Sunday, November 29, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

میئر کراچی کے پاس اختیارات نہیں تھے، گورنر سندھ

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ پیغام...

اسٹیل مل کی نجکاری، ملازمین کو معاوضہ کی ادائیگی کا اعلان

حکومت نے اسٹیل مل کی نجکاری کا اعلان کردیا، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے...

لنڈا بازار غریب کی پہنچ سے دور کیوں؟ (خصوصی رپورٹ)

1موسم نے سرد انگڑائی لی تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے شہریوں نے بھی لنڈا بازاروں کا رخ کر لیا۔ جہاں دکانداروں نے بہت زیادہ قیمت بتائی جس سے خریداروں کے ہوش اڑ گئے۔ لنڈا بازار میں جا بجا لگے پرانے کپڑوں کے یہ ڈھیر سفید پوش طبقے کی بوتیکس ہیں۔ کوئی یہاں جرسی، سویٹر اور جیکٹس کا متلاشی ہے تو کوئی اونی پہناووں کا، یہاں اچھے سے اچھا جوڑا تلاش کرنا اور پھر تن کے ساتھ ماپنا اس بازار کی سرگرمیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے خریدار دو چار کی بجائے ایک پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ کہنے کو تو یہ پرانے کپڑوں کا سستا بازار ہے، لیکن یہاں پر چھائی مہنگائی پر متوسط طبقہ بھی یہی دہائی دے رہا ہے کہ وہ سردی کا مقابلہ کیسے کریں۔
جرسی، جیکٹ، کوٹ اور گرم سوٹ کے علاوہ مفلر، ٹوپیوں اور جرابوں کی وسیع ورائٹی سستے داموں دستیاب ہوتی ہے۔ لنڈا بازار کے لیے یہ تمام اشیاء بیرون ملک اور بالخصوص یورپین ممالک سے خریدی جاتی ہیں جن میں استعمال شدہ کپڑوں کے علاوہ گارمنٹس فیکٹریوں میں جو مال رد کر دیا جاتا ہے وہ بھی شامل ہوتا ہے۔ موسم سرما کا اختتام ہوتے ہی بچ جانے والے زائد مال کو کارٹن میں دوبارہ بھر کر اگلے سال فروخت کے لیے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
2
غریب، محنت کش، متوسط و سفید پوش طبقہ کے افراد کی بڑی تعداد میں شہری لائٹس ہاؤس، حاجی کیمپ اور بنارس سمیت شہر کے اکثر علاقوں میں لنڈا بازار سے خرید و فروخت کرنے کے لیے نکلتے ہیں، جن میں خواتین کی کثیر تعداد بھی شامل ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں ابھی کراچی تک نہیں پہنچی ہیں لیکن فکر مند لوگوں نے گرم کپڑوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ خاص کر وہ لوگ جو عام آدمی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان کا رخ کراچی کے لنڈا بازار کی طرف ہو گیا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں بس اسٹاپ اور فٹ پاتھوں پر قائم اسٹالوں سے گرم کپڑوں کی خریداری کو ترجیح دے رہی ہے۔
ٹھیلوں اور پتھاروں پر گرم کپڑوں کی قیمتیں لنڈا بازار کی نسبت کم ہیں۔ موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی گرم کپڑوں کا کاروبار کرنے والے چین، یورپ اور دیگر ممالک سے گرم کپڑے درآمد کرتے ہیں۔ دکانداروں نے بتایا کہ سردیوں میں شہری جیکٹس، سویٹرز، گرم ٹوپے، موزے، مفلر، ائیرکور، واسکٹ، کوٹ، لانگ کوٹ، ہائی نیک، گرم ٹرائوزرز وغیرہ کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہے۔ لنڈے بازار سے استعمال شدہ اشیاء کم از کم 50 روپے سے لے کر 1500 روپے تک مل جاتی ہیں ۔ لنڈا بازار سے
3
سستا مال لینے کی امید سے آنے والے مہنگائی کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سردی کی آمد سے قبل دیگر شہروں سے بھی لوگ لنڈے کا کاروبار کرنے کے لیے کراچی کا رُخ کرتے ہیں اور تین سے چار ماہ تک لنڈا بازار میں کاروبار کر کے پیسہ کماتے ہیں اور سیکڑوں لوگ روزگار بھی حاصل کرتے ہیں۔ اب تو کراچی میں نئی اور پرانی اشیاء کی آن لائن خرید و فروخت بھی ہو رہی ہے جو گھر بیٹھے استعمال شدہ اور نئی اشیاء ہوتی ہیں۔
Open chat