Sunday, October 25, 2020
Home Uncategorized گزشتہ 24 گھنٹوں میں پولیس افسر جاں بحق اور تین اہلکاروں سمیت...

گزشتہ 24 گھنٹوں میں پولیس افسر جاں بحق اور تین اہلکاروں سمیت 6افراد زخمی ہوگئے

 2-a-1-Target-killings-claim-8-more-lives-in-Karachiبریگیڈ اور پریڈی پولیس کی موبائلوں پر فائرنگ اور کریکر حملے کے نتیجے میں پولیس افسر جاں بحق اور تین اہلکاروں سمیت 6افراد زخمی ہوگئے، تفصیلات کے مطابق بریگیڈ تھانے کی حدود نیو پریڈی اسٹریٹ پر صدر پارکنگ پلازہ کے قریب پولیس کی موبائل کار نمبر SP-390A پر دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی اور فرار ہوگئے۔ فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سڑک پر کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں موبائل کار میں موجود پولیس افسر اے ایس آئی 46 سالہ ارشد تنولی ولد جمعہ خان اور کانسٹیبل 40 سالہ غلام علی جتوئی زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا تاہم اے سیا آئی ارشد تنولی جانبر نہ ہوسکا۔
ادھر پریڈی تھانے کی حدود میں تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر مین این اے جناح روڈ تبت سینٹر جاپان پلازہ کے سامنے موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں نے پولیس موبائل نمبر SP-3236 پر کریکر پھینکا جو خوش قسمتی سے موبائل کے اندر گرنے کے بجائے موبائل کے باہر سڑک پر گر کر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جبکہ ملزمان فرار ہوگئے۔ کریکر دھماکے کے نتیجے میں پولیس موبائل میں سوار دو اہلکار ہیڈ کانسٹیبل 38سالہ محمد آصف جاوید، پولیس کانسٹیبل 35سالہ ابرا ولد فیاض ، راہگیر باپ بیٹا 38سالہ ندیم ولد جمن، 8سالہ دروف جمن اور 45سالہ محمد فرقان ولد ریاض الدین زخمی ہوگئے، زخمی پولیس اہلکاروں کو جناح جبکہ راہگیروں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق مذکورہ پولیس موبائل رات کی شفٹ کی تھی اور صبح ڈیوٹی ختم ہونے سے کچھ دیر قبل حسب معمول ماما پارسی اسکول کے قریب کھڑی تھی کہ 8بجے کے قریب موٹرسائیکل سوار ملزمان نے پولیس موبائل پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کریکر دھماکے میں زخمی ہونے والا ندیم ریڈیو پاکستان کے قریب واقع جانوروں کے اسپتال کے احاطے میں رہائش پزیر اور واقعہ کے وقت اپنے بیٹے کو اسکول چھوڑنے جا رہا تھا کہ کریکر دھماکے کی ذد میں آگیا۔ پولیس نے واردات کا مقدمہ نمبر 705/14زیر دفعہ 324/34، 353، 3/4ایکسپلوزیو ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7-A.T.A کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا ہے۔ علاوہ ازیں سر سید ٹاﺅن تھانے کی حدود نارتھ کراچی میں یوپی موڑ کے قریب جمعہ کی صبح دو پولیس موبائلیں اسنیپ چیکنگ کر رہی تھی کہ موٹرسائیکل سوار افراد نے دو بار کوئی مشکوک چیز موبائل کی طرف پھینکی اور فرار ہوگئے، مشکوک چیز پھینکے جانے سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی ۔ پولیس نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر فوری بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے سئیوپنگ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں مشکوک پیکٹ بم ہیں، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دونوں بم ناکارہ بنا دئے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دونوں بم فوم ٹائپ بوتلوں میں تیار کئے گئے ہیں جن کا مجموعی وزن 650،650گرام ہے۔ بم میں ملزمان نے بڑی تعداد میں کیلیں بھی ڈالی تھیں جبکہ ڈیٹونیٹر کے طور پر انجیکشن والی سرینج کو استعمال کیا گیا تھا، ملزمان نے سرینج میں خطرناک آتشگیر مادہ بھرا ہوا تھا اور اسے سیفٹی فیوز ( بارودی رسی ) سے منسلک کر دیا تھا، بم پھٹنے کی صورت میں آگ بھی لگ جاتی، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ذرائع نے شبہ ظاہر کیا کہ دہشت گرد پولیس موبائلوں کو آگ لگانے کے ساتھ جانی نقصان بھی پہنچانا چاہتے تھے تاہم دونوں بم خوش قسمتی سے پھٹ نہیں سکے۔ پولیس کا کہنا ہے یوپی موڑ کے قریب صبح کے وقت لوگ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لئے آتے ہیں اور اہل علاقہ کی شکایات تھی کہ بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس جاتے ہوئے ان سے لوٹ مار ہوئی ہے لہٰذا مذکورہ مقام پر صبح کے اوقات میں روز پولیس موبائلیں موجود ہوتی ہیں اور پولیس اسنیپ چیکنگ کرتی ہے۔ واقعہ کے وقت بھی پولیس اسنیپ چیکنگ کر رہی تھی کہ موٹرسائیکل سوار افراد بم پھینک کر فرار ہوگئے۔ قائد آباد تھانے کی حدود شیرپاﺅ کالونی سواتی محلہ میں ضلع ملیر پولیس اور ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلے میں 5ملزمان مارے گئے اور دو شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے بتایا کہ پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ کاتعدم تحریک طالبان وزیرستان کا اہم کمانڈر مصباح پاک فوج کی جانب سے کالعدم تنظیم کے خلاف وزیرستان میں کئے جانے والے آپریشن ضرب عضب کے باعث شیرپوﺅ کالونی میں روپوش ہے۔ پولیس کو یہ بھی اطلاع ملی تھی کہ مذکورہ اہم کمانڈر مصباح دیگر دہشت گردوں کے ساتھ مل کر آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کو متاثر کرنے کے لئے سکیورٹی فورسز ، حساس تنصیبات، مساجد ، امام بارگاہوں اور اہم شخصیات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ جمعہ کو پولیس کو اطلاع ملی کہ دہشت گرد مصباح اور اسکے ساتھی سواتی محلے میں موجود ہیں جس پر پولیس کی بھاری نفری نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے علاقے کو محاصرے میں لے کر اندر پیش قدمی کی، اس دوران وہاں موجود ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کر دی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے 5ملزمان مارے گئے جبکہ دو شدید زخمی حالت میں موقع سے فرار ہوئے جنکی تلاش میں پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ سرچ آپریشن کے دوران مزید 20سے زائد مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ایس ایس پی راﺅ انوار نے بتایا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں پولیس کے بھی تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دستی بم بر آمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 5میں سے تین دہشت گردوں کی شناخت مصباح، کمال اور شاہ فیصل کے نام سے ہوئی ہے ۔ مارے جانے والے دہشت گرد شہر میں دہشت گردی ، قتل، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں بھی ملوث تھے، پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...