بچوں کے لیے اسکرین ٹائم (عاصمہ عزیز)

kid using mobileموجودہ دور میں سائنس و ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی میں اتنی رچ بس چکی ہے کہ بڑوں اور نوجوانوں سمیت بچے بھی سائنسی آلات (ڈئیواسز) سے مستفید ہوتے دکھائی دیتے ہیںجن میں سر فہرست لیپ ٹاپ،ٹیبلٹس،اسمارٹ فونز اور ٹیلی ویژن ہیں۔ان سائنسی آلات نے جہاں لوگوں میں معلومات اور آگاہی کے در وا کیے ہیں وہیں ان کے بے جا اور ضرورت سے زیادہ استعمال سے نوجوانوں اور بچوں کی زندگیوں میں منفی اثرات پڑرہے ہیں ۔ان منفی اثرات کے باوجود ہماری زندگی میں سائنس و ٹیکنالوجی اتنا احاطہ کیے ہوئے ہے کہ ان آلات سے بچنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
2013 میں لندن اسکول آف اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میںتین سے چار سال تک کے 25 فیصد بچے اسکرین کا استعمال کرتے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں میں یقینا اس تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے اور یہ اضافہ امریکہ سمیت پاکستان اور تمام یورپی اور ایشائی ممالک میں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔بچوں میں اسکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے 2016 میں امریکہ کے شعبہ اطفال نے ڈئیواسز کے استعمال کو موثر بنانے کے لیے ”اسکرین ٹائم “ تجویز کیا۔۔اسکرین ٹائم سے مرادوہ وقت ہے جو ایک بچہ برقی اسکرین (electronic screen)کی جانب دیکھتے ہوئے صرف کرے۔اس میں ویڈیو گیمز ،ٹی وی ،اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ پر دیکھے جانے والی ویڈیوز شامل ہیں۔ بچوں میں بڑھتے ہوئے اسکرین کے استعمال کی بدولت والدین اکثراس تشویش میں مبتلا رہتے ہیں کہ بہت زیادہ اسکرین کی طرف دیکھنا ان کے بچوں کی بصارت اور جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔اس حوالے سے والدین کو اکثر یہ پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ بہت زیادہ اسکرین کا استعمال بچوں کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ والدین کی یہ پریشانی محض وہم یا گمان نہیں بلکہ بہت حد تک درست ہے کیونکہ اسکرین میڈیا کا بے جا استعمال بچوں کے رویے کو جارحانہ بناتا ہے اور اس کے علاوہ بچوں کے کسی کام کو انجام دینے میں توجہ کے دورانیے کو بھی متاثر کرتا ہے جسے ہائیپر ایکٹیوٹی یا شارٹ اٹینشن سپان کا نام دیاجاتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ محض پانچ سے چھ گھنٹے فونز یا ٹی وی اسکرینز سے دوررہنا بچوں کو جذباتی طور پر بہتربناتا ہے ۔
مَکتب سے پہلے کی عمر (Preschooler)کے بچے جو دو یا دو سے زائد گھنٹے اسکرین کی طرف دیکھتے ہوئے گزارتے ہیں ان کی چال ڈھال اور رویے میں اکثر مسائل درپیش رہتے ہیں۔۔حتی کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ والدین اور بچوں کی بات چیت کے دوران پس منظر میں چلتا ہوا ٹی وی بھی بچوں کی توجہ ہٹانے کا باعث بنتا ہے جو کہ بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ والدین اور بچوں کے مابین مضبوط باہمی تعلق بچوں کی سماجی نشوونما اور ترقی میں بہت اہم کردارادا کرتا ہے۔اس کے علاوہ بہت زیادہ ٹی وی اور فونز کے سامنے اپنا وقت صرف کرنے والے بچوں کو نیند میں مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کیونکہ ان ڈئیواسز کی اسکرین سے نکلنے والی روشنی نیند میں مدد دینے والے مادےn melatoniکے نکلنے کو مو خر کرتی ہے جو نیند میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔چار سال تک کے بچوں میں ان ڈئیواسزکا استعمال انھیں اس قدر عادی بنا دیتا ہے کہ بڑے ہونے پر ان کو ترک کر دینا بہت مشکل ثابت ہوتا ہے ۔۔جس سے بچوں کی پڑھائی اور کھیل کود جو کہ بچوں کی جسمانی صحت کے لیے نہایت اہم ہے بھی متاثر ہوتی ہے۔
مندرجہ بالا تمام تر نقصانات کے باوجود موجودہ سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں ان ڈئیواسز کی اہمیت اور افادیت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ آج کل مختلف اسکولوں اور گھر پہ بھی اسکرین میڈیا کے ذریعے بچوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔اسمارٹ فونز میں ایپس اور گیمز ایجاد ہوچکی ہیں جو کہ بچوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ تعلیم مہیا کرنے کا ذریعے بھی ہیں۔انٹرنیٹ پر موجود ای فارمٹ میں مختلف کتب بچوں میں کتب بینی کا رجحاج بڑھا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے بچے اسکول میں دیا جانے والا کام گھر میں باآسانی کر سکتے ہیں جس سے وقت کا ضیاع بھی نہیں ہوتا اور بچوں میں تنظیمی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیں۔انہی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کو اسکرین میڈیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے امریکی شعبہ اطفال نے اسکرین ٹائم تجویر کیا جس کے مطابق:
اٹھارہ ماہ یا اس سے کم عمر بچوں کوو ڈیوچیٹنگ کے علاوہ اسکرین کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
والدین کو اٹھارہ سے چوبیس ماہ کے بچوں میں اعلی معیار کے ڈیجیٹل پروگرامز متعارف کروانا شروع کر دینے چاہیے ۔
دو سے پانچ سال کے بچوں کو محض ایک گھنٹہ اسکرین کے استعمال کی اجازت دینی چاہیے ۔
چھ اور اس سے زائد سال کے بچوں میں اسکرین میڈیا کے استعمال کا ایک محدود وقت متعین کیا جانا چاہیے ۔
اسی طرح والدین مسلسل نگرانی اور چند اصول متعین کر کے بچوں میں اسکرین کے استعمال کو مفید بنا سکتے ہیں۔ٹیکنالوجی اور اسکرین میڈیا بچوں کے سیکھنے کے عمل میں چاہے کتنا ہی مفید ثابت کیوں نہ ہو لیکن سیکھنے کے عمل میں والدین کی شمولیت ،قابل اساتذہ اور بہترین ماحول کا کوئی بھی متبادل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کو محض ٹی وی کے آگے بٹھانے یا اسمارٹ فونز تھما دینے کی بجائے ان پر بذات ِ خود توجہ دیں کیونکہ بہترین تربیت اور سیکھنے کا عمل والدین کی گود سے ہی شروع ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top