Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

ظفراللہ جمالی کی موت، جھوٹی خبر پر عارف علوی معذرت خواہ

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی موت کی غلط خبر دینے والی ٹویٹ کو ہٹادیا ، ڈاکٹر عارف...

گیس کی سپلائی بہتر ہوگئی، سوئی سدرن گیس کمپنی کا دعویٰ

سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ تین روز قبل ہونے والی سسٹم کی خرابی دور کرلی گئی ہے، ترجمان سوئی سدرن گیس...

پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل4 روپے فی لیٹر مہنگا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل، پیٹرول ،مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ جبکہ ڈیزل کی قیمت...

میرظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ، حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو دل کا دورہ ، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو دل کا دورہ پڑنے پر اے ایف آئی...

لبرلزم اور سیکولرزم اسلام کی نفی (حافظ عاکف سعید)

piaپی آئی اے حادثہ:
اس ہفتے کا سب سے زیادہ چونکا دینے والا بلکہ رلا دینے والا واقعہ پی آئی کے جہاز کا حادثہ ہے۔ اگرچہ دنیا میں کچھ بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہوتا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالیں۔ اس حادثے میں 48 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ہیں۔ اس میں جو کوتاہی اس ادارے کی طرف سے ہے یہ واقعی بہت سنگین ہے۔ ایک زمانے میں پی آئی اے ایک مثالی، لاجواب اور قابل فخر ادارہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب وہ کس حال تک پہنچ چکا ہے یہ سب کے سامنے ہے۔ ائیر مارشل اصغر خان اور رفیق سہگل کی شب و روز محنت سے اس نے دنیا میں اپنا ایک مقام بنا لیا تھا۔ یہ ادارہ نفع بخش بھی تھا۔ پی آئی اے کے ذریعے سفر کو محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کے کئی ممالک میں فضائی کمپنیاں قائم کرنے میں پی آئی اے نے تعاون کیا تھا۔ اب تو یقن نہیں آتا کہ یہ ادارہ کبھی ایسا بھی ہوا کرتا تھا۔ ایمیریٹس جو آج صف اول کی ایئر لائن ہے، اس کے علاوہ سنگاپور اور ملائیشین ایئر لائنز بھی پی آئی کے تعاون سے ہی قائم ہوئی تھیں۔ لیکن بعد میں سیاسی بنیادوں پر جو بھرتیاں شروع ہوئیں، اور کرپشن اور اقربا پروری نے اس ادارے میں جڑ پکڑا تو مالی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہوا۔ آج یہ ادارہ کئی ارب روپے کا مقروض ہے۔
کیا کرپشن وجہ بنی؟corruption
ان سب باتوں کے نتیجے میں حادثات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ اس کی کارکردگی کا لیول بھی انتہائی نیچے جا چکا ہے۔ خبروں کے مطابق اے آر ٹی طیارے کا ایک انجن فلائٹ سے پہلے بھی درست نہیں تھا۔ پھر بھی رسک لیا گیا۔ پرزوں کی تبدیلی میں بدعنوانی نے کئی گھر اجاڑ دیے۔ یہ اس ادارے میں ہر سطح پر جو کرپشن جاری ہے، اس کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے۔ حکومت جھوٹی اشک شوئی کی بجائے ادارے سے کرپشن کو ختم کرے۔ مال کی ہوس تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جو بھی واقعہ ہوتا ہے اس کا ذمہ دار پائلٹ کو قرار دے دیا جاتا ہے جو صریحاً جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ ادارے کے لیے یہ کام آسان ہے کیونکہ پائلٹ بے چارہ خود حادثہ کا شکار ہو چکا ہوتا ہے لہٰذا اس جھوٹ کا دفاع ممکن نہیں ہوتا۔
ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس:srtj
دوسرا ایشو یہ ہے کہ حال ہی میں بھارت میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس ہوئی ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی مشیر خارجہ سرتاج عزیز صاحب نے کی ہے۔ قومی سطح پر ہماری جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے اس کا سب کو علم ہے۔ انہیں ایئر پورٹ پر 40 منٹ تک سیکورٹی کا بہانہ بنا کر روکے رکھا گیا۔ جتنا وقت بھی انہوں نے وہاں گزارا وہ ہوٹل میں قید کی صورت میں گزارا ہے۔ کانفرنس کے بعد بھی انہیں پریس کانفرنس کرنے اور گولڈن ٹمپل جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کچھ سفارتی آداب بھی ہوتے ہیں جس کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ اٖفغٓانستان کے صدر عبدالغنی نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے دنیا بھر کے الزامات عائد کر دیے۔ پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ اور اس کا برآمد کنندہ قرار دیا۔ یہ الزامات مودی نے بھی پاکستان پر لگائے ہیں۔ سرتاج عزیز صاحب گویا ایک ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑے رہے۔ کسی قدر تلافی روس نے کی اور پاکستان کی حمایت میں کچھ باتیں کیں۔ اس کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے الزمات کی مذمت بھی کی گئی۔ تاہم جو کچھ وہاں ہوا وہ یقینا بہت ہی افسوسناک ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی:qaid-uni
آخری ایشو قائد اعظم یونیورسٹی کے سینٹر آف فزکس کو ڈاکٹر عبد السلام کو منسوب کیے جانے کا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ ایک متعصب قادیانی تھا۔ مسئلہ صرف یہی نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ اس کا اہل تھا بھی یا نہیں۔ حقائق کچھ اور ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اس سنٹر کا آئیڈیا ضرور دیا تھا۔ اس کے لئے منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ لیکن جب 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو وہ پاکستان چھوڑ کر اٹلی منتقل ہو گیا۔ ساری منصوبہ بندی اور پروگرام وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ وہاں اس نے سنٹر آف فزکس قائم کیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے اس سنٹر کے لئے ڈاکٹر ریاض الدین نے شب و روز محنت کی۔ حقیقتا ً وہ اس مرکز کے بانی تھے۔ لیکن ان کے نام کی بجائے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب اس لئے کیا گیا کہ تاکہ ایک قادیانی کو یہ اعزاز دے کر اسلام دشمن قوتوں کی حمایت حاصل کی جائے۔ اس طرح دنیا میں اسلام کی رسوائی کا سامان کیا گیا ہے۔
قرآن حکیم:quran
قرآن حکیم کے مطابق منافقین کا اصل مرض یہ تھا کہ ان کی دوستیاں یہود کے ساتھ تھیں۔ قرآن نے کہا کہ یہود و نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرو۔ جب تک تمہارے ساتھ اسلام کا لاحقہ لگا ہوا ہے، یہود و نصاریٰ ہم سے راضی نہیں ہوں گے خواہ ہم الٹے لٹک جائیں۔ ہم الٹے لٹکنے والے سارے کام کر رہے ہیں تاکہ وہ راضی ہو جائیں۔ لیکن وہ ہر گز اس پر قناعت نہیں کریں گے۔ وہ چاہیں گے کہ اسلام کو چھوڑ کر ان کے ملت کی پیروی کی جائے۔ انہیں ایک ہی بار یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اپنے طور طریقوں کو درست کریں۔ لبرل اسلام کیا ہوتا ہے؟ سیکولرازم اور اسلام کا کوئی جوڑ نہیں۔ لبرلزم بھی اسلا م کی مکمل نفی ہے۔ اسلام میں لوگوں پر کچھ پابندیاں ہیں جن کے تحت زندگی گزارنا ہے۔ ہم مکمل آزاد نہیں۔
حدیث رسول:hadith
حضور ﷺ نے صاف فرما دیا کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ یہ بات ایک خاص معنی میں ہے۔ کافر کے لئے حرام و حلال کی کوئی قید نہیں۔ جس طرح دنیا کے قید خانوں میں کچھ پابندیاں ہوتی ہیں، اسی طرح مسلمان دنیا میں بہت ساری چیزوں کا پابند ہے۔ اسے یہ آزادی حاصل نہیں کہ جو مرضی میں آئے کرے۔ معیشت کی حدیں بھی بتا دی گئیں۔ معاشرت کی چندحدود ہیں۔ ان پابندیوں کے اندر رہنا ہی اسلام ہے۔ ان پابندیوں سے آزادی کفر ہے۔ میاں نواز شریف صاحب نے جو لبرلزم کا نعرہ لگایا تھا وہ اس بات کا اعلان تھا کہ ہمیں اسلام کی حدود و قیود گوارا نہیں۔ لبرلزم کا مطلب یہ ہے۔ ریاست کا سیاسی، معاشی عدالتی اور معاشرتی نظام کیا ہو گا۔ اس میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہو سکتا۔ ہم خود نظام طے کریں گے۔ کسی آسمانی وحی کا عمل دخل ہمیں قبول نہیں ہے۔ ہم لبرلزم اور سیکولرزم کی طرف جا کر انہیں خوش کرنا چاہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور اسلام کاسچا وفادار بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
Open chat