Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر عالمی یومِ خواندگی اور پاکستان (سید ماجدعلی)

عالمی یومِ خواندگی اور پاکستان (سید ماجدعلی)

53b758d4711e9دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں آپ کو ایک مشترکہ خوبی بڑی نمایاں نظر آئے گی وہ یہ کہ وہاں کی خواندگی کی شرح بہت قابل تعریف ہوتی ہے۔ اور یہ بات ہی ان کی کامیابی کا راز ہے کیونکہ تعلیم حاصل کئے بغیر انسان کبھی بھی معاشی ترقی نہیں کر سکتا۔ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس لئے ہی پسماندہ اور مشکل زندگی گزارتے تھے کہ وہ تعلیم سے کوسوں دور رہتے تھے۔ ان میں تعلیم کی افادیت کا شعور ہی نہیں تھا۔ لیکن وقت گزرنے کا ساتھ ساتھ جب کچھ ممالک کے لوگ بحرالعلم کے ساحل پر پہنچے اور آبِ تعلیم سے خود کو سیر کیا۔ تو بس پھر انہوں نے فن اور صنعت کی دنیا میں ایسے جوہر دکھائے کہ انسان کو فرش سے اٹھا کر فضاوںتک پہنچا دیا۔ نئی ٹیکنالوجی سے دنیا کو متعارف کروایا اوراپنی زندگی کو سہل بنایا۔ یعنی اس سے معلوم ہو اکہ تعلیم ہی واحد ماسٹر چابی ہے جو انسانی شعور کے بند دریچوں پر لگے قفل کھولتی ہے۔
“World Literacy Day” خواندگی کا عالمی دن ہر سال 8 ستمبر کو دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں منایا جاتا ہے۔ اس کو منانے کا اعلان unesco نے نومبر 1965ءمیں کیا تھا اور پھر یہ دن پہلی مرتبہ 1966ءمیں منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں خواندگی کی اہمیت کو اجا گر کرنا ہے۔ خواندگی جو کہ پڑھنے اور لکھنے کی قابلیت کا نام ہے۔ تمام دنیا میں اس وقت تقریبا 775 ملین افراد ایسے ہیں جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔ اور ان میں دو تہائی تعداد خواتین کی ہے۔ لیکن آج دنیا کا ہر ملک خاص طو رپر کم ترقی یافتہ ممالک اپنی شرح خواندگی کو بڑھانے کی ہر طرح کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پسماندہ ممالک میں پست معیارِ زندگی کو ناخواندگی اور تعلیمی سہولتوں کے فقدان سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آج تو تعلیم پر خاصی رقوم خرچ کی جارہی ہیں۔ دراصل کم ترقی یافتہ ممالک میں ایک تو آبادی کا تناسب بہت ذیادہ ہے اور دوسرا آبادی کا بڑا حصہ غربت کا شکار ہے۔ یہ ہی چیز ناخواندگی کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔
اب پاکستان میں خواندگی کی صورتِ حال کا جائزہ لیں توپاکستان میںخواندگی کی شرح مجموعی طور پر پچاس سے ساٹھ فیصدہے۔ Unicef کی ایک رپورٹ کے مطابق اب بھی 65 لاکھ سے بھی ذیادہ بچے پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے لئے اسکول نہیں جاتے۔ یعنی پاکستان میں ہر 10 میں سے 3 بچے سکول میں داخلہ ہی نہیں لیتے۔ اور اسکول نہ جانے والے بچوں میں ذیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 38% لڑکیاں اسکول نہیں جاتیںاور لڑکوں میں یہ شرح 30% ہے۔
pakistan-sindh_education-phoاب پاکستان میں تعلیم اداروں کی تعداد کا جائزہ لیں تو اس وقت پاکستان میں سرکاری و نجی یعنی کل تعلیمی اداروں کی تعداد دو لاکھ ستر ہزار آٹھ سو پچیس کے قریب ہے۔ کل اساتذہ کی تعداد پندرہ لاکھ آٹھ ہزار ہے اور طلبہ کی تعداد تقریبا 4 کڑوڑ ہے۔ جنس کے لحاظ سے جائزہ لیں تو 58% فیصد میل اسٹوڈنٹس اور 42% فی میل اسٹوڈنٹس ہیں۔
تعلیمی اداروں میں72% سرکاری اور 28% پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں۔ 26 ملین اسٹوڈنٹس سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ 14 ملین اسٹوڈنٹس پرائیویٹ میں۔ اب اگر اساتذہ کی تعداد کے لحاظ سے تعلیمی اداروںکا موازنہ کیا جائے تو 58% اساتذہ سرکاری اور 42% اساتذہ پرائیویٹ اداروں میں تعلیمی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کل اساتذہ میں 45% مرد اور 55% عورتیں ہیں۔ پاکستان میں کل سرکاری و نجی 135 یونیورسٹیاں ہیں۔ ان میں 76 سرکاری اور 59 پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں اور ٹیکنیکل یا پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں اس وقت ٹوٹل3224 تکنیکی تعلیمی ادارے ہیں جن میں 976 یعنی 30% سرکاری اور2257 (70%) پرائیویٹ ادارے ہیں۔
مجموعی طورپر صوبہ سندھ کی شرح خواندگی 59فیصد ہے۔ 23میں سے 13 اضلاع کی شرح خواندگی 50فیصد سے کم ہے۔کراچی کی شرح خواندگی 79%اور حیدرآباد کی 96%ہے۔
پاکستان میں ناخواندگی اس لئے بھی ہے کہ بچے اسکول میں داخلہ تو لے لیتے ہیں لیکن اپنا تعلیمی کیرئیر جاری نہیں رکھ پاتے۔ ان میں پڑھنے کا شوق نہیں ہوتا چنانچہ فیل ہو جاتے ہیں۔ یوں ان کے والدین بچپن میں ہی انہیں کسی کام کاج پر لگادیتے ہیں۔ شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کی شرح دیہی علاقوں کی نسبت بہت ذیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں کئی بچے اس لئے بھی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے کہ اسکول وغیرہ ان کے گھروں سے کافی دور پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے گھر والے بھی پڑھے لکھے نہیں ہوتے اس لئے وہ اپنے بچوں کو بھی زیادہ زور نہیں دیتے۔ غربت بھی اس کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ لیکن اب دوسروں کی دیکھا دیکھی میں کافی شعور آتا جا رہا ہے اور دیہی علاقوں میں بھی تعلیم حاصل کرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت پاکستان خواندگی کی شرح بڑھانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لئے خاصہ حصہ رکھا جا تا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ عملی طور پر انتظامیہ کام کرنے میں کوتاہی برتتی ہے۔
618183-SindhiLangDesignAnamHaleem-1381785945-408-640x480ہمارے ہاں تعلیم اور اساتذہ کے امیج کو متاثر کرنے والی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ اگر کسی پڑھے لکھے کو نوکری نہیں ملتی تو وہ بچوں کو پڑھانا شروع کر دیتا ہے۔ہمارا تعلیمی نصاب بھی جدید نہیں ہے۔ہمارے تعلیمی نصاب اور نظام کو ماڈرنائز کرنے کی ضرورت ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا اساتذہ کو بھی جدید ٹیچنگ سکلز سکھانے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ بچوں کو پیشہ وارانہ تعلیم دلانے کی اشد ضرورت ہے۔تا کہ حاصل کی جانے والی تعلیم ان کو عملی ذندگی میں خاطر خواہ فائدہ پہنچائے۔

majid.ali1960@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

پشاور دھماکے کی شدید مزمت و قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہیں، حلیم عادل شیخ

پشاور دھماکے پر پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کی مزمت و قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس, ان...

سی ایس ایس امتحان، کراچی کے شہریوں کے لیے بڑی خوش خبری

کراچی: ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار علی شالوانی نے فریئر ہال میں سی ایس ایس کارنر کا افتتاح کر دیا، ان کا کہنا تھا...

کراچی چڑیا گھر اور برگد کا درخت

برگد کا درخت متعدد خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ...

کراچی کی تاریخی لی مارکیٹ

لی مارکیٹ اہل کراچی کے لیے جانا پہچانا نام ہے۔یہ شہر کی قدیم آبادی لیاری کے قریب واقع ہے۔انگریز دور میں...