Sunday, November 1, 2020
Home خصوصی رپورٹس 3Gکے بعد ویڈیو اسٹریمنگ کا بڑھتا ہوا رجحان (عبدالولی خان)

3Gکے بعد ویڈیو اسٹریمنگ کا بڑھتا ہوا رجحان (عبدالولی خان)

02رواں برس اپریل میں تھری اور فور جی لائسنس کی نیلامی نے پاکستان میں ایک جانب سے برسوں سے التواءکا شکار معاملہ نمٹا دیا ۔تو دوسری جانب تفریح کی نئی راہیں کھول دیں، جن میں سر فہرست ویڈیو اسٹریمنگ ہے۔ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ گستاخانہ مواد کی اشاعت کے بعد سے ستمبر 2012میں دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ پاکستا ن میں بلاک کر دی گئی ابتداءمیں تو پراکسی اور اور دیگر طریقوں سے اس ویب سائٹ کو صارفین استعمال کرتے رہے لیکن ساتھ ہی مقامی ویب سائٹس نے اچھی معیاری سروس فراہم کر کے اپنا مقام بنا لیا ہے۔
پاکستانی موبائل صارفین کے لئے تھری جی پیکجز اور سروس کی دستیابی کے بعد ٹی وی چینلز انتظامیہ نے بھی اپنی نشریات ویب پر بھی نشر کرنا شروع کر دی ہیں۔ جن میں پی ٹی وی، اے آروائی نیوز، آج نیوز، کیپٹیل ٹی وی، اب تک، ایکسپریس نیوز، دنیا نیوز، ڈان نیوز، سماءٹی وی، جیو نیوز، وقت نیوز، نیوز ون، سٹی 42، خیبر نیوز،سچ نیوز، رائل نیوز، جاگ ٹی وی سمیت دیگر ٹی وی چینلز شامل ہیں۔ کس چینل کو صارفین کی کتنی بڑی تعداد ویب پر دیکھتی ہے اس کے درست اعداد و شمار حاصل نہیں ہو سکے، کیونکہ ہر چینل کا دعویٰ یہی ہے کہ وہ نمبر ون ہے اور اس کے صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ساتھ ہی ٹی وی چینلز اپنے بلیٹن موبائل اپیلی کیشنز کے ذریعے بھی موبائل انٹر نیٹ صارفین تک پہنچارہے ہیں جن میں اے آر وائی، ایکسپریس، جیو ، سمائ، عوام میں زیادہ مقبول ہیں اور اینڈرائڈ، ونڈوز فون، ایپل، بلیک بیری موبائل فونزسمیت ٹیبلٹس پر بھی لائیو اسٹریمنگ کی اپیلی کیشنز کے ذریعے دیکھ رہے ہیں۔
04حامد میر پر ہونے الے حملے کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی پر الزامات اور مارنگ شو اٹھو جاگو پاکستان میں گستاخی کے واقعات کے بعد جیو نیوز کی ریٹنگ کا گراف تیزی سے کم ہوا۔ اور وہ بلا مبالغہ نمبر ون چینل ہونے کے بعد سے مسلسل زوال کا شکار ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں موبائل اور انٹرنیٹ پر جیونیوز کی لائیو نشریات دیکھنے کے لئے صرف 39لاکھ 34ہزار 6سو بار اس کی ویب سائٹ وزٹ کی گئی جبکہ اس موقع کا بھرپور فائدہ ایکسپریس نیوزاٹھایا اور 70لاکھ 19ہزار7سو ناظرین نے نیٹ پر اس کی خبریں سنیں۔سماءٹی وی کی ویب سائٹ 24لاکھ60ہزار6سو ، اے آر وائی نیوز کی 22لاکھ 99ہزار4سو، پی ٹی وی نیوز کی 4لاکھ 18 ہزار 2سو، آج ٹی وی کی 3لاکھ 37ہزار ایک سو اور اب تک کی 2لاکھ 51ہزار ایک سو بار وزٹ کر کے خبریں سنی گئیں۔

یو ٹیوب کی بندش کی بندش کا سب سے بڑا فائدہ tune.pkکو ہوا جس نے ویڈیو شیئرنگ میں بہت جلد اپنا مقام بنایا اور اس حوالے سے پاکستان کی سب سے بڑی ویب سائٹ بن گئی ، جبکہ پاکستانیوں کی جانب سے ویڈیو اسٹریمنگ کے لئے سب سے زیادہ dailymotion.comوزٹ کی جاتی ہے۔پاکستان سے باہر بسنے والے پاکستانی اردو ڈرامے دیکھنے کے لئے youtubeکا ہی سہارا لیتے ہیں اور ہمارے ٹی وی چینلز کی جانب سے باقاعدگی سے ڈراموںکی تمام اقساط یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

موجودہ اعداد و شمار ، رجحانات اور پسندیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ویڈیو اسٹریمنگ میں اردو ڈرامے دیکھا جانا سر فہرست ہے اس کی سب سے بڑی وجہ لوڈ شیڈنگ اور ساتھ ہی ایک وقت میں 2یا اس سے زیادہ مختلف چینلز پر نشر کئے جانے والے اچھے ڈرامے میںہیں۔چینلز کی بھرمار کی وجہ سے ڈراموں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے اور ابتداءمیں تو معلوم ہی نہیں ہوتا کون سا ڈرامہ اچھا ہے اور کون سا اوسط، چند اقساط کے بعد جب ڈرامہ مقبول ہوتا ہے تو ناظرین کو گزشتہ اقساط دیکھنے کا خیال آتا ہے اور اس کا سب سے بڑ ا ذریعہ ٹی وی چینلز کی اپنی ویب سائٹس یا پھر ڈراموں کے لئے خصوصی طور پر تیار کی گئی ویب سائٹس ہیں۔ ان ویب سائٹس پر خواتین صارفین کی تعداد زیادہ ہے جبکہ سیاسی ٹاک شوز کا بھی یہی حال ہے ایک وقت میں کئی کئی ٹاک شوز مختلف چینلز پر نشر ہورہے ہوتے ہیں اور فیس بک پر کسی شو کے ہٹ ہونے کی وجہ سے اس کے ناظرین بھی ان ویب سائٹس کا رخ کرتے ہیں۔
فٹبال ورلڈ کپ اور کرکٹ کے میچوںکے دوران لوڈ شیڈنگ یا ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے تھری جی ٹیکنالوجی بہت کام آئی، کھیلوں کے شائقین نے اپنے پسندیدہ میچوں کے مزے لائیو اسٹریمنگ کی مدد سے اڑائے۔ لیکن تھری جی کا یہ استعمال محدود اور مخصوص دنوں میں ہوتا ہے کیونکہ ہر وقت میچز تو نشر نہیں ہو رہے ہوتے۔

پاکستانی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز دیکھنے کے لئے مقبول ترین ویب سائٹ zemtv.comہے جس کو گزشتہ ماہ ماہانہ 70لاکھ سے زائد بار وزٹ کیا گیا، جبکہ خواتین کی بہت بڑی تعداد dramapakistani.net ، www.dramasonline.com ،http://www.dramasnet.com سمیت مختلف ویب سائٹس پر ڈرامے دیکھتی ہے اور تھری جی نے یہ کام مزید آسان کر دیا ہے۔

06ٹیلی کام اور آئی ٹی انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ابھی ہائی اسپیڈ انٹر نیٹ مکمل طور پر دستیاب نہیں ہے، ان کا کہنا ہے لندن جیسے شہر میں تھری جی کو بھر پور انداز میں لانچ ہونے میں 4سال کا عرصہ لگا تھا تو ہمیں اس سے زیادہ نہیں تو کم از کم اتنا وقت تو درکار ہو گا۔دو سری جانب ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہائی اسپیڈ انٹر نیٹ کا استعمال تعلیمی یا کاروباری مقاصد کے لئے ہو تو تعمیری ہے لیکن اگر اس کا بڑا حصہ تفریحی اور وقت ضائع کرنے میںا ستعمال ہوا تو یہ سرا سر گھاٹے اور نقصان کا سودا ہی ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

ہم سب کو تھوڑی سی شرم ہونی چاہے,وسیم اکرم کراچی والوں سے سخت ناراض

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم ساحل کی گندگی دیکھنے کے بعد ایک بار پھر عوام سے ناراض ہو گئے۔وسیم...

سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن پر نیب کا بڑا اقدام

صوبہ سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے بڑا ایکشن لے لیا۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ...

مزار قائدکی بے حرمتی کا کیس کیپٹن (ر) صفدر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

کراچی: عدالت نے مزار قائد پر نعرے بازی کے کیس میں کیپٹن (ر) صفدر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم...

سول ایوی ایشن نے نارتھ سیکٹر لاہور ریجن میں ضم کردیا

کراچی :سول ایوی ایشن نے کراچی کے نارتھ سیکٹر فلائٹ انفارمیشن ریجن کو لاہور ریجن میں ضم کر دیا جو آج سے...