فیس بک پر تبلیغ دین میں مصروف 1 فعال صفحہ

سوشل میڈیا دعوت و اصلاح کے لیے ایک جامع، منظم، تیز ترین اور انتہائی آسان پلیٹ فورم ہے جہاں پر بہت کم وقت میں لوگوں کی بڑی تعداد تک یہ دعوت پہنچائی جاسکتی ہے۔ کچھ افراد یہ کام سرا نجام دے رہے ہیں، ایڈمن کا انٹرویومیں اظہار خیال
انٹرویو: عارف رمضان جتوئیhqdefault
وقت دو دھاری تلوار کی ماند ہے جس کا ٹھیک سے استعمال نہیں کیا جائے تو یہ نقصان پہنچاتا ہے،لازمی نہیں ہے کہ اچھے کاموں کو پھیلانے اور برے کاموں سے روکنے کے لیے منبر و محراب ہوناضروری ہے۔ یا اس کے لیے کسی بڑی ڈگری کی ضرورت پیش آتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے تناظر میں کہ ”مجھ سے کوئی بھی بات تم تک پہنچے اسے آگے پہنچاﺅ“ ہر شخص کو اپنی تئیں جہاں تک ممکن ہو دین کی اشاعت کا کام کرنا چاہیے۔ دین کی نشرو اشاعت کے لیے اب کسی پیغمبر نے مبعوث نہیں ہونا۔ اس لیے اب ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کریں۔ اچھے کاموں کی طرف رغبت دلانا، رہنمائی کرنا اور برائی کو جہاں تک ممکن ہے روکنا پوری دنیا کے ہر مسلمان پر فرض ہے۔ روز محشر اس کا باقاعدہ سوال کیا جائے گا کہ آپ کے پڑوس، گھر محلے یا زیر سرپرستی فلاں غلط کام ہوتا تھا اور لوگوں کو منع کیوں نہیں کیا۔سوشل میڈیا دعوت و اصلاح کے لیے ایک جامع، منظم، تیز ترین اور انتہائی آسان پلیٹ فورم ہے۔ جہاں پر بہت کم وقت میں لوگوں کی بڑی تعداد تک یہ دعوت پہنچائی جاسکتی ہے۔ کچھ افراد یہ کام سرا نجام دے رہے ہیں ۔ آج انہوں نے تھوڑی سی توجہ، مکمل یکسوئی اور سنجیدگی کی بدولت سوشل میڈیا کے پلیٹ فورم پر خاطر خواہ نتائج حاصل کیے۔ انہوں نے عالم سطح پر نہ صرف اسلام کا بہترین امیج پیش کیا بلکہ ان لوگوں کو بھی ایک واضح پیغام دیا کہ جو خواتین کی آزادی کے نام پر فحاشی کے فروغ کے لیے سرگرداں ہیں۔ایسے میں چند خواتین نے چادر و چار دیواری میں رہتے ہوئے پردے پر اٹھنے والی انگلیوں کا موثر جواب دیا اور انہیں بتایا کہ پردہ نہ تو کبھی کسی کی ترقی میں روکاوٹ کا باعث بنا اور نہ وہ کسی دباﺅ کے تحت پردہ کرتی ہیں۔ بلکہ وہ خدوند کریم کے دیے گئے عورت کے لیے ایک مخصوص انعام (پردہ) کو اپنے تحفظ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی پوری دنیا کے ان افراد کو یہ پیغام دیا کہ جو پردے پر پابندیاں لگاتے اور دہشت گردی کی علامت قرار دیتے ہیں کہ پردہ ہرگز وہ نہیں جو بتایا یا دیکھایا جاتا ہے۔ انہیں چند گنتی کی خواتین نے سوشل میڈیا پر رہے کہ عورت کے مسائل کو بہت احسن طریقے سے پیش کیا ۔وہ خوش قسمت کون ہیں اور سوشل میڈیا پر دعوت و اصلاح کیسے کر رہے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے کراچی اپڈیٹس ڈاٹ کام کی جانب سے پردہ اور خواتین کا اسلام سمیت دیگر تربیتی پیجز کے ایڈمن پینل کا مختصر انٹریو کیا ہے، جسے قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہ پیج ہیں جن کے لائکس کی تعداد 1لاکھ 12 ہزار سے زائد ہے۔
unnamedکراچی اپڈیٹس: آپ پیج کس شہر سے چلا رہے ہے اور پیج کی ٹیم میں کون کون شامل ہے؟
ایڈمن: یہ پیجز ہم کراچی سے ہی چلا رہے ہیں۔ ہماری باقاعدہ ایک ٹیم ہے۔ ابتدا میں صرف ایک ایڈمن تھیں، مگر پھر باقاعدہ ٹیم بنتی گئی اس وقت بیشتر خواتین اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ ہماری ٹیم پینل میں ایچ اے محمود، فاطمہ صدیقی، بنت رفیق، ام عبد اللہ، لبنیٰ محمودودیگر شامل ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہمارے ایڈمنز اور ایڈیٹرز پورے ملک سے ہیں جن میں کچھ معلمات اور باپردہ خواتین شامل ہیں جو اپنانام Show نہیں کرنا چاہتیں۔ ہم نے اسلام کی نشرو اشاعت کے حوالے سے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا ہے۔ اس لیے ایڈمنز کون اور سربراہ انچارج کون ہیں اس سوال کا جواب ادھورا ہی ملے گا۔
کراچی اپڈیٹس: خواتین کا اسلام کے پیج کے علاوہ اور کون سے پیج ہیں اور یا فیس بک کے علاوہ کون سی سماجی ویب سائٹ پر ہیں؟
ایڈمن: ہمارا خواتین کا اسلام کے علاوہ” پردہ، گل دستہ اور بکھرے موتی“ کے نام سے پیج بھی فیس پر موجود ہیں۔ فیس بک نے سوشل میڈیا میں اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا میں فیس بک بھی شامل ہے۔ تاہم اس کے لیے ٹیوٹر، ٹیلی گرام، واٹس ایپ پر بھی ہمارا گروپ مکمل فعال ہے۔ جہاں پر ہمارے بڑی تعداد میں فالورز اور وزٹرز موجود ہیں۔
کراچی اپڈیٹس: ”خواتین کا اسلام“ ایک میگزین بھی ہے، کیا یہ اس کا پیج ہے؟
LONDON, ENGLAND - MARCH 25: In this photo illustration the Social networking site Facebook is displayed on a laptop screen on March 25, 2009 in London, England. The British government has made proposals which would force Social networking websites such as Facebook to pass on details of users, friends and contacts to help fight terrorism. (Photo by Dan Kitwood/Getty Images)
ایڈمن: ”خواتین کا اسلام“ کا آفیشل پیج نہیں ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے وہاں سے متاثر ہوکر یہ پیج تشکیل دیا ہے۔ خواتین کا اسلام کے نام سے بھی بہت سے یوزر یہ سمجھتے رہے ہیں کہ شاید یہ میگزین کا آفیشل پیج ہے تو ایسا نہیں ہے۔ تاہم ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ممکنہ طور پر بہت جلد پیج کا نام تبدیل کردیا جائے گا۔ جس کے بعد پیج کا نام خواتین کا اسلام کے بجائے خواتینِ اسلام یا خواتین اور اسلام رکھا جائے گا۔ ہماری ایڈمن جنہوںنے اس کی ابتدا کی تھی وہ خواتین کا اسلام کی رائٹر ہیں ایک وجہ یہ بھی ہے اس نام کے رکھنے کی۔
کراچی اپڈیٹس: آپ کو اس سے کیا فوائد حاصل ہوئے؟
ایڈمن: سوشل میڈیا پر بہت سی ایسی خرافات دیکھنے میں آتی ہیں جنہیں دیکھ کر ہمارا دل کڑتاتھا۔ سوشل میڈیا نے دنیا پر اپنا نام بنایا بھی ہے اور اپنے کام سے جنگیں تک برپا کردیں ہیں۔ مختلف ممالک میں جب میڈیا پر پابندی عائد ہوجاتی تھی اور خبرر سانی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں رہتا تھا کہ تو پھر عوام نے سوشل میڈیا کا استعمال کیا اور ملک کوتباہی سے بچانے میں فعال رہے۔ سوشل میڈیا کی طاقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بہت کم وقت میں بہت بڑی تعداد میں اپنے گھر سے آپ کوئی بھی بات بڑی آسانی سے پھیلا سکتے ہیں۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام دشمن عناصرمیڈیا کے ذریعے ہم پر ایک جامع اور پری پلان جنگ مسلط کرچکے ہیں۔ دنیا بھر میں اسلام اور ملک کا تشخص دہشت گردانہ پیش کیا گیا۔ اسلام پسندوں کو ایسے غیر مناسب القابات سے نوازہ اور ان کی کردار کشی کی گئی کہ جس سے عالم دنیا پر ہم دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود دہشت گرد ہوگئے۔ اس وقت دنیا میں جہاں پر بھی شورش برپا ہے، جنگیں مسلط ہیں وہ تمام علاقے مسلمانوں کے ہیں۔ مرنے والا بھی مسلمان اور مارنے والا بھی مسلمان ہوتا ہے۔ پھر خواتین کے حوالے سے پردے پر عالمی سطح پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ پردے کے خلاف منظم پروپیگنڈے ہوئے۔ پردہ تک کو دہشت گردی قرار دے دیا گیا۔
iآج ہم الحمدللہ اپنی اس مختصر سی کوشش سے اسلام اور خاص طور پر خواتین کے حوالے سے درپیش مسائل کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ پردے کی اہمیت کہ جسے اہل مغرب نے بہت پیچیدہ اور مشکل بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا تھا ۔پردہ عورت کے تحفظ کا ضامن ہے نہ کہ دہشت گردی کی علامت اور نہ فیشن کے برعکس ہے۔ ہماری مائیں ، بہنیں اور بیٹیاںفیشن کریں اور کھل کریں مگر جہاں جہاں اسلام نے قواعد و ضوابط رکھے ہیں ان کا خیال رکھیں۔ پردے میں رہیں اور جو بھی اسلام شعائر سے متصادم نہیں ہے وہ کریں۔
کراچی اپڈیٹس: پیج پر آپ خواتین کے حوالے سے ہی فوکس رکھتے ہیں یا جنرل نالج کے طور پر مواداپ لوڈ کیا جاتا ہے؟
ایڈمن: عموما تو خواتین کے معاشرتی مسائل کو ہی اجاگر کیا جاتا ہے اور یہ کام ہماری خواتین ایڈمن ہی بہتر طریقے سے سر انجام دیتی ہیں۔ ہم اسلامی مسائل پر بھی محتاط رہے کر کام کرتے آئے ہیں۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے وزٹر کا تعلق کسی ایک مسلک سے نہیں ہے۔ ہم نے اپنے پیج کی ترتیب کسی خاص مسلک کے لیے نہیں رکھی بلکہ صرف اور صرف اسلام ہی ہمارا مقصد ہے۔ ہماری پوسٹس کا معیار وہیں ہے جو کراچی کی ایک معروف دینی درسگاہ ”جامعة الرشید “کے زیر سرپرستی مجلس علمی کے نام سے پیج کا ہے۔ بیشتر پوسٹس ہم انہیں سے ہی شیئر کرتے ہیں۔islamic-facebook-cover-photo-11
کراچی اپڈیٹس: آپ کے لائک کرنے والوں میں افراد کی حد عمر کیاہے ؟
ایڈمن: ہمارے پیج پر لائکس میں زیادہ تر تعداد نوجوان نسل کی ہے جو کہ حوصلہ افزا ریشو ہے۔ ہماری نوجوان نسل اس وقت سوشل میڈیا پر بہت فعال دیکھائی دیتی ہے۔ یہ بات ایک طرف اچھی ہے تو اس سے کہیں زیادہ خطرناک بھی ہے۔ ہم نے عموما دیکھا ہے کہ بہت کم ایسے نوجوان ہوں گے جو اپنا وقت مثبت استعمال کرتے ہوں گے۔ بیشتر افراد فیس بک پر وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ وقت ایک دو دھاری تلوار کے ماند ہے جس کا ٹھیک سے استعمال نہیں کیا جائے تو یہ نقصان پہنچاتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر سوشل میڈیا کا بہتر سے بہتر استعمال کرے۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو اسلامی شعائر سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں انہیں اسلام کی سر پلندی کے لیے تمام مسلکی، اختلافی اور فتنہ و فساد سے بلاتر ہو کر بلاامتیاز فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
اگر آپ فیس بک پر کس قسم کا کوئی پیج چلا رہے ہیں اور اس کے فینز کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے تو کراچی اپ ڈیٹس پر اس کو متعارف کروانے کے لیے رابطہ کریں 
arif.jatoi1990@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top