Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل4 روپے فی لیٹر مہنگا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل، پیٹرول ،مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ جبکہ ڈیزل کی قیمت...

میرظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ، حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ ، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کا دورہ پڑنے پر اے ایف آئی...

فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے

فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے، ذرائع کے مطابق محمود آباد ٹی پی ٹو گرائونڈ کے قریب فائرنگ سے 25 سالہ  مزمل...

کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق،2 لاشیں ملی

مختلف علاقوں سے 2 لاشیں ملی، جبکہ کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق، ذرائع کے مطابق فیڈرل بی ایریا بلاک 21 سے محمد...

پاکستانی وزیر اور بھارتی زبان (حافظ عاکف سعید)

khuwaja asifہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف صاحب نے امریکہ میں جو گل افشانیاں فرمائی ہیں ،وہ محل نظر ہے اور افسوسناک بھی ہے۔ان کا یہ کہنا کہ حقانی خاندان اور حافظ سعید صاحب پاکستان پر بوجھ ہےں ۔وہاںوہ گویا بھارت کی زبان بول رہے تھے۔یہ ایک پاکستانی اور وہ بھی جو خارجہ امور کے وزیرہیں، کی زبان سے بھارت کی بولی نکل رہی تھی۔خود ان کا یہ کہنا کہ We must do more جبکہ امریکہ کی طرف سے مسلسل ایک دباﺅ موجود ہے اور پاکستان کا موقف یہ ہے کہ ہم نے امریکہ کے لئے بہت کچھ کیا ہے،گویا انہوں نے اپنے ہی موقف کی تردید کی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکہ کے اتنے فوجی ہلاک نہیں ہوئے جتنے ہمارے شہید ہوئے ۔مزید برآں ہمارے سویلینز بھی ہزاروں کی تعداد میں شہید ہوئے ہیں۔دونوں میں کوئی نسبت و تناسب نہیں۔یہ سب کچھ امریکہ کے ساتھ ان کے فرنٹ لائن الائی بن کر تعاون کرنے کا نتیجہ ہے۔لیکن ہمیں تو پہلے دن ہی سے پتہ تھا کہ اس کے باوجود جوتے تو ہمیں ہی پڑنے ہیں۔یہی ہمارا نصیب ہے۔تنظیم اسلامی کا اس جنگ کے آغاز سے ہی یہ موقف رہا ہے۔

اب ہمارے وزیر خارجہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ ہمیں ڈو مور کرنا ہے۔جبکہ فوج کا موقف یہ ہے کہ ہم ڈو مور کرچکے ہیں اور اب دنیا کی ڈ و مور کرنے کی باری ہے۔دیار غیر میں بیٹھ کر حکومت اور فوج کے درمیان اختلافی موقف چھیڑنا ملکی سلامتی کے حوالے سے بہت خطرناک ہے۔انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ ان کی تقریر کس کے مفاد میں جاتی ہے۔سب سے زیادہ تعجب خیز اور افسوسناک بیان ان کا یہ تھا کہ ہندوستانی اور پاکستانی ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں۔جیسے پچھلے دنوں نواز شریف صاحب نے کہا تھا کہ ہندو اور ہم ایک ہی ہیں۔ہمارا کلچر بھی ایک ہے۔وہی بات گویا ایک دوسرے انداز میں دوہرا دی گئی ہے۔خواجہ صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ نواز شریف کو حکومت سے اس لئے نکالا گیا کہ وہ بھارت سے دوستی کے خواہش مند تھے۔ایک انٹرنیشنل فورم پر اس قسم کی باتیں ناقابل فہم ہیں۔ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے۔اپنے گندے کپڑے دیار غیر میں جاکر دھونا انتہائی افسوسناک ہے۔ان ساری باتوں کا اصل مقصد امریکہ کو خوش کرنا تھا یعنی یہ کہ یہ ہم ہیں جو آپ کے ایجنڈے کوبڑھا سکتے ہیں۔ان کو یہ پیغام دیا گیا ہے۔ایمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی شرم ناک بات ہے۔

مشرف کے دور میں ہم امریکہ کے گڈ بک میں تھے ۔یہ مسئلہ صرف سویلین حکومتوں کا ہی نہیں ہے۔اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔امریکی خوشنودی کی خاطر اس کی ناحق جنگ میں ہم نے بھرپور کردیا ادا کیا۔جبکہ بتانے والے یہ کہہ رہے تھے کہ اس ملک کے لئے ہی نہیں اسلام کے لئے بھی نتہائی غلط اور مہلک ہے۔ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی گئی۔ آج امریکہ کو خوش کرنے کے لئے یہ باتیں ہورہی ہیں ۔پرویز مشرف نے بھی امریکہ کو خوش کرنے کے لئے سب کچھ اس کے حوالے کردیا تھا۔کوئی فرق نہیں۔ایک ہی کردار ادا کیا گیا اور کیا جارہا ہے۔پرویز مشرف نے ملک کو بدترین سیکولرزم کی طرف ڈھکیلا ہے۔اس ملک میں اس وقت جو سیکولرزم کا سیلاب برپا ہے اس کو پروموٹ کرنے والا وہی شخص ہے۔

اپنے ہمسایہ اسلامی ملک کو تباہ و برباد کرنے میں ہم نے جو کردار ادا کیا ہے ،آج سویلین حکومت بھی وہی کردار ادا کررہی ہے۔نوعیت کا کوئی فرق کم ازکم مجھے تو نظر نہیں آتا۔حاصل کلام یہ کہ ہماری حکومت خواہ وہ فوجی ہو یا سویلین سب کی اولین ترجیح واشنگٹن کو خوش کرنے کی رہی ہے،خواہ اللہ سے کھلی بغاوت کا اعلان کرنا پڑے۔اسلام کے نام پر بننے والی ریاست کی بقا اور اس کا استحکام بھی اسلام پر ہے ۔حقیقت یہ ہے۔اپنی اس پالیسی کے نتیجے میں ہمیں مختلف عذاب کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے،لیکن ہم نے اس سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا ۔راستہ وہی کہ  وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے  ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ۔پورے طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے بچھ جائیں اور اس کے وفادار بن جائیں تب ہی ہمارے مسئلے حل ہوسکتے ہیں ۔پاکستان کے لئے نجات کا کوئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اسی راستے پر بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Open chat