Sunday, January 24, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

ادارہ نورحق، سعید غنی کی سراج الحق سے ملاقات

وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کی ادارہ نور حق آمد، امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات، ذرائع کے مطابق سعید غنی نے ملاقات میں...

سندھ حکومت کا شاپنگ مالز مالکان کےلئے بڑا فیصلہ

 سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، ہفتے بھر رات گئے تک تمام شاپنگ مالز کو کھلے رہنے کی اجازت، ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے...

مراد علی شاہ اور علی زیدی کے وزیراعظم کو خطوط

جمعہ کے روز کراچی انسفارمیشن پلان کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر علی زیدی کے مابین ہونےوالی تلخ کلامی...

شہر بھر میں 24 گھنٹے کےلئے سی این جی اسٹیشن کھل گئے

آٹھ دن کی بندش کے بعد سی این جی اسٹیشن اتوار کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک کھلے رہیں...

کے ڈی اے جوہر ڈویژن، ایک خاندان کے 7ملازمین کی تعیناتی،کرپشن کا بازار گرم

کراچی:ادارہ ترقیات کراچی کے گلستان جوہر ڈویژن میں محکمہ سیکورٹی کے اعلیٰ افسر کی سرپرستی میں ایک ہی خاندان کے 7 ملازمین تعینات،ایکسیئن سمیت ان 7 ملازمین نے جوہر ڈویژن کو کرپشن کا گرھ بنا دیا۔

حال ہی میں تعینات ہونے والے ایکسیئن گلستان جوہر اورنگزیب نے چارج سنبھالتے ہی اپنے بھائی کے سسر غلام محمد کو اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (اے۔ای۔ای) تعینات کروالیا۔

غلام محمد اس سے قبل یہاں متعدد مرتبہ بطور ایگزیکٹو انجینئر بھی رہے ہیں۔ان کے دور میں بھی گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں بنانے کے لیے غلام محمد پیش پیش رہے ہیں،ایکسیئن اورنگزیب کے بھائی عمران محمد گلستان جوہر میں بطور ایل ڈی سی تعینات ہیں۔ جو روڈ کٹنگ کی پیمائش اور پلاٹوں کی پیمائش کا امور انجام دیتے ہیں۔

ایکسیئن اورنگزیب کا بہنوئی سلطان بھی گلستان جوہر میں تعینات ہے۔ جوہر ڈویژن میں ہی غلام محمد کا بیٹا ارمان (عرف جوجی) جو کہ ورک چارج ملازم تھا، تاہم ذرئع کا کہنا ہے کہ غلام محمد کے بیٹے ارمان کو محکمہ سیکویرٹی کے اعلیٰ افسر کی ایما پر خفیہ طور پر مستقل کیا جا چکا ہے۔ جس کی اب تک تردید یا تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

جب کہ گلستان جوہر میں خود ساختہ انسداد تجاوزات کے سربراہ یامین (عرف ابا) جن کی ڈیوٹی کے ڈی اے سوک سینٹر میں ہے، تاہم محکمہ سیکورٹی کے اعلیٰ افسر کی پشت پناہی کے باعث موصوف گلستان جوہر میں براجمان رہتے ہیں اور یہاں رشوت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

ان پر کسی بھی اخبار یا خبر کا کوئی اثر اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ ان کے سرپرست خودہی گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں سے اپنا بھاری حصہ وصول کرنے مین خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے ان کی حاضری سوک سینٹر میں حاضر نہ ہونے کے باوجود لگ جاتی ہے۔

یہ بھی غلام محمد اور اورنگزیب کے قریبی رشہ دار ہیں کیوں کہ ان کی بہن غلام محمد کی بہو ہیں، ان رشتوں ناتوں کو نبہانے کے لیے ادارہ ترقیات میں گلستان جوہر میں ان سب کو ایک ساتھ تعینات کیا گیا ہے، ان سب کی تعیناتی کے باعث کوئی بھی غیر قانونی کام کو قانونی بنا کر، روڈ کٹنگ تا بلڈنگ میٹریل اور قبضوں کے پلاٹوں پر جعلی دستاوزیزات بنا کر دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔

یامین ابا نے گلستان جوہر کی ہر اہم سڑک تجاوزات مافیا کو بیچ دی ہے، یامین کو اپنی تنخواہ کی پرواہ نہیں ہوتی،محکمہ سیکورٹی کے اعلیٰ افسران دیگر گھوسٹ ملازمین کی طرح حصہ وصول کر لیتے ہیں تاہم یامین ابا تجاوزات کے قیام سے ہزاروں روپے بھتہ بھی وصول کر رہا ہے۔

ان کی معاونت کے لیے جوہر ڈویژن میں مصطفیٰ چاند اور عارف بھی موجود ہوتے ہیں، تاہم یہ غلام محمد یا اورنگزیب کے رشتہ دار نہیں ہیں۔گلستان جوہر میں پلاٹوں کی ہیر پھیر سمیت دیگر امور ان 7 رشتہ داروں کا ہی کارنامہ ہے،جس پر اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat