خسارے سے پاک زندگی کا قرآنی نسخہ(مفتی عبداللطیف )

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”قسم ہے زمانے کی کہ ہر انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جنہوں نے آپس میں حق بات کی وصیت کی اور صبر کی نصیحت کی“۔ (سورة العصر) سورة العصر قرآن کریم کی مختصر سی سورت ہے، جس میں صرف تین آیات ہیں لیکن ایسی جامع ہے کہ بقول حضرت امام شافعیؒ کہ اگر لوگ اس سورة کو غور و فکر اور تدبر کے ساتھ پڑھ لیں تو دین ودنیا کی درستی کے لیے کافی ہو جائے۔ حضرت عبد اللہ ابن حصینؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے دو شخص آپس میں ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ان میں سے ایک دوسرے کے سامنے سورة العصر نہ پڑھ لے۔ (طبرانی)
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے العصر کی قسم کھائی ہے، جس سے مراد زمانہ ہے کیوں کہ انسان کے تمام حالات، اس کی نشو ونما، اس کی حرکات وسکنات، اعمال اور اخلاق سب زمانے کے لیل ونہار میں ہی ہوں گے۔ جہاں تک قسم کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ کے کلام میں قسم کے بغیر بھی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم فرما کر، کسی حکم کی خصوصی تاکید اور اس کی اہمیت کی وجہ سے قسم کھا کر کوئی حکم بندوں کو کرتا ہے تاکہ بندے اس حکم کی اہمیت کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں اور حکم بجا لانے میں کوئی کوتاہی نہ کریں البتہ یاد رکھیں کہ انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں ہے، اس حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تعلیمات احادیث کی کتابوں میں موجودہیں۔

سورة العصر کی روشنی میں خسارے سے صرف وہی لوگ بچ سکتے ہیں، جن کے اندر یہ چار صفات موجود ہوں۔ پہلی صفت ایمان کی ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لائیں اور اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام تعلیمات پر ایمان لائیں۔ پھر اللہ کے حکم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق نیک عمل کریں۔ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والے لوگ، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں۔ اسی طرح ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہیں۔

دین و دنیا کے خسارے سے بچنے اور نفع عظیم حاصل کرنے کے لیے اس قرآنی نسخے میں پہلے دو اجزاءایمان واعمال صالحہ اپنی ذات کی اصلاح کے متعلق ہیں۔ دوسرے دو جزءدوسروں کی ہدایت و اصلاح سے متعلق ہیں۔ یعنی ہم اپنی ذات سے بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بجا لائیں اور ساتھ میں یہ کوشش اور فکر کریں کہ میری اولاد، میرے رشتے دار اور میرے پڑوسی سب اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کو گزارنے والے بنیں، تاکہ ہم سب بڑے خسارے سے بچ کر، ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی حاصل کرنے والے بن جائیں۔

ہر شخص اپنی زندگی کا جائزہ لے کہ اس کے اندر یہ چار اوصاف موجود ہیں یا نہیں؟ قرآن کریم کے اس واضح اعلان سے معلوم ہوا کہ اگر یہ چار اوصاف یا ان میں سے کوئی ایک وصف بھی ہمارے اندر موجود نہیں ہیں تو ہم دنیا وآخرت میں ناکامی اوربڑے خسارے کی طرف جارہے ہیں۔ لہٰذا ابھی وقت ہے، موت کب آجائے، کسی کو نہیں معلوم، ہم سب پختہ ارادہ کریں کہ دنیا وآخرت کی کامیابی حاصل کرنے اور بڑے خسارے سے بچنے کے لیے یہ چار اوصاف اپنی زندگی میں آج بلکہ ابھی سے لانے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔ اللہ ہم سب کو زندگی کے باقی ایام ان چار اوصاف سے متصف ہوکر گزارنے والا بنائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top