ہر جگہ ہر کسی کے لیے گردوں کی صحت (ڈاکٹر صدف اکبر)

kidney healthپاکستان سمیت دنیا بھر میں گردوں کا عالمی دن 14مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس سال گردوں کے عالمی دن کا عنوان ”ہر جگہ ہر کسی کے لیے گردوں کی صحت“ ہے۔ گردوں کے امراض کا عالمی دن منانے کا سبب اس مہلک مرض سے متعلق عوام الناس میں شعور پیدا کرنا ہے تاکہ گردے کے مریضوں کو بر وقت تشخیص اور فوری علاج ممکن کیا جاسکے۔پاکستان میں گردوں کی بیماریوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباََ 2 کڑور سے زائد افراد گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ہر سال پچاس ہزار افراد گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
گردے انسانی جسم کا ایک بے حد لازمی جزو ہے جو خون کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ کیمیائی طور پر بھی خون کو متوازن رکھتا ہے۔ گردے ہر روز تقریباََ انسانی جسم میں 200 ملی لیٹر خون اور 2 ملی لیٹر فاصل اجزاءاور زائد پانی کا اخراج کرتے ہیں۔ اگر گردے یہ اجزاءبروقت اور درست طریقے سے جسم سے خارج نہ کریں تو یہ جسم میںرہ کر جسم کے اندرونی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور جسم کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ گردے انسانی جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جسم میںپوٹاشیم، فاسفورس، کیلشم اور سوڈیم میں بگاڑپیدا ہوجائے تو انسان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ جب کہ جسم سے زیادہ پانی کے اخراج اور پانی کی کمی کی صورت میں پانی کو جسم کے اندر ہی رکھنا گردے کی اہم ذمہ داری ہے کیونکہ اگر گردے پانی کے اس توازن کو برقرار نہ رکھیں اور پانی کی مقدار بڑھنے سے جسم کے مختلف حصوں مثلاََ پھیپھڑوں، پیروں اور آنکھوں کے گرد اور پھر پورے جسم میں پانی اکھٹا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے منہ اور آنکھوں کے نیچے اور پیروں پر سوجن ہو جاتی ہے۔
گردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے خون سے زہریلے اور فاصل مواد کو خارج کرنے کی صلاحیت بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس مرض کی بروقت اور درست تشخیص نہ ہونے کے سبب گردے آہستہ آہستہ ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ڈائی لیسسز یا گردوں کی پیوندکاری کی نوبت آجاتی ہے۔گردوں کی خرابی سے پہلے اس کی کچھ علامات پہلے سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ کمر کے بچھلے حصے میں نچلی جانب درد، گردے کی خرابی میں ظاہر ہونے والی سب سے پہلی علامت ہے اور بعض اوقات یہ صرف خراب گردے کی جانب ظاہر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مریض جب اسی کروٹ سوتا ہے جس جانب گردے میں تکلیف ہوتو کچھ عرصے بعد یہ درد دونوں جانب ہونے لگتا ہے۔ پیشاب کرنے میں تکلیف بھی گردوں کی خرابی کی ایک اہم علامت ہے کیونکہ گردوں کاسب سے بنیادی کام جسم سے پیشاب کے ذریعے فاسد اور زہریلے مادوں کا اخراج ہے۔ اس کے علاوہ جسم سے فاسد اور زہریلے مادوں کا مناسب اخراج نہ ہونے کے سبب جلد پر سرخی آجاتی ہے اور ساتھ ساتھ جلد خشک ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اس پر خارش بھی شروع ہو جاتی ہے۔
بعض حالات میں پیشاب سے خون بھی آنے لگتا ہے اور پیشاب میں جھاگ بنتے ہیں۔ اکثر اوقات رات میں سوتے ہوئے پیشاب بھی نکل جاتا ہے اور اس کی رنگت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر پیشاب ہلکے رنگ کا نہیں آرہا ہو تو جسم کے اندر فاسد اور زہریلے مادوں کا اخراج نہیں ہو رہا ہوتا ہے۔ پیشاب بالکل سفید ہونے کا مطلب گردے کی خرابی ہے۔ جب کہ گاڑھے پیلے رنگ کا پیشاب اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ پانی کم پیا جارہا ہے۔ جب پیشاب سے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں تو پیشاب کا رنگ تھوڑا پیلا ضرور ہوتا ہے۔ گردوں کی بیماری کی خاص علامات میں بھوک نہ لگنا یا کم ہو جانا، کھانے کی خواہش ختم ہو جانا، یادداشت کی کمزوری، متلی اور قے کی سی کیفیت، چڑچڑا پن، تھکاوٹ اور جسم میں طاقت کا ختم ہو جانا، جسم میں خون کی مقدار کم ہو جانا، چہرے پر پیلا ہٹ، خشک جلد، بے آرا می، رات کو باربار پیشاب آنا، چہرے پر سوجن اور پیشاب میں شوگر یا پروٹین کا شامل ہو نا بھی شامل ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق گردے ایک ہارمون ایتھرو پائیوٹین (Erythro Poitin) نامی ہارمون پیدا کرتا ہے جس کی مدد سے خون کے سرخ خلیے پیدا ہوتے ہیں اور ہمارا خون آکسیجن جذب کرتا ہے لیکن گردوں میں خرابی کی وجہ سے یہ ہارمون درست طریقے سے پیدا نہیں ہوتا ہے اور جسم خون کی کمی کا شکار ہو نے لگتا ہے اور جسم زیادہ جلدی تھکن اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گردے وٹامن ڈی کی پیدائش میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت اہم ہے جب کہ گردے فیل ہونے کی صورت میں جسم میں کیلشم کی کمی بھی ہو جاتی ہے۔ گردوں کی خرابی کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ جن میں بلڈ پریشر، یورک ایسڈ اور ذیابطیس سب سے زیادہ اہم کر دار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان بیماریوں کی وجہ سے گردوں میں موجود نیفرون متاثر ہو کر ختم ہو جاتے ہیں اور گردے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔
ذیابطیس کے مریض عموماََ دس سال سے بیس سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خون میں شوگر کے نامناسب کنٹرول کی وجہ سے خون کی نالیوں میں تنگی آنا شروع ہو جاتی ہے اور آنکھ، گردہ، دماغ اور دل وغیرہ پر خون کی مناسب مقدار پہنچ نہیں پاتی ہے جس کی وجہ سے وہ عضو ختم ہو جاتا ہے۔ عام طور پر آنکھ کی بینائی متاثر ہوتی ہے اس کے بعد گردے بھی اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
لہذا شوگر کے مریضوں کو اپنی ذیابطیس بہت ہی مناسب حد تک کنٹرول میں رکھنی چاہیئے تاکہ جسم کے مختلف حصے اس کی وجہ سے خراب نہ ہوں جب کہ ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ گردے فیل ہونے کے ساتھ ساتھ دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کو چونکہ خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جس کی اہم علامات بظاہر نہیں ہوتی ہیں لہذا ہر فرد کو کم از کم یا دو مہینے میں ایک دفعہ لازمی اپنا بلڈ پریشر چیک کر وانا چاہیے۔ گردوں میں خرابی کی ایک وجہ فضائی آلودگی بھی ہے۔ تحقیق کے مطابق فضاءمیں موجود تیل اور گیس کے جلنے سے خطرناک عنصر کیڈیم پیدا ہوتا ہے جو کہ گردوں کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور تمبا کو نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں میں کیڈیم بہت تیزی سے اپنا اثر دکھاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ گردے کی جھلی کی سوزش، گردے کی پتھری اور پیشاب کے راستوں کا انفیکشن بھی گردے کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔ جب کہ موٹاپے سے متاثرہ افراد میں عام آدمی کی بہ نسبت گردوں کی خرابی کی شرح 83 فیصد ہے۔ مردوں میں موٹاپے کی وجہ سے گردوں کی خرابی کی شرح 13.8 فیصد جب کہ خواتین میں 24 فیصد ہے۔ کچھ افراد موروثی طور پر موٹے ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر حالات میں اس کا تعلق طرززندگی کے ساتھ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے رہن سہن میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔ گھر کے کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈ نے لے لی ہے اور پلے گراﺅنڈ میںجاکر کھلینے کی جگہ موبائل فون اور کمپیوٹر پر گیمز کھیل رہے ہیں۔ دفاتر میں کام کی زیادتی، نیند کی کمی، ذہنی دباﺅ، ورزش سے دوری، فاسٹ فوڈ، سافٹ ڈرنکس اور میٹھی اشیاءکا زیادہ استعمال انسانی صحت کے دیگر مسائل کے ساتھ موٹاپے میں اضافے کا باعث بھی بنتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ موروثی وجوہات کی بنیاد پر بھی گردوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاََ کزن میرج اور بعض خاندانوں میں خاندان در خاندان شادیاں چلنے کے باعث گردوں کی بیماریاں بھی نسل در نسل منتقل ہوتی جاتی ہیں۔
کچھ دوائیاں جو ہم روز مرہ طور پر درد دور کرنے کے لیے یا مختلف اسباب میںاستعمال کررہے ہوتے ہیں اور تھوڑے سے درد میں بھی ادویات کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ درد کو ختم کرنے والی ادویات گردوں کے لیے زہر قاتل کا کام کرتی ہیں۔ لہذا بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے کوئی بھی دوا استعمال نہیں کرنی چاہیے ۔گردے میں مسئلہ پیش آنے کی صورت میںاس کی با آسانی تشخیص کی جا سکتی ہے جس کے لیے پیشاب کا مکمل اور خون ٹیسٹ ہو تا ہے اور اس کے علاوہ الٹراساﺅنڈ سے گردے کا سائز اور ساخت بھی دیکھی جاتی ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے پیشاب میں micro albumin، چیک کرواتے رہنا چاہیے اور ہر صحت مند فرد کو ہر چھ ماہ میں اپنا پیشاب چیک کروانا چاہیے۔ اس سے گردوں کی درست صورتحال سامنے آجاتی ہے اس کے علاوہ یورک ایسڈ، کولیسٹرول، شوگر وغیرہ کے ٹیسٹ بھی کروانے چاہیے۔
گردوں کی بیماری سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لے اور گردوں کی کارکردگی کو غذا اور بہتر معمولات زندگی اپنا کر بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تمبا کو نوشی میں کمی انتہائی ضروری ہے اور اسی طرح نمک اور تیز مرچ مصالحوں اور تیل کا استعمال کم سے کم کیا جانا چاہیے تاکہ بلڈپریشر کنٹرول میں رہے۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے ورزش اور پانی کا زیادہ استعمال گردوں کی صحت مندی کے لے اکسیر کا کام کرتا ہے۔ پانی کے زیادہ استعمال سے فا سد مادے پانی کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ ذیابطیس کے مریض کو خاص طور پر گردے اور مثانے کے انفیکشن کا خیال رکھنا چاہیے اور پیشاب میں جلن کی صورت میں فوراََ ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top