Wednesday, January 27, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

سی این جی اسٹیشن پھر بند، شہری مشکلات شکار

سی این جی پھر بند، سوئی سدرن گیس کمپنی نے بدھ کی صبح 8 بجے سے ہفتہ کی صبح 8 بجے تک کراچی سمیت...

گلشن اقبال، گاڑی پر فائرنگ سے میاں بیوی زخمی

 شہر میں امن وامان کی صورت حال خراب، گلشن اقبال موتی محل کے قریب شاپنگ مال کے سامنے گاڑی پر فائرنگ سے میاں بیوی...

پاکستان ریلوے کا آن لائن بکنگ کا نظام بیٹھ گیا

سسٹم کی خرابی یا پھر بکنگ کا رش، پاکستان ریلوے کی آن لائن بکنگ کا نظام بیٹھ گیا، شہریوں کو آن لائن بکنگ کرانے...

گورنرسندھ عمران اسماعیل سے حلیم عادل شیخ کی ملاقات

گورنرسندھ عمران اسماعیل سے پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ کی ملاقات، دونوں رہنمائوں میں ملاقات کے دوران صوبے کی سیاسی صورت...

سندھ میں، مدارس کے3لاکھ طلباء کے ریکارڈ کی چھان بین

sindh governmentکراچی: سندھ حکومت نے صوبے سے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مدارس کے تین لاکھ طلباء کے ریکارڈ کی چھان بین کیلئے احکامات جاری کر دیئے ہیں جس پر آئندہ چند ہفتوں میں عملدر آمد شروع کر دیا جائے گا۔ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء کے بارے میں بھی تحقیقات کی جائیگی اور دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے آئی جی سندھ نے حکومت سے روبوٹ اور جدید آلات طلب کرلیے ہیں تفصیلات کے مطابق سندھ کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سندھ بھر میں موجود دیو بند ی، بریلوی، اہلحدیث مسالک سے تقریباً 3 ہزار 270 رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس اور ان میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ سمیت تمام تقریباً تین لاکھ طلبہ کے ریکارڈ کی از سر نو تصدیق کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو وزیر تعلیم طلبہ کی سرگرمیوں اور ان کے ماضی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ غیر ملکی طلباء کے بارے میں تحقیقات کرنے کو کہا ہے کہ یہ طلبہ دستاویزات کے بغیر تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو انہیں اس کے ممالک واپس بھیجا جائے گا، جبکہ کابینہ نے فوجی عدالتوں کو 64 مقدمات بھیجنے کی بھی منظوری دیدی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی نے امن و امان کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے کے مقابلے میں مختلف جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ میں دیو بندی ، بریلوی اور اہلحدیث مسالک کے تقریباً2 ہزار 370 مدارس ہیں، جن میں سے ایک ہزار363رجسٹرڈ اور ایک ہزار7 غیر رجسٹرڈ مدارس ہیں، ان مدارس میں2 ہزار839 غیر ملکی طلبہ سمیت 2 لاکھ69 ہزار 667 طلبہ زیر تعلیم ہیں، کابینہ نے آئی جی سندھ پولیس کو ہدایت کی کہ ان تمام مدارس اور ان میں زیر تعلیم طلبہ کو پڑھائے جانے والے نصاب اور ان کی آمدن سمیت تمام مالی امور کی از سر نو تصدیق کی جائے۔ نئے مدارس کی تعمیر پر فی الحال مکمل پابندی رہے گی۔ اجلاس کو بتایا کہ لائوڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر 29 مقدمات درج کئے گئے ہیں، ان میں سے22 مقدمات کراچی میں درج کئے گئے، اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک182 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جنہوں نے اپنی رجسٹریشن نہیں کرائی تھی، علاوہ ازیں آئی جی سندھ نے کابینہ سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے پولیس کو جدید آلات خاص طور پر بی سیون بکتر بند گاڑیاں ، بلٹ پروف جیکٹس، جی ایس ایم لوکیٹر، ڈرون سرویلنس کیمرہ، اسکیننگ مشین، آپریشن میں استعمال ہونے والے خصوصی روبوٹ دئے جائیں۔ کابینہ نے آپریشن کو کی مد میں رقم اور آلات سے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat