگی ان پر تنگ کر رکھی ہے۔ آزادی جو ان کا بنیادی حق ہے ان کو اس سے محروم رکھا گیا ہے اور کشمیری گزشتہ ایک صدی سے نہتے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جہاں ہر روز کتنی ہی ماوں کے لخت جگر اپنی جانوں کے نظرانے پیش کرتے ہیں۔ جہاں ہر روز درجنوں بچے یتیم ہوتے ہیں۔ جہاں بوڑھے باپ اپنے جوان بیٹوں کو کندھے دیتے ہیں۔ جہاں آج بھی شہداءکو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے اور یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ لیکن افسوس صد افسوس کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر کوئی زبان نہیں ہلتی۔ کسی دنشوار کا قلم نہیں چلتا۔کوئی لیڈر نہیں بولتا سب کی زبانوں پر تالے ہیں۔ سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ان سب کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے ہندوستان کے مظالم دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔
ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ اس کے یہ مظالم کشمیریوں کے حوصلے پست کر دیں گے لیکن اس کے برعکس کشمیریوں کا جذبہ آزادی دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے کیونکہ کشمیریوں کی رگوں میں ان باپ دادا کا خون دوڑتا ہے جنہوں نے زندہ جسموں سے کھالیں اتاروا دیں اور جنہوں نے تن تنہا ڈھائی ماہ کے اندر اندر آدھا کشمیر آزاد کروا لیا تھا۔ اگر اقوام متحدہ جنگ بندی کے لیے نہ کہتا تو بقیہ کشمیر بھی آزاد ہوجاتا۔
مسئلہ کشمیر اگرچہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے لیکن جن عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں اس کی نکیل ہے وہ فلسطین ہو یا کشمیر، عالم اسلام کا کوئی مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتیں بلکہ ان کا ایجنڈا ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسائل میں ا لجھا کر رکھا جائے۔ اس لیے اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس سال کے دوران میں اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کو عالمی ادارے کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے کیوں کہ خود بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ایسے قوانین نافذ کر رکھے ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر استشنا حاصل ہے اور اب تو بھارتی فوج کے سربراہ نے فوجیوں کو مظاہرین کے پرامن اجتماع پر براہ راست فائرنگ کی اجازت دے کر حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
کشمیری پچھلی ایک صدی سے کسی بھی بیساکھی کے بغیر اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں لیکن بھارت آغاز سے ہی ان پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے نوجوان کنٹرول لائن کراس کر کے مقبوضہ کشمیر کی مدد کے لیے جاتے ہیں لیکن بھارت نے کنٹرول لائن پر خار دار باڑ لگا کر اپنے اس الزام کو خود ہی بے وقعت کردیا ہے۔ اب پوری دنیا میں بھارتی پروپیگنڈا اپنا اثر کھو رہا ہے اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھ رہی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت جب کہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ عوام گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں اور بھارت نے سفاکی و درندگی کا ہولناک کھیل رچا رکھا ہے تو پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے اور اس قتل عام کو رکوانے اور بھارت کو ظلم سے باز رکھنے کے لیے کیا کررہا ہے۔ کشمیر کے موجودہ حالات میں اب یہ موقع نہیں کہ بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگی جائے بلکہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس پر عالمی دباو ڈالا جائے۔ اب پاکستان کو سفارتی محاذ پر کشمیریوں کے لیے لڑنا ہوگا۔ عالمی رائے عامہ کو بھارتی مظالم کے خلاف ہموار کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top