بدھ, فروری 8, 2023
spot_imgspot_imgspot_img
Homeکراچیدرآمدی مشکلات، ملک میں طبی سامان کی کمی، سرجریز میں تعطل کا...

درآمدی مشکلات، ملک میں طبی سامان کی کمی، سرجریز میں تعطل کا خدشہ

کراچی:  ملک بھر میں طبی سامان کی عدم فراہمی کے باعث جان بچانے والی سرجری کے تعطل کا شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ میڈیکل اور سرجیکل آلات اور مشینری کی درآمد میں درپیش مسائل کی وجہ سے طبی سہولتوں کی فراہمی میں سنگین بحران کا خدشہ سروں پر منڈلا رہا ہے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے طبی آلات کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا تھا جس کے بعد امپورٹ پالیسی کو ڈریپ کے سرٹیفیکیٹ سے مشروط کر دیا گیا۔ڈریپ گزشتہ کئی سالوں میں جمع کرائی جانی والی رجسٹریشن کی بیشتر درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا اور اب تک بمشکل تین ہزار درخواستیں ہی نمٹائی جاسکی ہیں جبکہ پاکستان میں استعمال ہونے والی میڈیکل اشیاء کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد ہے۔میڈیکل ڈیوائسز میں لیب ٹیسٹ، سرجری اور اسپتالوں میں استعمال ہونے والے تمام آلات شامل ہیں، میڈیکل ڈیوائسز میں سرنج، کینولا، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر ناپنے والے آلات سے لیکر الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی مشینری تک شامل ہے، میڈیکل ڈیوائسز کے بغیر کوئی بھی اسپتال صحت کی سہولتیں فراہم نہیں کر سکتا۔پاکستان کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والی 90 فیصد میڈیکل ڈیوائسز درآمد کی جاتی ہیں، لہذا امپورٹ رکنے کی وجہ سے اسپتالوں میں صحت کی فراہمی کا عمل رکنے کا شدید اندیشہ ہے۔ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسو سی ایشن آف پاکستان کے سینئر وائس چیئر مین عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 90-95 فیصد طبی سازو سامان اور میڈیکل ڈیوائسز بیرون ملک سے امپورٹ کی جاتی ہیں۔جدید طرز کے طبی آلات امریکا، کینیڈا، جاپان، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سے خریدے جاتے ہیں جبکہ چین اور ترکی سے معمولی طبی سازوسامان منگوایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سب سے زیادہ مقبول

Scan the code