صادق اور امین قیادت، رہنما MML محمد آصف کا خصوصی انٹرویو

M aisfانٹرویو: مریم اقبال
خدمت کی سیاست کی باتیں توسب ہی کررہے ہیں مگر حقیقی معنوں میں جنہوں نے خدمت پہلے اور سیاست بعد میں کی وہ تھی ملی مسلم لیگ۔ جماعة الدعوة کی قیادت نے جب سیاست میں قدم رکھا تو باقی جماعتوں کی طرح لوگوںکو جھوٹے نعرے دینے کے بجائے دو ہی منشور تھے۔ ایک خدمت اور دوسرا نظریہ پاکستان ۔ نظریہ پاکستان پر بننے والے ملک میں آج تک کوئی ایسی پارٹی وجود میں نہ آسکی جو حقیقت میں نظریے پر کاربند رہی ہو۔ ملی مسلم لیگ نے اس نظریے کا دفاع اس سے قبل بھی کیا اور اب بھی ایوان میں اس نظریے کو لے کر آنے کا عزم کیا ہے۔اس جماعت کا منشور ، مقصد کیا ہےاور  سیاست میں قدم کیوں رکھا۔۔۔
جانیے کراچی اپ ڈیٹس کی ٹیم کی جانب سے ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ پارٹی تحریک اللہ اکبر کے کراچی سے نوجوان رہنما اور پی ایس 111 کے امیدوار محمد آصف کے اس خصوصی انٹرویو میں ، پڑھنے کے بعد  اپنی رائے ضرور دیجیے۔

m asif 2سوال: آپ لوگ پہلے خدمت کا کام کررہی تھی، پھر اچانک سیاست میں آنے کی وجہ؟
محمد آصف: بالکل درست کہا، ہم شروع دن سے ہی دعو ت و خدمت کے لوگ رہے ہیں، ہماری خدمات کو نہ صرف اندرون پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی سراہا گیا۔ مگر پھر ایسا ہوا کہ ہمارے کاموں کو روکا جانے لگا۔ آپ اس میں مسلم لیگ ن کو ذمے دار ٹھہرائیں یا پھر ایسی ہی دیگر پارٹیوں کو۔ ایسے میں شاید ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا، تو مجبورا سیاست میں آنا پڑا۔ سیاست بری نہیں ہے برا ہمارا نام نہاد جمہوری نظام ہے۔ مگر اب ہم نے اس میں رہے کر ہی خدمت کرنی ہے۔ جب مقصد ایک ہی ہے تو پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم کہاں اور کیسے کھڑے ہیں۔ بس ہماری سیاست بھی خدمت ہے، اور خدمت تو ہماری خدمت ہے ہی۔ان شاءاللہ آنے والے دنوں میں ہمارے کام سے اندازہ ہوجائے گا ہم اب بھی عوام کی خدمت ہی کررہے ہیں۔ ہم نوجوانوں کے لیے کام کریںگے، ملک کے دفاع اور خارجہ پالیسی پر بہتر کام کریں گے۔

m asif
سوال: آپ کی جماعت نے کبھی خواتین کو جلسے جلوسوںمیںنہیں نکالا، الیکشن پر کیوں کھڑا کیا؟
محمد آصف :یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم نے شاید کبھی خواتین کو ویسے نہیں نکالا جیسے دیگر پارٹیوں نے نکالا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی خواتین کی عزت و تکریم کو گھروں میں محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر ایسا ہرگز نہیں کہ ہم نے خواتین کو بالکل ہی گھروں میں پابند کردیا ہو۔۔ ہماری جماعت میں خواتین کا ایک شعبہ ہے۔ خواتین دعوت وخدمت کے کام کرتی ہیں۔ خواتین کی سطح پر سب کچھ ہوتا ہے۔ تربیتی کیمپ لگتے ہیں، کورسز ہوتے ہیں، میڈیکل کیمپ لگتے ہیں۔ سیلاب اور زلزلہ متاثرین میں بھی خواتین نے بھرپور کام کیا۔ جہاں تک سیاست میں اور الیکشن میں حصہ لینے کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ خواتین کو اب نکالنا مجبوری ہے۔ گزشتہ روز کے جلسے میں ہماری خواتین موجود تھیں۔ اب آئیں گی اور حصہ لیں گی۔

سوال: ملی مسلم لیگ کا منشور کیا؟
محمد آصف: ملی مسلم لیگ کا منشور خدمت ہے، بلکہ خدمت پر ہم ہمیشہ کام کرتے آئے ہیں اور خدمت پر آئندہ بھی کام کریںگے۔ دوسرا ہمارے منشور میں نظریہ پاکستان شامل ہے۔ ہم چاہتے ہیںکہ ووٹ کو عزت دو مگر اس سے پہلے ووٹر کو عزت دو۔ ووٹر کو عزت دینے کا مطلب ہے کہ انہیں بہتر روزگار مہیا کیا جائے، سستی تعلیم اور صحت کے مواقع ہونے چاہئیں۔ انصاف کی بروقت فراہمی ہو۔ اگر ہم پاکستان کے نظریہ پر کاربند ہوجائیں تو یقین مانیے ہمارے بہت سارے مسائل خود با خود حل ہوجائیں گے۔ اس ملک کو پارٹیوں نے لسانیت، عصبیت، زبان، برادری ازم اور مسلک پربانٹ دیا ہے۔ ملک کے ٹکڑے کردیے ہیں۔ ہم نے یہ بات بھلا دی ہے کہ ہم مسلم ہیں اور ہم پاکستانی ہیں۔ پھر اس ملک کے خلاف کرنے کی مہم شروع کردی گئی۔ یہ ملک اور اس ملک کے ادارے مضبوط ہیں اور ہم مزید مضبوطی چاہتے ہیں اور اس نظریے کو لے کر ہم میدان سیاست میں اترے ہیں۔ یقینا ہماری کامیابی ہی یہی ہے کہ ہم نے نظریے پر ایک پارٹی بنا کر ملک میں اتاردی ہے۔

سوال: حلقہ پی ایس 111 پر آپ کے مدمقابل مضبوط امیدوار ہیں مقابلہ کیسے کریںگے؟
محمد آصف: پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا کسی سے مقابلہ ہے ہی نہیں۔ ہمار مقصد ہے حافظ محمد سعید کا پیغام پہنچانا تو وہ پہنچ رہا ہے۔ دنیا چاہتی تھی کہ ہم سیاست میں نہ آئیں اور ہم سیاست میں آگئے تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے۔ ہم الیکشن کا پہلا راﺅنڈ تو جیت گئے ہیں۔ دوسری فتح ہماری یہ ہے کہ ہم لوگوں تک اپنا پیغام پہنچائیں گے اور پہنچا بھی رہے ہیں۔ باقی پارٹیاں اپنی اپنی فتح کا اعلان 25جولائی کی رات کو کریں گے ہم تو 24جولائی کو اعلان کردیں گے کہ ہم جس مقصد کے لیے آئے تھے اس میں کامیاب ہوگئے۔

سوال: آپ کے سیاست میں آنے سے بھارت کو کیوں پریشانی ہے؟
محمد آصف: بھارت کو جماعة الدعوة، ملی مسلم لیگ، فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن الغرض ہماری ہر چیز سے پریشانی ہے۔ انہیں ہماری خدمت اچھی نہیں لگتی، ہمارا کوئی عمل بھی انہیں پسند نہیں ہے۔ یہاں ایک بات کہنا ضروری سمجھوں گا کہ بھارت جمہوریت کی بات کرتا ہے اگر ہم جمہوریت میں آرہے ہیں تو یقینا بھارت کو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ میںنے پہلے ہی کہا بھارت کو مسئلہ ہماری سیاست سے نہیں ہمارے منشور اور ہمارے نظریے سے ہے۔ مگر وہ بھول رہا ہے کہ نظریہ ہی ہماری بقا ہے اور اس سے علیحدہ تو ہم کبھی ہوہی نہیں سکتے تو بس یہ سمجھ لیجیے کہ بھارت کو مسئلہ ہوتا ہے ہوتا رہے ہم اپنا کام باخوبی جانتے ہیں اور کر رہے ہیں۔

سوال: کراچی اپ ڈیٹس کے قارئین کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
محمد آصف: کراچی اپڈیٹس بہت اچھا کام کررہی ہے۔ کراچی کے مسائل پر ویب سائٹ کا اقدام نمایاں رہا ہے۔ کراچی کے عوام سے میں یہ کہوں گا کہ کراچی میں لسانیت پر بھائی بھائی کو لڑوا دیا گیا، گھروں میں جدائیاں پیدا کردی گئیں تو خدارا ایسا مت کریں۔ یہ ملک اور یہ شہر ہمارا ہے۔ یہاں نفرت کی سیاست نہیں بلکہ محبت ، امن و امان کی سیاست کریں۔ ہم کسی کو لڑوانے نہیں بلکہ اتفاق و اتحاد چاہتے ہیں۔ آئیے ہمارا ساتھ دیں، ہمارے ہاتھوں کو مضبوط کریں اور 25جولائی کو کرسی کے نشان پر مہر لگا کر اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیں۔ یاد رکھیں! ہمارا منشور پورے پاکستان کا منشور ہے، ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ خدمت کی سیاست کرنے آئے ہیں اسی میں آپ بھی ساتھ دیں۔

One thought on “صادق اور امین قیادت، رہنما MML محمد آصف کا خصوصی انٹرویو”

  1. nimra rani says:

    or kitny interview kye hen… mujhy bhi sath mila lo mryam

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top