Tuesday, November 24, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

خداداد کالونی ،گودام کی بالائی منزل پر آتشزدگی

خداداد کالونی میں گودام کی بالائی منزل میں آگ لگ گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں روانہ، ریسکیو ذرائع...

نکاسی کی 936 میں سے781شکایات کا ازالہ کردیا،واٹربورڈ

واٹربورڈ نے شہر کے مختلف علاقوں سے موصولہ فراہمی ونکاسی آب کی 700سے زائد شکایات کا ازالہ...

ریسٹورنٹس میں ان ڈورڈائننگ پر پابندی عائد

ریسٹورنٹس میں ان ڈور ڈائننگ پر پابندی عائد، کمشنر کراچی نے ریسٹورنٹس کے حوالے سے تمام ڈپٹی...

سی ویو پر سائیکلنگ کرنے والوں کے خوش خبری

سی ویو پر سائیکلنگ کرنے والوں کے خوش خبری، کنٹونمنٹ بورڈ نے سی ویو پر تین کلو میٹر...

عبدالستار ایدھی، ہے زندگی کا مقصد دوسرو ں کے کام آنا (سید ماجدعلی)

rsz_cm3qci8wyaelts9مولانا عبدالستار ایدھی 1928ءمیں بھارتی گجرات کے شہر ”بانٹوا“ میں پیدا ہوئے، ان کے والد کپڑوں کے ایک تاجر تھے۔ 1947میں قیامِ پاکستان کے وقت وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے کراچی آئے۔ 1951ءمیں انہوں نے ذاتی دکان میں ایک ڈاکٹر کی مدد سے مختصر شفاخانہ کھولا۔انسانی خدمت اور فلاح و بہبود کے حوالے سے مولانا عبدالستار ایدھی عالمی شہرت رکھتے تھے۔ امریکی جرائد انہیں ”فادر ٹیریسا آف پاکستان“ کا خطاب بھی دے چکے ہیں۔
ایدھی فاونڈیشن کا آغاز 1957ءمیں اس وقت ہوا جب کراچی میں بڑے پیمانے پر زکام (فلو) کی وبا پھیلی اور اس موقع پرایدھی صاحب نے مخیر حضرات کی مدد سے کراچی کے قرب و جوار میں مفت طبّی کیمپ لگوائے۔ ان کے کام سے متاثر ہوکر مخیر حضرات نے انہیں خطیر رقم کا عطیہ کیا، جسے استعمال کرتے ہوئے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری قائم تھی۔ اسی عمارت میں انہوں نے ایک زچہ خانہ اور نرسوں کے لئے ایک تربیتی ادارہ قائم کیا۔ ایدھی فاونڈیشن کا آغاز بھی یہیں سے ہوا۔
انسانیت کی بے لوث خدمت میں عالمی شہرت حاصل کرنے کے باوجود، مولانا عبدالستار ایدھی انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ وہ انتہائی معمولی قمیض شلوار پہنتے تھے جبکہ جوتوں کا ایک ہی جوڑا گزشتہ 20 سال سے ان کے استعمال میں rsz_edhiتھا۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی کسی بھی لسانی اور مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر اپنے ہم وطنوں کی بے لوث خدمت کے لیے وقف کی۔در حقیقت ایدھی مدر ٹیریسا کی طرح ایک بے مثال سماجی کارکن تو تھے ہی، جو بات انہیں مدر ٹیریسا سے ممتاز کرتی تھی وہ ان کا مذہب کی قید سے بلند ہو کر انسانیت کی خدمت کرنا تھی۔ ایدھی خود کو ایک صرف انسان قرار دیتے تھے اور انسانیت اور صرف انسانیت ہی ان کے لیے اہم ترین تھی۔ اسی لیے انہوں نے تمام مسالک اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے دن رات کام کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کی خبر نے پاکستان کے ہر شخص کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان کا سب سے زیادہ چاہے اور سراہے جانے والا شخص اب ہم میں نہیں رہا۔rsz_edhi3
اس عظیم فلاحی کارکن نے ایدھی فاونڈیشن نامی تنظیم چھ دہائیوں تک کچھ ایسے چلائی کہ حکومت بھی وہ کام نہ کر سکی جو اس تنظیم نے کیا۔ بلا شبہ ایدھی فاونڈیشن نے نہ صرف پاکستان بلکہ بر صغیر میں فلاحی کام کو ایک انقلابی شکل دی۔ ایدھی فاونڈیشن اس وقت بھی وسیع پیمانے پر ایمبولنس سروس، مفت ہسپتال، اور لاوارث بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے لیے دارالامان چلا رہی ہے۔ پاکستان میں ایک مثال زبان زد عام رہی ہے کہ حکومت کی سروس سے پہلے ہی ایدھی کی ایمبولنسیں متاثرہ افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔
معروف دانش ور ڈاکٹر مہدی حسن کا ایدھی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا، ”جہاں دنیا میں ایک عام پاکستانی کو فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے حوالے سے جانا جاتا ہے وہاں ایدھی نے پاکستان کا ایک مثبت تصور اجاگر کیا۔“ انہوں نے کہا، ”ایدھی نے اپنے فلاحی کاموں کا آغاز ایک چھوٹے سے مکان سے کیا اور آج ان کا ادارہ جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے غیر ریاستی فلاحی اداروں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے اکثر سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے برعکس ایدھی نے سادگی سے زندگی گزاری اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے ان پر محبت اور چندوں کی بارش
کی۔“
سینیٹر تاج حیدر کہتے ہیں کہ پاکستان میں ریاست اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ”اس صورت میں دو طرح کے رجحانات پیدا ہوئے، ایک نجی شعبہ جو منافع کے لیے کام کرتا ہے، اور دوسرا ایدھی جیسے بے لوث لوگ جنہوں نے سرکاری بے حسی کے خلا کو پ±ر کیا۔“
عبدالستار ایدھی کے انتقال سے پہلے بھی پاکستان میں یہ عوامی مطالبہ گردش کرتا رہا تھا کہ ایدھی کو موقر نوبل انعام سے نوازا جائے۔ ان کی رحلت کے بعد یہ مطالبہ دوبارہ کیا جا رہا ہے۔ زیادہ تر پاکستانیوں کی رائے ہے کہ اگر کوئی شخص اس انعام کا واقعی حق دار ہے تو وہ ایدھی ہیں۔تاہم ایدھی خود انعامات اور اعزازات کے شوقین نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ وہ جو کام کر رہے ہیں، وہ کسی بھی دنیاوی اعزاز سے برتر ہے۔ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا، ”میرا کام انسانیت کی خدمت ہے۔ میرا کام مجھے اطمینان دیتا ہے۔“
تاہم ایسا نہیں کہ ایدھی کو کوئی ایوارڈ نہ ملا ہو۔ انیس سو چھیاسی میں انہیں اور ان کی بیوہ بلقیس ایدھی کو رامون میگ سیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ان کو لینن ایوارڈ اور بالزان ایوارڈ بھی ملا تھا۔ انیس سو نواسی میں انہیں حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سولین ایوارڈز میں سے ایک نشانِ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔ایدھی بڑی حد تک ایک غیر سیاسی شخص تھے۔
تاج حیدر اس بابت کہتے ہیں: ”پاکستان میں غیر جمہوری قوتیں ایدھی کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سماجی انقلاب پر یقین اور فوجی حکومتوں سے عار رکھتے تھے۔“
جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے کہا کہ ایدھی ایک ایسا ادارہ تھے جو کہ ملک کے پس ماندہ طبقے کے لیے کام کرتا تھا۔ ”انہوں نے مشکل وقت بھی دیکھا مگر اپنے مشن کو جاری رکھا۔“آج ایدھی ہم میں نہیں ہیں مگر ان کے اہل خانہ اور ایدھی فاونڈیشن کے کارکنان ان کا مشن آگے بڑھا رہے ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی زندگی میں اس بات کو یقینی بنا دیا تھا کہ وہ اپنے پیچھے ایک ادارہ چھوڑ جائیں جو ان کے بعد بھی انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرتا رہے۔ یہ موت کے بعد امر ہو جانے کی ایک علامت نہیں تو اور کیا ہے؟
Open chat